دنیا میں 88کروڑ لوگ بھکمری کے شکار پاکستان میں 26فیصدی لوگوںکو بھوک سنگین مسائل کا سامنا

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –26 JULY      

اسلام آباد ،26جولائی:پاکستان کے بھکمری کے شکار ممالک کے فہرست میں 99پائیدان پر ہے جو سنگین سمجھا جاتا ہے۔ گلوبل ہنگر انڈیکس میں پاکستان 121ممالک میں 99نمبرپر ہے۔ حالانکہ اس فہرست میں پاکستان میں 38فیصدی لوگ 2006میں بھکمری کے شکار تھے۔ لیکن اب یہ کم ہوکر 26فیصدی پہنچ گیا ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے معاشی حالات ابتر رہے ہیں اور اس سے عام لوگوںکی زندگی پر بھی براثر پڑا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں سیلاب ،سیاسی بحران اور سیکورٹی حالات نے لوگوںکے زندگی پر اثر ڈالا ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں انہیں بھوک اور افلاک کا شکار ہونا پڑا ہے۔ عالمی ادارے نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور کوروناوائرس جیسے بیماری نے بھکمری میں اضافہ کیا ہے اور اس کے نتیجے میں لگ بھگ 82کروڑ لوگ بھوکے رہنے پر مجبورہوئے ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے 40ممالک بھوک کے مسئل کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں ان میں افریقہ اور جنوبی ایشیاء کے ممالک بھی شامل ہیں ان دوخطوں میں بھوک کی شرح سب سے زیادہ ہے اس کے علاوہ بچوں کو صحیح نشونما نہیں مہیا ہورہی ہے۔ ہندستان بھی بھکمری کا شکار ہے۔ اور صورتحال سنگین ہے۔ یہ عالمی ادارہ اس مسلئے کو حل کرنے کیلئے مختلف ممالک کو تعاون پیش کررہا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب کے ڈرایکٹر شفاعت علی نے کہا کہ خورک کی تقسیم کے نظام کے حوالے سے شہریوں کی سہولت اور نگرانی کے بارے میں روشنی ڈالی ۔ کمزور اور مفلس لوگوںکو خورک پہنچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے جب کہ کسانوں کو مقامی سطح پردھان کی پیداوار کو بڑھانے کے لئے تربیت دی جا رہی ہے۔ پچھلے سال پاکستان کے مختلف حصوں میں زبردست سیلاب آیا جس کی وجہ سے تین کروڑ لوگ بری طرح متاثر ہوئے۔ ہزاروں ایکٹر پر کھڑی فصلیں تباہ وبرباد ہوگئیں جس سے لوگوںکو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑا ۔ لیکن حکومت نے متاثرہ لوگوںکو غذائی اجناس پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جس کی وجہ سے اکثر لوگوںکو بھکمری کا شکار نہیں ہونا پڑا ۔