کیا آواز میں آواز ملانے کا وقت ابھی نہیں آیا ہے ؟

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –12 AUG      

31 جولائی کوریاست ہریانہ کے نوح شہر اور اس کے مضافات میں ہوئے پرتشدد واقعات کے بعد سے ہی یہ سننے میں آرہا ہے کہ ہریانہ پولس کافی سرگرم ہے۔تشدد کے لئے ذمہ داروں کی شناخت کرکے ان کو گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔شروع میں تو مبینہ تشدد کے ملزمین کے گھروں اور دکانوں کو بلڈوز کرنے کی کارروائی کی جا رہی تھی، لیکن جیسے ہی یہ بات دنیا کے سامنے آئی کے چن چن کر صرف ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کو گرفتار اور گھروں دکانوں کو توڑا جا رہا ہے اور جو لوگ تشدد کے شکار ہوئے ہیں، انھیں کو ملزم ٹھہرایا جا ر ہاہے۔آج بھی یہ الزام قائم ہے اور اس لئے قائم ہے کیوں کہ بٹو بجرنگی اور مونو منیسر جیسے کئی شرپسند وں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے گھروں کو ٹچ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب یہ عالم ہے کہ پورے کثیر آباد مسلم علاقے میں خوف وہراس کی لہر پائی جارہی ہے۔ لوگ اپنے اوپر ہوئے ظلم اور زیادتی کی شکایتیں پولس تھانہ میں درج کرانے میں بھی خوف محسوس کررہے ہیں۔ ایک طرف شرپسندوں نے یہاں غریبوں پر ظلم ڈھایا اورمکانوں اور دکانوں سمیت ایک مسجد کوبھی نذرآتش کرتے ہوئے مسجد کے امام کو موت کے گھاٹ اُتار دیا وہیں شرپسندوں کی کھلے عام غندہ گردیوں کےبعد مقامی انتظامیہ نے  غریب مسلمانوں کی جھونپڑوں اور سڑک کنارے تعمیر سینکڑوں عمارتوں کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کردیا۔
  قابل ذکر ہے کہ تشدد سے متاثرہ علاقہ کے عوام کے دلوں میں بیٹھے ہوئے خوف کو دور کرنے ،ان میں اعتماد بحال کرنے کے ساتھ ساتھ تشدد کے واقعات کے اسباب معلوم کرنے، اس کے پیچھے چھپے سازشی ذہنوں کی تشخیص کرنے ، سچائی سے پردہ اُٹھانے اور شہری حقوق تحفظ کے لئے قائم ادارہ ’’ایسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس‘‘ (اے پی سی آر) نے کمیونٹی لیڈران، سماجی کارکنان، صحافی اور وُکلاء پر مشتمل ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل کی ہے۔کمیٹی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور مکمل تحقیق کے ساتھ متاثرہ لوگوں کے انٹرویوزاور شہادتیں جمع کرتے ہوئے 44 صفحات پر مشتمل ایک جامع رپورٹ تیار کی ہے اور اسے میڈیا کے لئے ریلیز کیا ہے ۔ رپورٹ میں نوح اور اس کے مضافات میں 31 جولائی کو ہوئے فساد کو نظامی تشدد قرار دیا گیا ہے اوراس میں پولیس کی ملی بھگت کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
’’اے پی سی آر‘‘ کےنیشنل سکریٹری ندیم خان اور ادارے سے وابستہ دوسرے متعدد اہم لوگوں نے گزشتہ جمعہ کونئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی تھی۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنی رپورٹ کے حوالے سے انھوں نے یہ واضح کیا تھاکہ نوح میں ہوئے فسادات بے ساختہ نہیں تھے بلکہ انھیں منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیا گیا تھا۔ مسلمانوں کو معاشی طور پرکمزور کرنے کے مقصد سے پہلے یہاں مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں پر دنگائیوں نے حملے کئے بعد میں مقامی انتظامیہ نے سڑک کنارے تعمیر کردہ مکانات، ہوٹل، پان کی دکانیں، گاڑیوں کی مرمت کرنے کے گیراج، ٹائر پنکچربنانے کے گیراج اور چھوٹے موٹے ٹھیلا پر لگائی جانی والی دکانوں وغیرہ کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کردیا۔
’’اے پی سی آر‘‘ کی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ اشتعال انگیز ویڈیو کلپس کو سوشیل میڈیا پر وائرل کرکے پہلےتشدد کے لئے عام لوگوں کو اُکسایا گیا ۔ جب منصوبے کےمطابق تشدد برپا ہوا تو مسلمانوں اور غریب لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ تشدد کے واقعات میں چھ لوگوں کی موت واقع ہوچکی ہے، پولس نے زیادہ تر غریب اور بے قصور لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ اس وجہ سے متاثرہ علاقہ کے غریب اور مظلوم لوگ بے حد پریشان ہیں۔پریس کانفرنس میں پولس پر زور دیا گیا کہ وہ مظلوم عوام کو انصاف دلانے کے لئے اُن کی شکایتوں کو درج کرے۔
فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق حالیہ تشدد کو بٹو بجرنگی اور مونو مانیسر جیسے شرپسندوں نے بھڑکایا ،جو آج بھی آزادانہ امن میں خلل ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن پولس کی گرفت سے دور ہیں۔ پرتشدد جھڑپوں کے لیے اکسانے والوں کو گرفتار کرنے کے بجائے علاقہ کے عام اور غریب لوگوں کو من مانے طو پر گرفتار کیا گیا ہے۔ تشدد میں شہید ہونے والے مسجد کے امام مولانا سعد کے بھائی شاداب انوار نے اپنے بھائی کی موت پر انصاف کا مطالبہ کیا ۔ڈاکٹر اوم پرکاش دھنکر، کوآرڈینیٹر، آل انڈیا کھاپ پنچایت کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعات حکومتی سازش کی عکاسی کرتے ہیں۔ شرپسندوں کے خلاف درج مقدمات میں سیاست کا کردار افسوسناک ہے۔ انصاف کے لیےہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند بھی پریس کانفرنس میں موجود تھے۔ان کا کہنا تھا کہ مین اسٹریم میڈیا کے ذریعہ صرف جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔ ایسے میں حقائق کی تلاش بہت ضروری ہے۔تشدد کی تیاریوں میں جب انتظامیہ شریک ہوجائے،تو پھر نوح جیسے واقعات کو بھلا کیسے روکا جا سکتا ہے ؟ سابق ممبر پارلیمنٹ( راجیہ سبھا)محمد ادیب نے عدالتوں میں نا انصافیوں کے لیے کھڑے ہونے کا وعدہ کیا۔یعنی ’’اے پی سی آر‘‘ کی پوری ٹیم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں ہونے والے  اس طرح کےواقعات کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کی آواز میں تمام امن پسند لوگوں کو آواز ملانے کا وقت ابھی نہیں آیا ہے ؟
***********************