پارلیمنٹ میں مہوا موئترا کا مودی حکومت پر شدید حملہ

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –10 AUG      

نئی دہلی ،10اگست: تحریک عدم اعتماد پر بحث کے دوران آج لوک سبھا میں ترنمول کانگریس لیڈر مہوا موئترا نے مرکز کی مودی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ تحریک عدم اعتماد پر بحث کا ا?ج تیسرا دن ہے اور جب مہوا موئترا کو بولنے کا موقع ملا تو انھوں نے مرکز پر سوالوں کی جھڑی لگا دی۔ انھوں نے سوال کیا کہ ا?خر کس ریاست میں 5 تھانوں سے 5 ہزار بندوقیں اور 6 لاکھ گولیاں لوٹی گئیں، قدرتی ا?فات کے علاوہ ا?خر کس ریاست کو اس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا؟ پھر مہوا نے یہ بھی سوال کیا کہ کس ریاست میں ایسا ہوا ہے کہ دو علاقوں کے درمیان بفر زون بنانا پڑا ہو؟ پہاڑ کے لوگ وادی اور وادی کے لوگ پہاڑوں پر نہیں جا سکتے ہوں۔ کس ریاست میں جنگل گھٹ گیا ہے؟ بعد ازاں مہوا خود کہتی ہیں کہ یہ سب منی پور میں ہوا ہے اور یہ ڈبل انجن کی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔مہوا موئترا نے سماج میں پھیل رہی مذہبی منافرت کے لیے بھی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ حالات ایسے بن چکے ہیں کہ سبزیاں ہندو ہو گئی ہیں اور بکرا مسلمان ہو گیا ہے۔ ایک طبقہ دوسرے طبقہ کے خلاف جرم کر رہا ہے اور متاثرین کو انصاف تک نہیں مل پا رہا ہے۔لوک سبھا میں مودی حکومت کو گھیرتے ہوئے مہوا نے تحریک عدم اعتماد پر زوردار بحث کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں پتہ ہے کہ ہمارے پاس اعداد و شمار نہیں ہیں۔ بی جے ڈی سمیت کئی پارٹیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ لیکن ہم اِنڈیا (اپوزیشن اتحاد) بن کر اس لیے نہیں ا?ئے ہیں کہ ہمیں حکومت کو گرانا ہے۔ بلکہ ہم تو اس لیے ا?ئے ہیں کیونکہ ہم کچھ نیا کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تحریک عدم اعتماد کچھ گرانے کے لیے نہیں، بلکہ کچھ اٹھانے کے لیے لائی گئی ہے۔ یہ تحریک اِنڈیا میں اعتماد کے لیے لائی گئی ہے۔‘‘مہوا نے منی پور معاملے پر مرکزی حکومت کی خاموشی پر بھی حملہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’منی پور واقعہ پر حکومت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اسے کاونٹر کرنے کے لیے زہریلے بیانات دیے جا رہے ہیں کہ راجستھان، بنگال اور چھتیس گڑھ میں عصمت دری کے معاملوں پر بحث کیوں نہیں ہوئی۔ میں بتا دینا چاہتی ہوں کہ ان ریاستوں کے معاملے مختلف ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں لگا کہ پی ایم یہ سب سننے کے لیے یہاں ائیں گے، لیکن نہیں۔ وہ اپ کی باتیں تھوڑی نہ سنیں گے۔ وہ تو بس اخری دن آئیں گے اور سب کی دھجیاں اڑا کر چلے جائیں گے۔