TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –15 JULY
چندی گڑھ،15 جولائی :پنجاب میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث اب تک 22 ہزار افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔ حکومت اور انتظامیہ نے ان لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا ہے۔ حکومت کے مطابق اب تک 14 اضلاع کے 1179 گاؤں سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس وقت جن 14 اضلاع سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کر رہے ہیں ان میں پٹیالہ، جالندھر، کپورتھلہ، پٹھانکوٹ، ترن تارن، فیروز پور، فتح گڑھ صاحب، فرید کوٹ، ہوشیار پور، روپ نگر، موگا، لدھیانہ، موہالی اور سنگرور شامل ہیں۔ دوسری جانب وزیر اعلی بھگونت مان سمیت کئی وزراء نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔جہاں ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے وزیر برم شنکر زیمپا نے موہالی ضلع کے تقریباً ایک درجن سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، وہیں آبی وسائل کے وزیر گرمیت سنگھ میٹ ہیئر نے بھی ڈیراباسی علاقے میں سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ ریاستی حکومت کے ترجمان کے مطابق سیلاب سے متاثرہ 22764 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ کچھ علاقوں میں سیلاب کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد ریلیف کیمپوں کی تعداد 183 سے کم کر کے 161 کر دی گئی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ عوام کی صحت کے پیش نظر محکمہ صحت نے ریپڈ ریسپانس ٹیموں کی تعداد 315 سے بڑھا کر 409 کر دی ہے جبکہ میڈیکل کیمپوں کی تعداد بھی 186 سے بڑھا کر 252 کر دی گئی ہے۔ محکمہ حیوانات نے بتایا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کل 1730 جانوروں کا علاج کیا گیا ہے اور 7255 جانوروں کو ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ زیادہ تر اضلاع نے اپنے H.S. ویکسینیشن مہم مکمل کر لی گئی ہے۔ امدادی کاموں میں مصروف ٹیمیں ضرورت مند جانوروں کو علاج، خوراک کی فراہمی اور چارہ وغیرہ فراہم کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خوراک کے پیکٹ مسلسل تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ اب تک صرف پٹیالہ (37000) اور روپ نگر (18930) میں 57 ہزار سے زیادہ کھانے کے پیکٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔