TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -22 AUG
چکمگلورو،22/اگست:آئی این ڈی آئی اے میں شامل رہنے کی وجہ سے سیاسی دباؤ میں آکر تمل ناڈو کو اگر کاویری کاپانی چھوڑ دیاگیا توآنے والے دنوں میں ہماری ریاست کے کسانوں کو ہی نہیں بلکہ بنگلور کے عوا م کو پینے کے پانی کی قلت کاسامناکرناپڑسکتاہے۔یہ بات مرکزی وزیر مملکت برائے زراعت وکسان بہبود شوبھاکرندلاجے نے کہی۔ اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ رواں سال ریاست کرناٹک میں بارش کم ہوئی ہے،اکثر اضلاع میں قحط سالی پڑی ہوئی ہے،ریاست کی طرف سے اس معاملے میں تمل ناڈو کومنانا چاہئے تھا۔ان دنوں شہر بنگلورو کیلئے درکار پانی اصل مقدا ر میں فراہم نہیں ہوپارہاہے،تو دوسری طرف بجلی کی پیداوار میں بھی کمی آئی ہے،ان تمام وجوہات کی بناپر منڈیااور میسورو علاقے کے عوام کو پینے کے پانی کی قلت کا سامناکرناپڑرہاہے،اس کیلئے حکومت راست ذمہ دار ہے۔مرکزی وزیر شوبھاکرند لانے کہاکہ ریاستی حکومت عوام کے مفاد کے تعلق سے غور نہیں کررہی ہے۔حکومت کے اندرونی اختلافات اور الجھنوں کی وجہ سے ریاست کے عوام کے مفاد کو نقصان پہنچ رہاہے۔ریاست کے آبی ذخائر میں ہی پانی کم ہے،اس بات کو تمل ناڈو کے سامنے پیش کرناچاہئے اور انہیں منانے کاکام کرنا چاہئے۔انہوں نے مزید کہاکہ بجلی کی سربراہی میں بھی ریاستی حکومت پوری طرح ناکام ہوچکی ہے۔قحط سالی کا سامنا ریاست کیلئے کوئی نیا نہیں ہے،اس سے قبل بھی کئی مرتبہ ریاست میں سوکھا پڑاہے،اس سے نمٹنے کیلئے بی جے پی حکومت نے کئی اقدامات کئے تھے اور بی جے پی حکومت کے دوران بجلی کی قلت کے مسئلے پر قابوپانے کیلئے بھی کافی جدوجہد کی تھی اور عوام کو مسلسل بجلی فراہم کی گئی تھی۔اس وقت آج کی طرح بجلی حاصل کرنے کیلئے مختلف ذرائع بھی نہیں تھے،اس کے باوجود بجلی کے مسئلہ پر قابوپانے میں بی جے پی حکومت کامیاب رہی۔شوبھانے مزید کہاکہ ہندو مندروں او ر مٹھوں سے متعلق فائلیں حکومت کی سطح پر واپس لوٹادی جارہی ہیں،مندروں اور مٹھوں میں اچھاکام ہورہاہے،ان کی مدد کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،مگر اس حکومت میں یہ ممکن نہیں ہورہاہے۔

