TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -11 AUG
آخر وہی ہوا ، جو پہلے سے ہی طےتھا ۔مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن اتحاد’’انڈیا‘‘ کی طرف سے لا ئی گئی تحریک عدم اعتماد جمعرات (10 اگست) کو لوک سبھا میں گر گئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر کے دوران واک آؤٹ کیا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ تقریباً دو گھنٹے تک بولنے کے بعد بھی پی ایم مودی نے منی پور کا ذکر نہیں کیا۔ حالانکہ پی ایم مودی نے تقریر کے آخری حصے میں منی پور پر تفصیلی بیان دیا۔ تحریک عدم اعتماد پر بحث کا جواب دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے طنزیہ انداز میں کہا، “ایوان کے لیڈر کی حیثیت سے، میں نے انہیں (اپوزیشن) 2018 میںٹاسک دیا تھا کہ 2023 میں تحریک عدم اعتماد لائیں۔ اب میںانھیں 2028 میں لانے کا کام دے رہا ہوں۔لیکن کم از کم تھوڑی سی تیاری کے ساتھ آئیں، تاکہ عوام کو لگے کہ وہ اپوزیشن کے لائق ہیں۔” قابل ذکر ہے کہ 2018 میں اپوزیشن کے ذریعہ لائی گئی تحریک عدم اعتماد پر بحث کا جواب دیتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا تھا ’’ اپوزیشن 2023 میں بھی تحریک عدم اعتماد لائے گی۔‘‘ اب پی ایم مودی نے ایک بار پھر 2024 کے انتخابات میں جیت کے تمام ریکارڈز توڑنے کا دعویٰ کرتے ہوئےکہا کہ اپوزیشن 2028 میں تحریک عدم اعتماد لائے گی۔
اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا گرنا پہلے سے طے تھا اور اس لئے تھا کیوں کہ کیونکہ بی جے پی کی زیرقیادت نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو لوک سبھا میں اکثریت حاصل ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں اب یہ کہہ رہی ہیں کہ پارلیمنٹ میں پی ایم مودی کا بیان سننے کے لئےمنی پور کے معاملے پر عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی تھی۔ اگر لوک سبھا میں مرکزی حکومت تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہار جا تی تو پی ایم سمیت پوری وزراء کونسل کو استعفیٰ دینا پڑ جاتا، لیکن موجودہ صورتحال میںایسا کبھی نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہوا۔بعض سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس بار کی عدم اعتماد کی تحریک کے گر جانے سے پی ایم نریند مودی کے کنفیڈنس لیول میں اضافہ ہوا ہے، جس کا اظہار بذات خود پی ایم نے نے کیا بھی۔انھوں نے اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک کو اپنی حکومت کے لئے نیک فال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ طے ہو گیا ہے کہ 2024 میں ہماری تاریخ ساز حکومت بننے جا رہی ہے۔
عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کے دوران اپوزیشن کا پلڑا بھاری رہا یا حکومت کا، اس پر میدانِ سیاست کےدگّج اپنے اپنے ڈھنگ سے تجزیہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔مگر ایک بات جو پوری طرح واضح تھی کہ بہت ساری باتوں کے دہراؤ کے باوجود پی ایم کی تقریر میں بھر پور اعتماد تھا۔انھوں نے مختلف ریاستوں کے حوالے اپوزیشن بالخصوص کانگریس کو حد درجہ کمزور ثابت کرنے کی پوری کوشش کی۔انھوں نے اپنی انتخابی تقریر والے انداز میں اشارہ کیا کہ نہ صرف 2024 کے لوک سبھا بلکہ اس سے قبل رواں سال 2023 کے آخر میں ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں بھی ان کا پلڑا بھاری رہے گا۔
واضح ہو کہ 2023 کے آخر میںمیزورم، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان اور تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کا بگل بجنے والا ہے۔ان ریاستوں کی اسمبلیوں کی مدت اس سال دسمبر میں اور اگلے سال جنوری میں ختم ہو جائے گی۔ ایک طرف میزورم کی 40 رکنی اسمبلی کی میعاد 17 دسمبر کو ختم ہونے والی ہے، وہیں چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش اسمبلیوں کی میعاد بالترتیب 3 جنوری اور 6 جنوری 2024 کو ختم ہوگی۔ راجستھان اور تلنگانہ اسمبلیوں کی میعاد بالترتیب 14 جنوری اور 16 جنوری 2024 کو ختم ہو جائے گی۔ فی الحال ان پانچ ریاستوں میں ایک ساتھ انتخابات کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ان طے شدہ انتخابات کے علاوہ مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں بھی اس سال اسمبلی انتخابات کے انعقاد کا امکان ہے۔جموں و کشمیر میں انتخابات 2023 کے موسم گرما میں ہو سکتے ہیں اور انتخابات کا وقت سیکورٹی کے منظرنامے پر منحصر ہوگا۔کچھ لوگوں کا کہنا ہےکہ امرناتھ یاترا کے اختتام کے بعد یعنی اکتوبر میںوہاں انتخابات ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آندھرا پردیش، اروناچل پردیش اور اڈیشہ کی اسمبلیوں کی مدت اگلے سال جون میں مختلف تاریخوں پر ختم ہو رہی ہے۔ چونکہ لوک سبھا کے انتخابات عام طور پر اپریل ومئی میں ہوتے ہیں، اس لیے امکان ہے کہ ان تینوں ریاستوں میں اسمبلی انتخابات پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ہی کرائے جائیں۔
گزشتہ10 اگست کو لوک سبھا میں پی ایم نریندر مودی کے ذریعہ کی گئی تقریر میں گرچہ صرف 2024 کے عام انتخابات کو رکارڈ ووٹوں سے جیتنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، لیکن تقریرکا لہجہ بتا رہا تھا کہ 2024 تک ہونے والے تمام اسمبلی انتخابات کے ساتھ ساتھ 2029 کے لوک سبھا انتخابات کو بھی جیتنے کے لئے انھوں نے کمر کس لی ہے۔ ان انتخابات کو جیتنے کے لئے فرٹ ٹائم ووٹرز تک پارٹی کی پہنچ بنانے کے لئے ’’مودی کیرتن اور راکھی باندھو‘‘ پروگرام پچھلے ماہ سےشروع کیا گیا ہے۔اس کام کی ذمہ داری ’’بی جے پی کی مہیلا مورچہ‘‘ نے سنبھالی ہے۔ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ نے ان انتخابات کو جیتنے کے لئے اس طرح کی کوئی حکمت عملی ابھی تک مرتب کی ہے ؟ اگر نہیں تو پھر کیا انتخابات میں ان کا وہی حشر نہیں ہوگا ،جو عدم اعتماد کی تحریک کے ساتھ ہوا ہے ؟
*************************

