یہ سنچریاں اُس وقت خاص ہوتی ہیں جب ٹیم کی ضرورت کی تکمیل ہو : کوہلی

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –22 JULY      

نئی دہلی، 22جولائی: وراٹ کوہلی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں 121 رنز کی بے مثال اننگز کھیلی۔ بین الاقوامی کرکٹ میں یہ ان کی 76ویں سنچری ہے۔ سابق کپتان کوہلی نے 55 ماہ بعد غیر ملکی سرزمین پر ٹیسٹ میں سنچری بنائی۔کوہلی کی سنچری کی بنیاد پر ہندوستانی ٹیم دوسرے دن پہلی اننگز میں 438 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ آر اشون اور رویندر جڈیجہ نے بھی نصف سنچریاں بنا کر اسکور کو 400 سے آگے لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔دن کا کھیل ختم ہونے پر ویسٹ انڈیز نے پہلی اننگز میں ایک وکٹ پر 86 رنز بنا لیے ہیں۔ وہ اب بھی ہندوستانی ٹیم کے اسکور سے 352 رنز پیچھے ہیں۔ ٹیم انڈیا 2 میچوں کی سیریز میں 1-0 سے آگے چل رہی ہے۔ سیریز کے پہلے میچ میں ہندوستانی ٹیم نے اننگز سے کامیابی حاصل کی تھی۔دن کا کھیل ختم ہونے کے بعد وراٹ کوہلی نے میڈیا سے اپنی سنچری اور اننگز کے بارے میں بات کی۔ دسمبر 2018 کے بعد غیر ملکی سرزمین پر سنچری بنانے کے سوال پر انہوں نے جوابی انداز میں جواب دیا۔وراٹ کوہلی نے کہا کہ سچ پوچھیں تو یہ چیزیں باہر چلتی رہتی ہیں۔ میں نے گھر کے بعد ٹیسٹ میں 15 سنچریاں اسکور کی ہیں۔ یہ کوئی خراب ریکارڈ نہیں ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ کوہلی نے اب ٹیسٹ میں 29 سنچریاں اسکور کی ہیں۔ انہوں نے نصف سے زائد سنچریاں گھر کے باہر ہی لگائے ہیں۔وراٹ کوہلی نے کہا کہ یہ سنچری ان کے لیے خاص ہے، کیونکہ ٹیم کو ان سے ایسی اننگز کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں جو ریکارڈ بناتا ہوں وہ اسی وقت اہمیت رکھتا ہے جب وہ ٹیم کی ضرورت کو پورا کرتا ہو۔ 500 واں میچ میرے لیے خاص ہے، آخر کار میں یہاں تک پہنچ سکا۔ کوہلی نے کہا کہ چاہے وہ 50 ہو یا 100 یا 200، یہ میرے لیے تب ہی اہمیت رکھتا ہے جب یہ ٹیم کے لیے مفید ہو۔