خصوصی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں سیلمان شہباز کو بری کردیا

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –10 JULY      

اسلام آباد ،10جولائی: اسپیشل کورٹ لاہور سینٹرل نے وزیر اعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے درج 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ مقدمے میں بری کر دیا۔اسپیشل کورٹ سینٹرل میں سلیمان شہباز سمیت دیگر ملزمان کی بریت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، سلیمان اپنے وکیل ایڈووکیٹ امجد پرویز کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، اسپیشل کورٹ سینٹرل کے جج بخت فخر بہزاد نے درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت ایف آئی اے نے عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 27 سوالات کے جوابات جمع کرا دیے۔جج بخت فخر بہزاد نے کہا کہ منی لانڈرنگ کی انکوائری کس نے کی تھی، ایف آئی اے وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی نے انکوائری کی تھی جس کی سربراہی ڈاکٹر رضوان نے کی تھی، جج نے ایف آئی اے سے سوال کیا کہ پوری تفتیش میں ایف آئی اے نے کسی ایک گواہ کا بیان لکھا ہے، ایف آئی اے کے تفتیشی افسر عدالت کے سوال پر خاموش ہو گئے۔جج نے استفسار کیا کہ جو لوگ انکوائری اور انویسٹی گیشن میں اپنا مؤقف تبدیل کرتے رہے ان کے خلاف کیا کارروائی کی، تفتیشی افسر علی مردان نے کہا کہ ہم نے کوئی کارروائی نہیں کی۔جج نے سوال کیا کہ ایف آئی اے کے سات والیم میں کوئی ثبوت ہے ؟ مجھے سیدھا سیدھا بتائیں، کہانیاں نہ ڈالیں، میں نے سب کچھ پڑھ لیا ہے، میں ایف آئی اے والوں سب کو ابھی جیل بھیج دوں گا یہ بات یاد رکھیں، مجھے جواب چاہیے کہ چالان کے ساتھ جرم کا کیا ثبوت تھا۔جج بخت فخر بہزاد نے کہا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے کدھر ہیں جس نے یہ سب کیا ہے، وکیل ایف آئی اے نے کہا کہ ہم نے لیٹر لکھا تھا وہ نہیں، جج نے کہا کہ اس ڈی جی کا نام کیا تھا، وکیل ایف آئی اے فاروق باجوہ نے بتایا کہ ان کا ثنااللہ عباسی تھے۔وکیل سلیمان شہباز نے کہا کہ سابقہ ڈی جی بشیر میمن کہتے تھے کہ ان پر بھی یہ کیس بنانے کا پریشر تھا، وکیل ایف آئی اے نے کہا کہ سلیمان شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیکوئی ڈائریکٹ شواہد موجود نہیں ہے، جج بخت فخر بہزاد نے کہا کہ کوئی ان ڈائریکٹ ہے تو وہ ہی بتا دیں۔تفتیشی افسر علی مردان نے کہا کہ شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں کاروائی شروع ہوئی تھی، جج بخت فخر بہزاد نے کہا کہ باقی شوگر ملز کے خلاف کیا کاروائی ہوئی، علی مردان نے کہا کہ اس کا مجھے علم نہیں میں اس کا تفتیشی نہیں رہا نہ ہی میں اسکا انکوائری افسر رہا ہوں۔جج نے سوال کیا کہ تفتیش میں ایف آئی اے نے سلیمان شہباز کے اکالوئٹ جی تفصیلات لی تھیں، علی مردان نے کہا کہ جی اکاؤنٹ تفصیلات لی تھیں لیکن ان کا اکاؤنٹ استعمال نہیں ہوا، جج بخت فخر بہزاد نے کہا کہ تو پھر آپ نے ان کے خلاف کیس کیوں بنایا جب انکا اکاؤنٹ ہی استعمال نہیں ہوا، علی مردان نے کہا کہ سلیمان شہباز کے اکاؤنٹس میں پیسے جمع ہوتے تھے اور کیش میں نکلتے تھے۔