TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –15 JULY
بہار کےوزیر خزانہ اور پارلیمانی امور وجے کمار چودھری نےریاست میں اساتذہ کی بھرتی کے نئے قوانین کی مخالفت کرنے کے حوالے سے بی جے پی پر شدید حملہ کیاہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے آنسو بہا رہے ہیں۔ مرکزی حکومت سرو شکشا ابھیان کے لیے رقم نہیں دے رہی ہے۔ رواں مالی سال میں 3 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا لیکن ایک روپیہ بھی نہیں ملا ہے۔ بہار میں اساتذہ کی بھرتی کے نئے قوانین کی مخالفت کرنے والے کنٹریکٹ اساتذہ کی حمایت میں خود کو ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بہار قانون ساز اسمبلی میں مانسون اجلاس کے آخری دن (جمعہ) کی کارروائی کے دوران وجے چودھری نے الزام لگایا تھا کہ بی جے پی کنٹریکٹ اساتذہ کے ساتھ ہونے کا ڈرامہ کررہی ہے۔ وجے چودھری نے ایوان کی کارروائی کے دوران معاملے کی تفصیلات کی جانکاری دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لوگ (بی جے پی) اساتذہ سے ہمدردی کا بہانہ بنا کر سڑک پر آئے ہیں، ان کے بارے کچھ بتانا ضروری ہے تاکہ ہمارے اساتذہ کو بھی اصل صورتحال کا پتہ چل سکے۔ ابھی جولائی کا مہینہ چل رہا ہے اور ہم نے اساتذہ کو جون تک کی تنخوا ہ دے دی ہے، لیکن اساتذہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے پیچھے کیا صورتحال ہے۔
اسمبلی کی کارروائی کے دوران وجے چودھری کا کہنا تھا کہ’’ سمگرشکشا ابھیان‘‘ کے تحت ہمارے 3 لاکھ اساتذہ کو مرکزی حکومت کی جانب سے 60 فیصد تنخواہ ملنی ہے، لیکن موجودہ حکومت میں بہار کو آج تک کبھی بھی وقت پر یہ رقم نہیں ملی ہے۔ آج جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں وہ کبھی بھی ریگولر ٹیچر نہیں تھے۔ ان لوگوں کو مختلف طریقوں سے کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا۔ ہماری حکومت نے سب سے پہلے ان لوگوں کو ریگولر ٹیچر بنایا اور ان کو فکسڈ پےاسکیل دیا اور عزت دی۔ مرکزی حکومت ان کے ساتھ کتنا امتیازی سلوک کرتی ہے ، یہ بھی انھیں جاننا چاہئے۔ وزیر موصوف نے دعویٰ کیا کہ کنٹریکٹ اساتذہ کے ساتھ اگر کوئی نا انصافی کرتا ہے تو مرکزی حکومت ہے اور اگر کوئی ان کی مدد کے لئے کوئی کام کرتا ہے تو وہ صرف ہم ہیں۔
وزیر موصوف کے ذریعہ ایوان میں دی گئی اطلاع کے مطابق فی الحال اساتذہ کو ماہانہ تقریباً 1260 کروڑ روپے بطور تنخواہ دینی ہوتی ہے۔ اس میں سے 570 کروڑ روپے ہر سال مرکز کو دینے ہیں، جو اٹل بہاری واجپائی کی حکومت کا کمٹمنٹ ہے۔ اٹل جی نے اپنی حکومت میں، انہوں نے جو انتظامات کیے، جو عمل طے کیا، جو رقم ملنی چاہیے تھی، وہ اب کبھی وقت پر نہیں ملتی ہے۔ پہلے اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں، پھر یو پی اے حکومت میں، مرکزی حکومت سرو شکشا ابھیان کے لیے تمام رقم ریاستوں کو دیتی تھی۔ ہم وہی پیسے اساتذہ کو دیتے تھے۔ جب سے یہ حکومت مرکز میں آئی ہے، اس کے بعدپہلے انہوں نے سرو شکشا ابھیان کا بجٹ 90 فیصد مرکزی حکومت اور 10 فیصد ریاستی حکومت کے تناسب سے ، 75 اور 25 کے تناسب سے اور اس کے بعد 60 اور 40 کے تناسب سے بنایا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ مرکزی حکومت سرو شکشا ابھیان کے بجٹ میں اپنے تناسب میں مسلسل کمی اور ریاست کے تناسب میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔
بہار کےوزیر خزانہ نے یاد دہانی کرائی کہ اٹل بہاری واجپئی اور یو پی اے حکومتوں میں حق تعلیم قانون کے تحت اساتذہ کی تعداد طلبہ کی تعداد کے تناسب میں طے ہوتی تھی ۔ اس کے تحت فی 40 طلبا پر ایک استاد ہوتے تھے۔ ان کی تنخواہ ماہانہ 22000 روپے مقرر تھی۔ اس رقم کو گھٹاتے گھٹاتے موجودہ مرکزی حکومت نے اب یہ طے کر دیا ہے کہ اب وہ جو رقم دے رہے ہیں، اس میں 50-50 ہو گیا ہے۔ مرکز ی حکومت اسے اگلے سال سے نافذ کر دے گی ۔ انہوں نے یہ ضابطہ بنایا ہے کہ مرکز سے انہیں جو بھی رقم ملتی ہے، اس میں ہر سال 5فیصد کی کٹوتی کی جائے گی۔ اساتذہ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ مرکزی حکومت نے ان کے لئے دئے جانے والےکنٹری بیوشن کے معاملے میںبے رحمانہ فیصلہ کر لیا ہے۔ حیران کن اور افسوسناک بات یہ ہے کہ نئے مالی سال میں اپریل سے جولائی کا مہینہ آچکا ہے، لیکن مرکز نے ابھی تک ایک روپیہ بھی نہیں دیا ہے۔ بہار کے اساتذہ کو ان کی تنخواہیں وقت پر ملتی رہیں ، اس کو یقینی بنانے لئے ریاستی حکومت نے سپلیمنٹری بجٹ میں 6,223 کروڑ روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کی (بی جے پی) نیت دیکھئے، نئے مالی سال کو 3 ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اساتذہ کی تنخواہ کے لیے مرکز سے ایک روپیہ بھی نہیں آیا ہے۔ یہی ان کی اساتذہ کے تئیںمحبت ہے۔ اساتذہ کو سڑک پر آگے کرکے مگرمچھ کے آنسو بہانے کا ڈرامہ کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اساتذہ کا نام لے کر سڑک پر بدامنی پیدا کر رہے ہیں۔
ایک طرف بہار کےوزیر خزانہ کا دعویٰ ہے، شکوے ، شکایتیں ہیں اور دوسری طرف کنٹریکٹ اساتذہ کی ہنگامہ آرائی ہے اور ان کے پیچھے سیاست کی کارفرمائی ہے۔ ایسے میں بہار کے عام عوام کو یہ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے۔مگر اس سلسلے میں سیاسی مبصرین کا بس یہی ماننا ہے کہ جیسے جیسے لوک سبھا، 2024 اور ودھان سبھا ، 2025 کا وقت قریب آتا جائے گا، سیاست آگے بڑھتی جا ئے گی اور سماج سے ہمدردی کا جذبہ کمزور ہوتا جائے گا۔جب انتخابات ہو چکے ہوں گے ، حکومت سازی ہو چکی ہوگی تب عوام ایک بار پھر خود کو ٹھگا ہوا محسوس کریں گے اور گنگا کا پانی بدستور بہتا رہے گا۔
*********************

