TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –26 JULY
پٹنہ، 26 جولائی، 2023:- ’کارگل وجئے دیوس‘ کے موقعہ پر آج گاندھی میدان کے نزدیک منعقد سرکاری تقریب میں گورنر جناب راجندر وشوناتھ آرلیکر، وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ جناب تیجسوی پرساد یادو نے شہید کارگل یادگار مقام پر کارگل کے شہیدوں کو گلہائے عقیدت پیش کر کے خراج عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر بہار رجمنٹ سینٹر دانا پور کے مسلح سپاہیوں نے کارگل کے شہداء کو سلامی پیش کی اور محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ کے فنکاروں نے بہار کے گیت اور حب الوطنی کے گیتوں کے پروگرام پیش کئے۔
اس موقع پر رکن اسمبلی مسٹر انیرودھ پرساد اور دیگر عوامی نمائندے، پٹنہ ڈویژن کے کمشنر مسٹر کمار روی، وزیراعلی مسٹر گوپال سنگھ، پٹنہ ضلع کے ڈی ایم مسٹر چندر شیکھر سنگھ، ایس ایس پی پٹنہ ضلع مسٹر راجیو مشرا، میجر جنرل مسٹر وشال اگروال، ڈپٹی بریگیڈیئر جناب امت کمار شرما اور بڑی تعداد میں سماجی اور سیاسی کارکنان موجود تھے۔
پروگرام کے بعد وزیر اعلیٰ نے صحافیوں سے بات چیت کی۔ منی پور کا واقعہ کے تعلق سیصحافیوں کے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے، مرکزی حکومت کوتوجہ دینی چاہیے۔ خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔ اپوزیشن اس معاملے میں متحد ہے۔وزیراعظم کو اس کا جواب دینا چاہیے۔
اپوزیشن اتحاد کے حوالے سے صحافیوں کے سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم اسی میں لگے ہوئے تھے۔ پہلے پٹنہ میں اپوزیشن اتحاد کی میٹنگ ہوئی۔ جس میں کئی پارٹیوں کے لوگوں نے شرکت کی۔ اس میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت ہوئی جس میں 100 سے زائد صحافی موجود تھے۔ اس کے بعد بنگلور میں اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ ہوئی۔ اپوزیشن اتحاد کا نام رکھا گیا۔ میٹنگ میں کئی چیزیں طے ہوئی ہیں اور مستقبل میں بھی چیزیں طے ہوں گی۔ اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ آئندہ بھی ہوتی رہے گی۔ کون کہاں سے الیکشن لڑے گا، آئندہ کس قسم کے پروگرام ہوں گے، اس کے لیے جلد پالیسی بنے گی۔ہم لوگ متحد ہو کر ملک کے مفاد میں کام کریں گے۔ اپوزیشن کی میٹنگ کے بعد این ڈی اے کی میٹنگ ہوئی۔ وہ لوگ ملک کی تاریخ بدلنا چاہتے ہیں۔ ملک کی تاریخ بدلنے نہیں دی جائے گی۔ ہم لوگوں نے نئی نسل کو تاریخ سے روشناس کرانے کے لیے اپنی ریاست میں بہت سے کام کیے ہیں۔ اس سے پہلے ملک کی تاریخ بدلنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ یہ لوگ ملک کی تاریخ بدلنا چاہتے ہیں، اس لیے ہم نے ان سے علیحدگی اختیار کی۔ہم لوگوں نے بہار میں ترقی کے بہت سے کام کیے ہیں۔ ان کی پارٹی کے لوگوں کہتے ہیں کہ مرکز کی مدد سے ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔ ہم لوگوں نے اپنے وسائل سے ترقیاتی کام کیے ہیں اور کر رہے ہیں۔ مرکز نے یہاں کے بہت سے کاموں کو اپنایا ہے۔ ہمارا مقصد عوام کے مفاد میں کام کرنا ہے۔ ہم سب کے مفاد میں کام کرتے ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ آپس میں کوئی جھگڑا نہ ہو اورسماج میں اچھا ماحول ہو۔ ریاست میں کم بارش کی صورتحال پیدا ہوئی ہے، حکومت اس کے لیے سنجیدہ ہے۔ حکومت کسانوں کی مدد کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس کے لیے کابینہ سے منظوری بھی دی گئی ہے۔ اپوزیشن اتحاد سے بی جے پی گھبراگئی ہے۔ این ڈی اے کا نام توسابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی جی کے زمانے کا ہے۔ وہ لوگ این ڈی اے کا نام اب کیوں لے رہے ہیں۔ این ڈی اے کی میٹنگ ان کے دور میں پہلے کبھی نہیں ہوئی ۔ اب جواین ڈی اے کی میٹنگ ہوئی ہے وہ اپوزیشن پارٹیوں کے دباؤ میں ہوئی ہے۔ این ڈی اے کی میٹنگ میںجو لوگ شامل ہوئے ہیں، اس ن میں کئی پارٹیوں کے نام بھی لوگ نہیں جانتے ہیں۔
ریونیو واصلاحات اراضی محکمہ میں تبادلوں پر روک لگانے کے فیصلے کے حوالے سے نامہ نگاروں کے ذریعہ پوچھے گئے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ محکمہ ریونیو واصلاحات اراضی میں بہت لوگوں کے غیر ضروری تبادلے ہو گئے ہیں، اس لیے سب سے بات کرکے تبادلوں پر فی الحال روک لگا دی گئی ہے۔
صحافیوں کی جانب سے کابینہ میں توسیع کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار میں کابینہ کی توسیع وقت پر ہوگی، کابینہ کی توسیع میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔