’ چندریان۔ 3 مشن‘ تاریخ رقم کرنےکے بالکل قریب

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -21 AUG      

بھارتی خلائی جہاز چندریان۔ 3   اب تاریخ رقم کرنے سے چند قدم دور ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چندریان۔ 3  چاند کے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ فی الحال چندریان کا وکرم لینڈر چاند کے گرد چکر لگا رہا ہے اور اس کی نت نئی تصاویر بھی لے رہا ہے۔بھارتی خلائی تحقیقی تنظیم  ( اسرو) نے لینڈر کے ذریعے لی گئی کئی نئی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔تازہ ترین اطلاع کے مطابق چندریان۔ 3 اب تیزی سے چاند کی سطح پر لینڈنگ کے قریب پہنچ رہا ہے۔ لینڈر وکرم کو چاند کے مدار میں رکھا گیا ہے، جہاں چاند کا قریب ترین نقطہ 25 کلومیٹر اور سب سے دور 134 کلومیٹر ہے۔ اسرو کا کہنا ہے کہ اس مدار سے وہ بدھ کو چاند کے نامعلوم جنوبی قطبی علاقے پرسافٹ لینڈنگ کی کوشش کرے گا۔ اسرو کے چیئرمین کے مطابق چندریان۔ 3 خلائی جہاز کی رفتار تقریباً 1.68 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے ۔ سافٹ لینڈنگ کے وقت اس رفتار کو مزید کم کیا جائے گا۔
  قابل ذکر ہے کہ آئی ایس ٹی او نے چندریان کے لینڈر وکرم کی لینڈنگ کی تاریخ کا پہلے ہی اعلان کر دیا ہے۔اعلان کے مطابق  چندریان۔   23 اگست (بروز بدھ) کو چاند کی سطح پر اترے گا۔ تاہم اب اسرو نے بھی لینڈنگ کے وقت کو اپ ڈیٹ کیاہے۔ خلائی تحقیقی تنظیم کے مطابق چندریان  23 اگست کو شام 6.4 بجے چاند کی سطح پر اترے گا۔ایسے میں ہر ایک بھارتی شہری چندریان۔ 3 کی کامیاب لینڈنگ کے لئے دعا کر رہا ہے۔ لوگ اس کی لائیو لینڈنگ دیکھنے کے لیے بھی بے تاب ہیں۔اس بیتابی کے مد نظر اسرو نے لینڈنگ کو لائیو دیکھنے کے لیے پلیٹ فارم بھی دستیاب کرادیاہے۔یہ پروگرام   23 اگست کو انڈین اسٹینڈر ٹائم کے مطابق شام 5.27 بجے سے متعدد پلیٹ فارمز بشمول  اسرو کی ویب سائٹ، اس کا یوٹیوب چینل، ایجنسی کا فیس بک پیج، اور ڈی ڈی نیشنل ٹی وی چینل پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔
دریں اثنا وطن عزیز بھارت کے تمام شہری بہت ہی پر جوش نظر آ رہے ہیں۔کچھ لوگ تو اتنے جوش میں ہیں کہ انٹرنیٹ پر سوال پوچھتے ہوئے پائے جارہے ہیں کہ آیا وہ چاند پر زمین لے سکتے ہیں  ؟  اس کا جواب انھیں نفی میں مل رہا ہے۔ بین الاقوامی معاہدے کے مطابق تمام خلائی مشن انسانیت کی بھلائی کےلئے ہوتے ہیں اور چاند پر زمین خریدنے پر پابندی ہے۔ خلائی معاہدے کے مطابق اگر کوئی بھی ملک اپنا خلائی جہاز چاند کی سطح پر اتارتا ہے اور اپنا قومی پرچم  لہراتا ہے تو اس سے وہ چاند کا مالک نہیں ہو سکتا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ چندریان۔ 3 کو لے جانے والے راکٹ میں ٹھوس اور مائع دونوں ایندھن کا استعمال کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ٹھوس ایندھن استعمال ہوتا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں مائع ایندھن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ آخری مرحلے کے لیے ایک کرائیوجینک انجن استعمال کیا جاتا ہے، جو زمینی ہائیڈروجن اور آکسیجن پر چلتا ہے۔ راکٹ کی ایندھن کی گنجائش 27 ہزار کلوگرام سے زیادہ ہے۔
  ظاہر ہےچندریان کے لینڈر ماڈیول کی کامیاب لینڈنگ کے بعدبھارت کا نام تاریخ میں درج ہو جائے گا۔ اس سے بہت سی نئی چیزیں دریافت ہو سکیں گی۔  جیسے چاند پر پلازما، سطح کی گرمی، پانی کی متوقع موجودگی،  زلزلے، چاند کی ڈائنیمکس کا مطالعہ اور اندرونِ خانہ سائنسی تجربات وغیرہ۔
  یہ بات پوری دنیا کو معلوم ہے کہ چندریان۔ 3 کو 14 جولائی، 2023 کو سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ کیا گیا تھا۔ اب تک صرف امریکہ، روس اور چین ہی چاند پر لینڈ کر سکے ہیں۔ لینڈر وکرم کے چاند کی سطح پر اترنے کے ساتھ ہی بھارت ایسا کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔ بھارت نے اس سے قبل بھی چندریان 2۔ مشن کے تحت چاند کی سطح پر اترنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن تکنیکی گڑ بڑی کے باعث وہ کریش کر گیا تھا، لیکن اس بار ہمارے لئے بڑے فخر کی بات ہے کہ یہ مشن پوری کامیابی کے ساتھ چاندکے باکل قریب پہنچ گیا ہے۔ یعنی چندریان۔3 چاندپرسافٹ لینڈنگ سے صرف چند گھنٹوں کی دوری پر ہے۔ روس کے لونا۔25 کے حالیہ حادثے نےہمارے سائنسدانوں کو محتاط کردیا ہے۔ایرو اسپیس سائنسدان رادھاکانت پادھی کے مطابق، چندریان-3 میں’’سیلویج موڈ‘‘ شامل ہے ،جو غیر متوقع صورت میںبھی چندریان۔3  کوچاندپرسافٹ لینڈنگ کو یقینی بناتے ہوئے بھارت کی خلائی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کرے گا۔
***************