مدرسہ بورڈ کے منفی شبیہ کو مثبت بنانے کی ذمہ داری سلیم پرویز کے کندھوں پر

بورڈ کی ترقی، معیاری تعلیم اور نظام میں شفافیت لانے کی وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ہوگا عمل؟

ایم – ایس – اختر
بہار قانون ساز کونسل کے سابق ڈپٹی چیئرمین سلیم پرویز کو بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین کی ذمہ داری سونپ دی گئی وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کسی عالم پر یقین کرنے کے بجائے مسلم سیاسی رہنما پر اعتماد ظاہر کیا اور سلیم پرویز کو نیا چیئرمین بنایا ہے، کہا جاتا ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی حکومت میں مسلمانوں کو یکساں ترقی کے مواقع حاصل ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ مسلمان کسی بھی معاملے میں پیچھے رہے ترقی کے ساتھ ساتھ ہمیشہ سے نتیش کمار یہ چاہتے رہے ہیں کہ فرقہ پرستی اور منافرت پھیلانے والوں کو سماج میں کوئی جگہ نہ ملے، اقلیتوں کے حصول تعلیم میں بہت اہم فیصلے وزیر اعلیٰ کے دور اقتدار میں لۓ گئے یہی وجہ ہے کہ سول سروسز میں مسلمانوں کی نمائندگی کو بڑھانے کے لئے مفت کوچنگ کے چلاۓ جا رہے ہیں مدارس اصلاحات میں انہوں نے تاریخی فیصلہ لیا ہے، مدارس میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات کو وزیر اعلیٰ سائیکل، اسٹائپن، مڈڈے میل، پوشاک منصوبہ کو نافذ کیا گیا ہے اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ حوصلہ افزائی منصوبہ کے تحت درجہ فوقانیہ (میٹرک) میں اول مقام حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو 10 ہزار روپۓ درجہ مولوی (انٹر) میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو 15 ہزار روپے دیۓ جاریے ہیں، نتیش کمار نے مدارس کے اساتذہ کو ساتواں پے کمیشن دیکر جو عزت بخشی اس سے ہر شخص واقف ہے، جب نتیش کمار کی حکومت بہار میں آئ اس کے بعد مدرسہ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری مستقل ہوتی رہی اور زیادہ تر مدارس کے اساتذہ کو ہی نتیش کمار نے چیئرمین کی ذمہ داری سونپی ہوسکتا ہے اس میں کسی طرح کی نیک نیتی یا کوئی مصلحت رہی ہوگی لیکن کئی چیئرمین پر بدعنوانی کا الزام لگتا رہا اور بعض تو اپنی میعاد مکمل کۓ بنا ہی چیئرمین کے عہدے سے برطرف کردیئے گئے، لیکن اس بار تقریباً ڈیڑھ سال بعد مدرسہ بورڈ کی نئ کمیٹی تشکیل دی گئی اور جے ڈی یو کے مسلم رہنما سلیم پرویز کے کندھے پر چیئرمین کی ذمہ داری دی گئی لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ سیاسی، سماجی زندگی میں لمبا بے داغ تجربات کے حامل، بہار قانون ساز کونسل کی کارروائی چلانے کا تجربہ رکھنے والے سلیم پرویز مدرسہ بورڈ کی زبوں حالی کو دور کریں گے؟
چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سلیم پرویز نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں وزیر اعلی بہار نتیش کمار کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور وزیر اعلی کے زیرو ٹولرینس کے مقصد کے تحت کام کرنے کی حتی المقدور کوشش کرونگا ۔ مدرسہ بورڈ کو ہر طرح کی سیاست و کرپشن سے پاک کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذہبی ہم آہنگی، تعلیم وتعلم کے ساتھ ملازمین کا پورا خیال رکھا جائے گا۔ قریب چار ہزار مدارس و بیس لاکھ سے زائد طالب علموں کے مستقبل کو تابناک بنانے کی سمت میں کام کروں گا اور بورڈ کی شناخت کو بین الاقوامی سطح پر قائم کروں گا، اس بات کو یقینی بنانے کے لئے میں مدارس کے اساتذہ، طلبہ و طالبات کی تنظیموں سے مشورہ کروں گا، وہ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے قوانین کے تحت اپنا کام کریں گے اور سرگرمیوں میں بہتری اور شفافیت لانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، بورڈ سے متعلق سبھی دفاتر میں ملازمین وقت پر اپنا کام پوری ایمانداری سے کریں گے، بورڈ کی میٹنگیں بھی وقت پر ہوں گی۔ جو فیصلے کیے گئے ہیں ان پر عمل کیا جائے گا اور بہتر ڈھنگ سے مدرسہ بورڈ چلے اس کا ہر حال میں خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم میں معیار اور بروقت امتحانات کا انعقاد ان کی اولین ترجیح میں شامل ہے ۔ مدارس میں اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم پر بھی زور دیا جائے گا، حال ہی میں وہ  دربھنگہ – مدھوبنی اور اپنے آبائی ضلع سارن کے کئی مدارس کا اچانک معائنہ کرنے پہونچ گئے جہاں انہوں نے مدارس کے اساتذہ اور ذمہ داران کے ساتھ کئی امور پر تبادلہ کرتے ہوئے کہا کہ درس و تدریس میں این سی آر ٹی کے نصاب پر زور دیا جائے اور مدارس کے اساتذہ کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اب کاغذ پر مدرسے نہیں چلیں گے، مسلمانوں بالخصوص مدارس کے اساتذہ اور طلباء و طالبات کی نو تقرر چیئرمین سلیم پرویز سے کافی امیدیں وابستہ ہیں انہوں نے کہا کہ مدارس کے جو دیرینہ مسائل ہیں اس کا حل جلد سے جلد نکلے گا، بروقت امتحانات ہوں گے اور تعلیمی معیار مزید بلند کرنے کی کوشش ہوگی تاکہ مدارس سے تعلیم یافتہ افراد آئی اے ایس، آئی پی ایس بن کر ملک و قوم کی خدمت کرسکے،