صحافت کے راستے سے ملکی اقلیتوں کی فلاح وبہبودا ورقومی ترقی ممکن ہے: تنویر احمد انصاری

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -22 AUG      

پٹنہ22اگست(پریس ریلیز) :۔ سماج کی آواز سماج اور قوموں تک پہنچے ،اس خیال کوعملی جامہ پہنچانے کی نسبت سے اردو روز نامہ شائع کرنے کے بابت دانشوروں کی ایک اہم میٹنگ آئی ایم اے ہال پہلی منزل ساؤتھ گاندھی میدان پٹنہ میں منعقد ہوئی۔ اس مٹنگ کی صدارت بابائے قوم عبدالقیوم انصاری کے پوتے جناب تنویر احمد انصاری کی،جنہوںنے صحافت کے راستے سے ملکی اقلیتوں کی فلاح وبہبودا ورقومی ترقی کے منصوبہ پر روشنی ڈالی۔الہ آ باد اتر پردیش سے تشریف لائے انجینئر فریدالحق انصاری مہمان خصوصی رہے۔ دانشوروں کی اس میٹنگ میں شرکت کرنے والے شرکاء نے اپنے اپنے خیالات پیش کیے۔ مٹنگ کا آغاز غفران احمد کے ذریعے تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔مٹنگ میں شرکت کی مناسبت سے دہلی سے پہنچے اردو ہفت روزہ اخبار صدائے انصاری کے چیف ایڈیٹرانصاری اطہر حسین نے اپنے تجربات حاضرین سے سانجھا کیے۔انصاری اطہر حسین نے آج کے حالات اور وقت کے پیش نظراقلیتوں کی آواز بلند کرنے کی خاطر روز نامہ اردوزبان میں شائع کئے جانے پر زور دیا انہوں نے اس کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ پٹنہ بہار اور ملک کی راجدھانی دہلی سے اس کا آغاز کیا جا سکتا ہے،نیز ملک میں بڑھتے مظالم پر روک لگانے میں اخبار اہم رول ادا کرسکتا ہے، کیونکہ روزنامہ کے سہارے سے ایوان تک ہم اپنی آواز پہنچانے میں کامیاب ہوسکیں گے۔ جناب محمد علی آزاد انصاری نے اور بھی آگے بڑھ کر الگ الگ تجارت کے مواقع کے بارے میں اپنے تجربات کا خیال اظہار کیا۔انہوںنے کہا آج کے زمانے میں آن لائن مارکیٹنگ کمپنیوں کے سے سبق لیتے ہوئے خود کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں اس پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ میٹنگ میں شرکت کے لئے الہ آباد سے تشریف لائے ڈاکٹر ظفر رئیس انصاری نے الہ آباد سے بھی اردو روز نامہ شائع کرنے پر زور دیا۔ الہ آباد سے ہی تشریف فرما حکیم رشاد الاسلام نے بھی روز نامہ اردو شائع کئے جانے پر زور دیا تاکہ اردو کی خدمت اور بھی اچھے طریقے سے ہو سکے، اس کے علاوہ تجارت کے ذرائع اختیار کرنے پر بھی اظہار خیال کیا۔ویشالی سے تشریف لائے ڈاکٹر اے۔ ایم۔ اظہارالحق جوکہ سپریم کورٹ نئی دہلی سے وابستہ ہیںانہوںنے نوجوانوں کومختلف مواقع حاصل کرنے پر روشنی ڈالی۔مہمان خصوصی انجینئر فریدالحق انصاری نے روز نامہ کے علاوہ معیاری تعلیم ،اور تجارت کے مختلف مواقع حاصل کرنے پر روشنی ڈالی۔مہمانوں کااستقبال اور ضیافت میں نوجوان انجینئر فیصل، انجینئر لئیق الززمان پیش پیش رہے۔میزبان جناب نوشاد صاحب نے شرف میزبانی سے مرعوب کیا،اپنی جانب سے مہمان نوازی بہت ہی عمدہ طریقے سے انجام دی۔ میٹنگ کی نظامت نوشاد اعظم انصاری نے فرمائی۔تعارفی گفتگو کے بعدسبھی مہمانوں کا پرزور استقبال کیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ گذشتہ مٹنگ کے متعلق اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے اس مٹنگ کی توثیق کی روشنی میں بتاتے ہوئے کہ دیکھیں تومعلوم ہوتا ہے کہ اس جملہ منصوبہ بندی کے حقوق حاجی نظام الدین ناگپوری نے فراہم کرائے تھے،اورانہیں نے ہی نکات بھی قائم کیے تھے۔بالخصوص مالی فراہمی کے اوپر گہرائی سے غوروخوض۔بلا سودی کو آپریٹیو بینک کے قیام پر غوروخوض۔صدر کی اجازت سے دوسرے کسی اہم نکتہ پر غور وخوض کیا جانا شامل ہے۔امتیاز عالم انصاری میموریل تعلیمی وفلاحی ٹرسٹ امین کالونی عالم گنج پوسٹ گلزار باغ پٹنہ(بہار )محمد نوشاد اعظم اس وقت یہ ذمہ داری نبھارہے ہیں۔اس طرح انصاری میموریل تعلیمی وفلاحی ٹرسٹ کی دوسری مٹنگ ہونے کے بعد تیسری مٹنگ آئندہ دہلی میں منعقد ہونے کے امکان کی بات کرتے ہوئے اس مٹنگ کااختتام ہوا۔