TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –26 JULY
شملہ، 26 جولائی:ہماچل پردیش میں مانسون کے موسم میں شدید بارش نے کئی اضلاع میں زندگی درہم برہم کر دی ہے۔ ریاست کے مختلف حصوں میں لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب اور بادل پھٹنے کے واقعات ہو رہے ہیں۔ شملہ کے ایک گاؤں میں بادل پھٹنے سے کافی نقصان ہوا ہے۔ پانی کے تیز کرنٹ سے کئی جانور بہہ گئے اور کئی مکانات کو نقصان پہنچا۔
منگل کو آدھی رات کو بادل پھٹنے کے بعد سیلاب نے شملہ ضلع کے رام پور سب ڈویژن کے سرپارہ پنچایت کے کندھار گاؤں میں تباہی مچا دی۔ سیلاب سے پانچ مکانات کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ پرائمری اسکول، مہیلا منڈل اور یووک منڈل کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ حالانکہ اس واقعہ میں جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ لوگ وقت پر گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔ گاؤں والوں کے کئی جانور سیلاب میں بہہ گئے۔ ساتھ ہی نصف درجن گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ سیلابی پانی کئی گھروں میں داخل ہوگیا۔پولیس سے موصولہ اطلاع کے مطابق سیلاب میں 20 کے قریب بھیڑ بکریاں اور سات گائیں بہہ گئیں۔ سریندر کمار، وجے نند، نریندر، موہن اور سنگت رام کے گھر سیلاب میں تباہ ہو گئے ہیں۔ رام پور کے ایس ڈی ایم نیرج تومر نے بتایا کہ نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ متاثرین کو مناسب امدادی رقم فراہم کر دی گئی ہے۔ بے گھر افراد کے قیام کا انتظام کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اس دوران ریاست میں آنے والے دنوں میں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے اگلے دو روز تک موسلادھار سے انتہائی موسلادھار بارش کا اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ اس دوران لوگوں اور سیاحوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ خراب موسم کے پیش نظر غیر ضروری سفر نہ کریں۔محکمہ موسمیات کے مرکز شملہ کے ڈائریکٹر سریندر پال نے کہا کہ کچھ مقامات پر 27 جولائی کو اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے اور 28 جولائی کو یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ، دریاؤں اور ندی نالوں کے پانی کی سطح میں اضافے اور اچانک سیلاب کا خدشہ ہے۔دارالحکومت شملہ اور آس پاس کے علاقوں میں منگل کی رات موسلا دھار بارش ہوئی۔ ریاست میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 600 سے زیادہ سڑکیں بند ہیں۔ اس کے علاوہ کئی مقامات پر ٹرانسفارمر اور پینے کے پانی کی ا سکیمیں ٹوٹنے سے بجلی اور پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ مانسون ریاست میں 24 جون کو آیا تھا اور اب تک مانسون کے موسم میں 606 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ 5363 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا، جبکہ 236 دکانیں، 1648 گائوں کے گھر اور 91 پل منہدم ہوئے۔ مان سون کے موسم میں بارش سے متعلقہ حادثات میں اب تک 164 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان میں سے 47 افراد لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق مانسون کے موسم میں مختلف سرکاری محکموں کو پانچ ہزار کروڑ سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔