TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –16AUG
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سال 2006 سے بنیادی صحت کی خدمات میں جامع بہتری پر زور دیا جا رہا ہے۔ پرائمری ہیلتھ سینٹروں کو مضبوط کر کے انہیں ہفتے کے ساتوں دن 24 گھنٹے فعال بنایا گیا۔ ڈاکٹروں کی حاضری، مریضوں کے لیے ایمبولینس کی سہولت، ہیلتھ سینٹرو میں مفت ادویات کی تقسیم کی سہولت وغیرہ کی شروعات کرائی گئی۔ تمام میڈیکل کالجوں اور ضلعی ہسپتالوں میں سہولیات کو مضبوط کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سات نشچے-2 کے تحت فروری 2021 سے گائوں کے 7,800 صحت ذیلی مراکز میں ٹیلی میڈیسن کا انتظام کیا گیا ہے، جس کے ذریعے میڈیکل کالجوں اور ضلع اور سب ڈویژنل ہسپتالوں کے سینئر ڈاکٹروں کے ذریعے لوگوں سے علاج کے لیے مشورہ کیا جا رہا ہے۔ اس سے معمر اور معذور افراد اور خواتین کو سہولت ہوئی ہے۔ اب تک 75 لاکھ سے زیادہ لوگ اس کا فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دل میں سوراخ کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کے مفت علاج کے لیے 1 اپریل 2021 سے ”بال ہردے یوجنا” نافذ کی گئی ہے۔ اس اسکیم میں پرشانتی فاؤنڈیشن کے تعاون سے گجرات کے احمد آباد کے ستیہ سائی اسپتال میں ایسے بچوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ریاستی حکومت کے ذریعہ ایسے بچوں کے علاج کے لیے بچوں اور سرپرستوں کے سفر اور قیام کا خرچ برداشت کرتی ہے۔اس کے تحت 6 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کے ساتھ ایک گارجین اور 6 سال سے کم عمر کے بچوں کے ساتھ ماں اور ایک اور سرپرست کے لیے فی کس 10,000 روپے کی شرح سے امداد فراہم کرنے کا انتظام ہے۔ احمد آباد کے ستیہ سائی اسپتال میں اب تک 703 بچوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ اب اس طرح کے علاج کے انتظامات اندرا گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں کیا گیا ہے، جہاں اب تک 161 بچوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ اندرا گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں اس کے علاج کے انتظامات کیے گئے ہیں جہاں اب تک 24 بچوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ اس طرح سے اب تک کل 888 بچوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں بڑے پیمانے پر میڈیکل کالج اوراسپتال قائم کیے گئے ہیں۔ پہلے 6 سرکاری میڈیکل کالج اور ہسپتال تھے۔ آج سرکاری شعبے میں 11 میڈیکل کالج اور اسپتال کام کر رہے ہیں اور 13 نئے میڈیکل کالج زیر تعمیر ہیں۔ 9 ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں صرف سہرسہ میں میڈیکل کالج نہیں ہے ، اس لیے سہرسہ میں بھی ایک میڈیکل کالج قائم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی میڈیکل کالجز کے قیام کی کوششیں جاری رہیں گی۔ ہم لوگوں کا نشانہ ہے ہر ضلع میں ایک میڈیکل کالج ہو۔ اس کے علاوہ پٹنہ میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال (پی ایم سی ایچ) 5462بیڈ کی گنجائش والے جدید عالمی معیار کے میڈیکل کالج اور ہسپتال کے طور پر بنایا جا رہا ہے ۔اندرا گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (آئی جی آئی ایم ایس)، پٹنہ کو 2500 بیڈ کے اسپتال کے طور پر، نالندہ میڈیکل کالج اور اسپتال (این ایم سی ایچ)، پٹنہ سٹی کو 2500 بیڈ کے اسپتال کے طور پر، شری کرشنا میڈیکل کالج اور اسپتال (ایس کے ایم سی ایچ)، مظفر پورکو 2500 بیڈ والے ہسپتال کی شکل میں اور انوگرہ نارائن مگدھ میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال (اے این ایم سی ایچ)، گیا 2500 بیڈ والے میڈیکل کالج و اسپتال کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ دربھنگہ میں واقع دربھنگہ میڈیکل کالج و اسپتال (ڈی ایم سی ایچ) جو کہ بہار کا دوسرا قدیم ترین اسپتال ہے، کو بھی توسیع دینے اور 2500 بیڈ کے اسپتال میں تیار کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ ہم لوگوں نے دربھنگہ میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے قیام کے لیے زمین نشانزد کرکے اس کی منظوری بھی دے دی تھی۔ یہ زمین ایکمی-شوبھن بائی پاس پر واقع ہے جوایسٹ ویسٹ کاریڈور سے تقریباً 4 کلومیٹر دور ہے۔ یہ جگہ سمستی پور-دربھنگہ روڈ اور مجوزہ اماس (گیا) -دربھنگہ ایکسپریس وے سے بھی منسلک ہے۔ ہم لوگ اسے 4 لین بنانا چاہتے ہیں، تاکہ اس جگہ کا رابطہ چاروں طرف سے بہت اچھا ہو۔ ہم مرکزی حکومت کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم ایک بار پھر مرکزی حکومت سے اس کے لیے درخواست کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نالندہ ضلع کے رہوئی میں پیٹھنا بھاگن بگہا میں گورنمنٹ ڈینٹل کالج کی شروعات12 دسمبر 2022 سے شروع ہوئی ہے۔ یہاں 100بیڈ پر مشتمل جنرل ہسپتال بھی بنایا جا رہا ہے جہاں دانتوں کے علاج کے علاوہ دیگر بیماریوں کے علاج کا بھی انتظام کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے۔ پٹنہ کے دیگھا سے دیدار گنج تک جے پی گنگا پتھ بنایا جا رہا ہے، جس کا کام 11 اکتوبر 2013 کو شروع ہوا تھا۔ 24 جون 2022 سے جے پی گنگا پتھ کے دیگھا سے پی ایم سی ایچ تک کا حصہ لوگوں کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ لوگ اس کو لے کر بہت پرجوش ہیں اور ہزاروں لوگ گنگا پتھ کو دیکھنے جاتے ہیں۔ کل ہی یعنی 14 اگست 2023 کو، اس کے آگے پی ایم سی ایچ سے مہاتما گاندھی سیتو(گائی گھاٹ) تک کا حصہ بھی چالو کر دیا گیا ہے۔مستقبل میں جے پی گنگا پتھ کو مشرق کی جانب بختیار پور-تاج پور پل اور مغرب کی طرف آرا-چھپرا پل سے بھی جوڑنے کا منصوبہ ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے اور خواتین کی ترقی کے لیے بہت سے کام کیے گئے ہیں۔ پنچایتی راج اداروں میں سال 2006 سے اور میونسپل اداروں میں سال 2007 سے خواتین کے لیے 50 فیصد ریزرویشن شروع کیا گیا تھا۔ ریزرویشن کے نفاذ کے بعد چار بار پنچایتوں اور میونسپل باڈیز کے انتخابات ہو چکے ہیں اور خواتین کی بڑی تعداد ان میں نمائندگی کر رہی ہے۔ سال 2013 میں پولیس میں خواتین کے لیے 35 فیصد ریزرویشن کا انتظام کیا گیا تھا۔ آج بہار پولیس میں خواتین کی کل تعداد 29 ہزار 175 ہے، اس طرح پورے ملک میں پولیس میں خواتین کی شراکت سب سے زیادہ ہے۔ سال 2016 سے تمام سرکاری ملازمتوں میں خواتین کو 35 فیصد ریزرویشن دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار میں پہلے بہت کم سیلف ہیلپ گروپس تھے۔ سال 2006 میں، ہم نے ورلڈ بینک سے قرض لے کر ریاست میں سیلف ہیلپ گروپس کی تشکیل کے لیے ایک پروجیکٹ شروع کیا، جسے ہم نے ”جیویکا” کا نام دیا اور اس میں شامل ہونے والی خواتین کو جیویکا دیدیاں کہا گیا۔جیویکا کے تحت 10 اب تک 47 ہزار سیلف ہیلپ گروپس بنائے جا چکے ہیں جن میں 1 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ خواتین شامل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمادھان یاترا کے دوران میں نے جیویکا دیدیوں کے ذریعہ سیلف ہیلپ گروپس کے ذریعہ کام کرتے دیکھا۔ اس وقت میں نے جیویکا دیدیوں کا کام بڑھانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ پائیدار روزگار اسکیم کے تحت انتہائی غریب خاندانوں کو 60 ہزار سے لے کر لاکھ روپے تک کی مالی امداد دی جا رہی ہے۔ اب تک کل 1 لاکھ 62 ہزار 125 لوگ اس اسکیم کا فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اس میں سے تاڑی کے کاروبار سے وابستہ خاندانوں کی تعداد 30 ہزار 657 اور شراب کے کاروبار سے وابستہ خاندانوں کی تعداد 12 ہزار 819 ہے۔ اب اس رقم کی زیادہ سے زیادہ حد 1 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے کر دی جائے گی۔ اس سے شراب بندی سے قبل تاڑی کے کاروبار سے وابستہ افراد کو بہت فائدہ ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایس سی ،ایس ٹی اور انتہائی پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلباء کے لیے سال 2018 سے سول ‘سروسز پروموشن اسکیم ‘چلائی جا رہی ہے۔ اس میں مین امتحان کی تیاری کے لیے بہار پبلک سروس کمیشن کے ابتدائی امتحان میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو 50 ہزار روپے کی مراعاتی رقم دی جا رہی ہے۔ اب تک درج فہرست ذات اور قبائل سے تعلق رکھنے والے 3,969 امیدواروں اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے 5,724 امیدواروں نے اس اسکیم کا فائدہ اٹھایا ہے۔ مین امتحان کی تیاری کے لیے یونین پبلک سروس کا ابتدائی امتحان پاس کرنے والے امیدواروں کو ایک لاکھ روپے کی مراعاتی رقم دی جا رہی ہے۔ اب تک درج فہرست ذاتوں اور قبائل سے تعلق رکھنے والے 143 امیدواروں اور انتہائی پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے 143 امیدواروں نے اس اسکیم کا فائدہ اٹھایا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ’ مکھیہ منتری گرام پریوہن یوجنا ‘سال 2018 میں شروع کی گئی تھی۔ اس سے قبل اس اسکیم میں ہر پنچایت کے لیے 5 گاڑیوں کی خریداری کے لیے 1 لاکھ روپے تک کی زیادہ سے زیادہ گرانٹ دی جارہی تھی، جس میں درج فہرست ذاتوں/ قبائل کے لیے 03 گاڑیاں اور انتہائی پسماندہ طبقے کے مستفید افراد کے لیے 02 گاڑیوں کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ سال 2020 سے اس اسکیم میں مستفید ہونے والوں کی تعداد بڑھا کر 7 کردی گئی ہے۔ ان 7 گاڑیوں میں سے 4 گاڑیاں درج فہرست ذاتوں/ قبائل اور 3 گاڑیاں انتہائی پسماندہ طبقے کے استفادہ کرنے والوں کے لیے ہیں۔ اب تک درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے 24 ہزار 821 اور انتہائی پسماندہ طبقات کے 18 ہزار 285نوجوانوں نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اقلیتی طبقے کی ترقی، مدارس میں تعلیمی اصلاحات اور بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر جیسے بجلی، پینے کے پانی،بیت الخلاء، اضافی کلاس رومز، لائبریری وغیرہ کی ترقی کے لیے مدرسہ کی مضبوطی کی اسکیم مالی سال 2018-19 سے نافذ ہے۔ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے منسلک مدارس کے اساتذہ اور دیگر اہلکاروں کی تنخواہ دیگر سرکاری اسکولوں کی سطح تک بڑھا دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سنی اور شیعہ وقف بورڈ کی اراضی پر کثیرالمقاصد عمارت، مسافر خانہ، شادی ہال، تجارتی عمارت، دکان، بازار کامپلکس تعمیر کیا جا رہا ہے۔ پٹنہ میں سنی وقف بورڈ کی زمین پر پرانے انجمن اسلامیہ ہال کو ایک عظیم الشان عمارت کے طور پر تزئین و آرائش کی گئی ہے۔ اسی طرح پٹنہ شہر میں شیعہ وقف بورڈ کی زمین پر بھی ایک عمارت تعمیر کی جارہی ہے۔ طلاق شدہ مسلم خواتین کے لیے ”مسلم طلاق امدادی اسکیم” سال 2007 سے نافذ ہے۔ اس اسکیم میں پہلے 10,000 روپے کی رقم دی جاتی تھی جسے دسمبر 2017 سے بڑھا کر 25,000 روپے کردیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 14 ہزار 967 خواتین کو امداد مل چکی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سات نشچے کے تحت ہر گھر تک نل کے کا پانی فراہم کرنے کا کام بڑی حد تک مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس کام کا تقریباً 50 فیصد (ارسینک سے متاثرہ علاقوں میں آئرن، آرسینک اور فلورائیڈ) پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ اور باقی کام پنچایتوں نے کیا ہے۔ اب پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کو بھی پنچایتوں اور میونسپل باڈیز کے ذریعے لاگو اسکیموں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ پنچایتوں اور ٹول وغیرہ کی باقی ماندہ اسکیموں میں باقی کام اور میونسپل باڈیز کا باقی کام بھی پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سات نشچے-2 کے تحت دیہی علاقوں میں سولر اسٹریٹ لائٹس لگانے کا کام تیز رفتاری سے جاری ہے۔ تمام پنچایتوں کے ہر وارڈ میں اوسطاً 10-10 سولر اسٹریٹ لائٹس لگائی جارہی ہیں۔ ہر وارڈ میں 10-10 سولر اسٹریٹ لائٹس کے علاوہ ہر پنچایت میں 10 اضافی سولر لائٹس کا انتظام کیا گیا ہے، جو اس پنچایت کے بڑے وارڈوں اور دیگر عوامی مقامات جیسے اسکول، صحت کے مراکز، پنچایت کی سرکاری عمارتوں وغیرہ کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ سولر اسٹریٹ لائٹس گاؤں کو رات بھر روشنی فراہم کریں گی۔ کئی وارڈوں میں سولر اسٹریٹ لائٹس کا کام مکمل ہو چکا ہے اور آئندہ سال کے آخر تک تمام وارڈز میں کام مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر کھیت کو آبپاشی کا پانی فراہم کرنے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایگریکلچر اور متعلقہ شعبوں کی ترقی کے لیے بہار حکومت کے ذریعہ ایگریکلچر روڈ میپ بنا کر کئی اہم پروگرام چلائے جار ہے ہیں ۔پہلا ایگریکلچر روڈ میپ روڈ میپ سال 2008 سے 2012 تک، دوسرا ایگریکلچر روڈ میپ سال 2012 سے 2017 تک اور تیسرا ایگریکلچر روڈ میپ سال 2017 سے 2023 (اپریل، 2022 سے مارچ، 2023 تک ایک سال کے لیے توسیع)تک نافذ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ایگریکلچر روڈ میپ کے نتیجے میں ریاست میں دھان، گیہوں اور مکئی کی پیداواری صلاحیت پہلے کے مقابلے تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دودھ، انڈے، گوشت اور مچھلی کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ مچھلی کی پیداوار میں ڈھائی گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے بہار مچھلی کی پیداوار میں تقریباً خود کفیل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اگلے 5 سال 2023-28 کے لیے چوتھا ایگریکلچر روڈ میپ شروع کیا گیا ہے، جس میں 12 محکموں کے لیے تقریباً 1 لاکھ 62 ہزار 268 کروڑ روپے کی اسکیموں پر مل کر کام کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوتھے ایگریکلچر روڈ میپ کے ذریعے دالوں اور تیل کے بیجوں کی فصلوں کی ترقی، موسم کے موافق زراعت اور فصل چکر میں تبدیلی، فصلوں کے تنوع، جوٹ کی فصل کی ترقی اور نئی تکنیکوں کے استعمال پر خصوصی زور دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے سرکاری ملازمتیں اور روزگار پیدا کرنے کے لیے تمام تر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ یوم آزادی (15 اگست 2022)کو بھی میں نے کہا تھا کہ نوجوانوں کے لیے آنے والے برسوں میں 10لاگہ سرکاری نوکر ی اور 10 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کر نے کے لیے پوری کو شش کی جائے گی ۔سرکاری نوکریوں میں نئی متعدد عہدوں پر تیزی سے بحالی کی جارہی ہے ۔ اس کے تحت گزشتہ دو برسوں میں 10 لاکھ 50ہزار 563 سرکاری نوکریاں دی گئی ہیں ۔ حال میں 3لاکھ 82ہزار 104 نئے عہدنے نکالے گئے ہیں ۔ حال میں 2لاکھ 86 ہزار 461 عہدوں پر تقرری کا عمل جاری ہے ،جنہیں بہت تیزی سے کیا جار ہا ہے ۔ ان سرکاری نوکریوں کے علاوہ 5لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو روزگار ملا ہے ۔ اس کام کو آگے بھی تیزی سے جاری رکھتے ہوئے سرکاری نوکوری اور روزگار نکالنے دونوں کے باقی نشانہ کو آئندہ سال تک مکمل کر لیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں شجر کاری اور گرین کوور کو فروغ دینے پر ہمارا شروع سے زور ہے اس کے لیے سال 2012میں ہریالی مشن کا قیام کر کے 24کروڑ شجر کاری کے نشانہ کے مقابلہ سال 2018-19تک 22 کروڑ پودے لگائے ٔگئے ۔ بعد میں شجر کاری کو جل ، جیون ، ہریالی مہم کا حصہ بنا یا گیا ۔ اب جل ،جیون ،ہریالی مہم کے شجر کاری کی جارہی ہے ۔ اس کے تحت ریاست میں گرین کور صرف 9فیصد رہ گیا تھا ، جو سال 2021 میں بڑھ کر 15فیصد سے زیادہ ہو گیا ہے ۔ اس کام کو تیزی سے کیا جار ہا ہے اور جلد ہی 17 فیصد نشانہ حاصل کر لیا جائے گا ۔ گنگا واٹر سپلائی اسکیم کے تحت دریائے گنگا سے 4 ماہ (جولائی سے اکتوبر) کے فاضل پانی کو پینے کے پانی کے لیے پائپ لائن کے ذریعے گیا، بودھ گیا، راجگیر اور نوادہ شہروں تک پہنچایا جانا ہے۔ گیا، بودھ گیا اور راجگیر شہروں میں پینے کے پانی کے لیے گنگا کے صاف پانی کی فراہمی نومبر 2022 سے شروع ہو گئی ہے۔ اس سال کے آخر تک نوادہ شہر کو پینے کے پانی کے لیے گنگا جل بھی دستیاب کرایا جائے گا۔ ان شہروں کے لیے 2051 تک کی تخمینی آبادی کے لیے پانی کی فراہمی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ پہلے اس اسکیم کی لاگت 4,175 کروڑ روپے تھی، لیکن نوادہ شہر کی واٹر سپلائی اسکیم کے نفاذ کے لیے 340 کروڑ روپے کی اضافی رقم منظور کی گئی ہے۔ اب اس اسکیم کی کل لاگت 4,515 کروڑ روپے ہے۔ گیاجی ڈیم پھلگوندی پر بنایا گیا ہے۔ گیا میں وشنوپد مندر کے قریب پھلگوندی میں سال بھر کم از کم 2 فٹ کی گہرائی میں پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی حکومت نے 334.38 کروڑ روپے کی لاگت سے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ربڑ ڈیم منصوبہ شروع کیا ہے۔ اسے گیاجی ڈیم کا نام دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صنعتوں کے فروغ کے لیے پالیسیوں اور انفراسٹرکچر کو بہتر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ایتھنول پالیسی نافذ کی گئی ہے، جس سے کافی فائدہ ہوا ہے۔ بہار ایتھنول کے مرکز کے طور پر ترقی کرے گا اور کسانوں سمیت ہر کسی کو ایتھنول پلانٹ میں زرعی مصنوعات کے وسیع استعمال سے فائدہ پہنچے گا، لیکن اب تک مرکزی حکومت نے صرف 17 تجاویز کو منظوری دی ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے بہار کو ایتھنول پروڈکشن کوٹہ کم مختص کرنے کی وجہ سے بہار کو نقصان ہو رہا ہے کیونکہ ایتھنول کی پیداوار کے لیے زیادہ سے زیادہ مکئی کی پیداوار بہار ہی میں ہوتی ہے۔ بہار میں دیگر ریاستوں کی ضرورت کے لیے ایتھنول پیدا کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی ادمی یوجنا کے تحت ریاست میں نوجوانوں اور خواتین کو روزگار فراہم کرنے اور ان میں کاروباری ترقی کی حوصلہ افزائی کے لئے وزیراعلی ادمی یوجنا شروع کی گئی تھی۔ چیف منسٹر شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب انٹرپرینیور اسکیم سال 2018 سے لاگو ہے۔ اس اسکیم میں سال 2020 سے انتہائی پسماندہ طبقات کو شامل کرکے چیف منسٹر ویری بیک ورڈ کلاس انٹرپرینیور اسکیم شروع کی گئی تھی۔ سال 2021 میں میں سال عزائم 2 کے تحت تمام طبقوں کی خواتین کے لیے وزیر اعلیٰ خواتین ادمی منصوبہ شروع کیا گیا ۔ ان تینوں منصوبوں میں ادمیوں کو 10 لاکھ روپے تک کی مدد دی د اتی ہے جس میں 5 لاکھ روپے کی گرانٹ اور 5 لاکھ روپے تک کا بلا سود قرض دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سال 2021 میں ہی سات نشچے2 کے تحت دیگر طبقات (جنرل اور پسماندہ طبقات) کے نوجوانوں کے لیے وزیر اعلیٰ یوا ادمی یوجنا شروع کی گئی تھی، جس میں 5 لاکھ روپے کی گرانٹ اور 5 لاکھ روپے کا قرض دیا گیا تھا۔ 5 لاکھ روپے 1 فیصد سود پر دیا جاتا ہے۔ ان تمام اسکیموں میں مجموعی طور پر 26,679 کاروباریوں کو 2 ہزار 102 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم دستیاب کرائی گئی ہے۔ صنعتوں کی ترقی کے لیے حکومت کی کوششوں سے ہزاروں لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع مل رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم لوگ چاہتے تھے کہ مرکزی حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کرائے۔ اس کے لیے مقننہ میں متفقہ طور پر ایک تجویز بھی منظور کی گئی تھی، لیکن مرکزی حکومت نے اسے قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد یہ فیصلہ قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل کی تمام جماعتوں کی رضامندی سے لیا گیا۔ ریاستی حکومت اپنے وسائل سے ذات کی بنیاد پر گنتی کرا رہی ہے۔ ذات پر مبنی گنتی نہ صرف ذاتوں کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی بلکہ ہر ایک کی معاشی حالت کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرے گی۔ اس کی بنیاد پر تمام طبقات کی ترقی اور بہتری کے لیے کام کیا جائے گا۔ ذات کی بنیاد پر گنتی کا کام تیزی سے جاری تھا لیکن معزز ہائی کورٹ نے اس پر عبوری روک لگا دی تھی۔ ایک بار پھر، 1 اگست، 2023 کو، عزت مآب ہائی کورٹ، پٹنہ نے ذات پر مبنی گنتی کو جائز قرار دیتے ہوئے پابندی ہٹا دی ہے۔ اس کے بعد گنتی کا کام جاری ہے۔اور اب جلد ہی یہ کام مکمل ہو جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ سماج میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضا برقرار رہے اور ماحولیات کا تحفظ کیا جائے۔ تمام چیلنجز کے باوجود ہماری ریاست ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ہمارا شاندار ماضی اور بھرپور ورثہ ہے۔ ہم اسی بلندی پر واپس جانا چاہتے ہیں۔ آئیے ہم سب یوم آزادی کے پرمسرت موقع پر عہد کریں کہ ہم قومی سطح پر بہار کو ایک خوش کن ریاست کے طور پر قائم کرنے میں تعاون کریں گے۔ اس موقع پر، میں ایک بار پھر بہار کے تمام لوگوں کو اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ جئے ہند جئے ہند جئے ہند۔
اس موقع پر سیاحت محکمہ ، خواتین و اطفال ڈیولپمنٹ کارپوریشن ، شراب بندی ، ایکسائز اور رجسٹری محکمہ ، ایگریکلچر محکمہ ، جیویکا ،صنعت محکمہ ، فن ،ثقافت اور یوتھ محکمہ ، بہار ایجوکیشن پروجیکٹ کائونسل ، مویشی و ماہی وسائل محکمہ ، شہری ترقیات ورہائش محکمہ ،ماحولیات ، جنگلات اور آب و ہواکی تبدیلی محکمہ ، اطلاعات و رابطہ عامہ محکمہ کے ذریعہ جھانکیاں نکالی گئیں ،اس میں ایگریکلچر محکمہ کو پہلا مقام حاصل ہوا ۔ فن و ثقافت و یوتھ محکمہ اور جیویکا کو مشترکہ طور پر دوسرا مقام حاصل ہوا ،جبکہ شہری ترقیات و رہائش محکمہ اور ماحولیات ،جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی محکمہ کو مشترکہ طور پرجھانکی میں تیسرا مقام حاصل ہوا ۔

