نیٹو میں سوئیڈن کی شمولیت پر ترکیہ کا اعتراض برقرار

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –10 JULY      

واشنگٹن،10جولائی : امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے لتھوینیا کیدارالحکومت ویلنیئس جاتے ہوئے ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تاکہ ترکیہ کی جانب سیسوئیڈن کی نیٹو اتحاد میں شمولیت پر رضامندی کی راہ ہموار ہو سکے۔وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے لندن جاتے ہوئے ایئر فورس ون میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا “میں یہ نہیں بتا سکتا کہ (ایسا ہونا) کتنا قریب یا کتنا دورہے، میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سوئیڈن کو جلد از جلد نیٹو میں شامل کیا جانا چاہیے۔”وائس آف امریکہ کی پیٹسی وڈاکوسوارا کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے کے لیے کوئی راستہ ہونا چاہیے۔‘‘دوسری طرف ترکیہ نے صدر جو بائیڈن کی ٹیلی کال پر اپنے ردِ عمل میں کہا کہ سوئیڈن نے درست سمت میں کچھ اقدامات کیے ہیں لیکن اسٹاک ہوم کی نیٹو میں شمولیت کی درخواست کو تقویت دینے کے لیے خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی گئی۔ترکیہ نے سوئیڈن پر الزام لگایا ہے کہ وہ عسکریت پسند کرد تنظیموں کے ساتھ بہت نرمی برتتا ہے جنہیں ترکی دہشت گرد گروہ قرار دے چکا ہے۔گزشتہ ماہ سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں ایک شخص کی جانب سے مسجد کے باہر قرآن نذر آتش کرنیکے بعد ترکیہ کے مؤقف میں مزید سختی آئی ہے اور اس نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ترکیہ کے مطالبات کے بعد سوئیڈن نے انسدادِ دہشت گردی کے ایک نئے قانون سمیت اصلاحات کے نافذ کا اعلان کیا ہے۔اردغان نے ابتدائی طور پر فن لینڈ پر بھی اسی نوعیت کا الزام لگایاتھا لیکن اپریل میں نیٹو میں شامل ہونے کے لیے ہیلسنکی کی درخواست منظور کر لی گئی تھی۔وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کا کہنا تھا کہ بائیڈن اور ایردوان نے ایف سولہ طیاروں کی فروخت پر تبادل? خیال کیا ہے جو ایک ایسا موضوع ہے جو عوامی طور پر انکار کے باوجود انقرہ کے لیے اہم ہے۔انقرہ کے مطابق ایردوان نے کہا کہ سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت کے ساتھ جوڑنا غلط ہوگا۔ انہوں نیانقرہ کی لڑاکا طیاروں کی خریداری کی خواہش پر بائیڈن کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔امریکہ کی کانگریس میں دونوں جماعتوں کے قانون سازوں کے پاس ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دینے کا اختیار ہے۔ یہ قانون ساز زور دیتے آئے ہیں کہ اس سے پہلے کہ یہ معاہدہ آگے بڑھ سکے۔انقرہ کو سوئیڈن کی شمولیت پر اپنے اعتراضات کو ختم کر دینا چاہیے۔ہنگری نے بھی سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت کی مخالفت کی ہے لیکن اس نے کہا ہے کہ اگر ترکیہ رضامند ہو جاتا ہے تو وہ بھی اسے منظور کر لے گا۔