بی جے پی لداخی لوگوں کی زمین چھین کر اڈانی گروپ کو دینا چاہتی ہے۔ راہل گاندھی

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -25 AUG      

لداخ، 25 اگست : کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ راہل گاندھی نے لداخ کے اپنے دورے کے آخری مرحلے کے دوران کرگل میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی پر الزام عائد کہا کہ وہ لداخی لوگوں کی زمین چھین کر اڈانی گروپ کو دینا چاہتی ہے۔ گاندھی نے مزید یہ الزام عائد کیا کہ اسی وجہ سے وہ لداخ کے لوگوں کو مناسب نمائندگی نہیں دیتے ہیں کیونکہ اس کے بعد وہ مقامی لوگوں کی زمینیں نہیں لے پائیں گے۔ بی جے پی والے جانتے ہیں کہ اگر آپ کو نمائندگی دی گئی تو وہ آپ کی زمین نہیں چھین پائیں گے۔ یہ سب کچھ زمین کے لئے ہے، وہ آپ کی زمین چھین کر اڈانی کو دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی جگہ قائم کرسکیں لیکن ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔
کانگریس کے سابق صدر نے گزشتہ دنوں یہ دعویٰ کیا تھا کہ چین لداخ میں ہندوستانی علاقے پر قبضہ کر رہا ہے۔انہوں نے کہا تھا ’’لداخ ایک اسٹریٹجک مقام ہے اور ایک بات بالکل واضح ہے کہ چین نے ہندوستان کی زمین چھین لی ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ اپوزیشن میٹنگ میں وزیر اعظم نے کہا کہ لداخ کا ایک انچ بھی چین نے نہیں لیا‘‘۔
بھارت جوڑو یاترا کے دوران لداخ جانے کے اپنے منصوبوں اور کس طرح خراب موسم اور انتظامی وجوہات کی وجہ سے وہ نہیں آ سکے، اس کے بارے میں بتاتے ہوئے گاندھی نے کہا کہ کچھ مہینے پہلے ہم کنیا کماری سے کشمیر گئے۔ اسے ”بھارت جوڑو یاترا” کا نام دیا گیا۔ اس کا مقصد ملک میں بی جے پی-آر ایس ایس کی طرف سے پھیلائی گئی نفرت اور تشدد کے خلاف لوگوں کو کھڑا کرنا تھا۔ یاترا کے دوران راہل نے کہا تھا کہ وہ ’نفرت کے بازار میں محبت کے دْکان کھولنے نکلے ہیں۔
انہوں نے کہا ’’یاترا کے وقت میں سردیوں میں برفباری کی وجہ سے لداخ نہیں جا سکا۔ میرے دل میں لداخ میں یاترا کرنے کا ارادہ تھا اور میں نے اس بار اسے موٹر سائیکل پر آگے بڑھایا۔ بہار اور اتر پردیش کے مقامی لوگوں اور تارکین وطن کے ساتھ بات چیت کے اپنے تجربے کو مزید شیئر کرتے ہوئے راہل نے کہا کہ جب میں نے بہار اور یوپی سے یہاں آنے والے مزدوروں سے بات چیت کی اور ان سے پوچھا کہ وہ یہاں کیسا محسوس کرتے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ انہیں لداخ کے لوگوں سے مکمل تعاون ملتا ہے۔ جب بھی ضرورت پڑتی ہے، وہ اْن کی مدد کرتے ہیں۔ تو یہ آپ کے ڈی این اے میں ہے اور آپ کا وہی نظریہ ہے جو کانگریس پارٹی کا ہے‘‘۔
اس سے پہلے گاندھی نے لداخ کے اپنے ہفتہ بھر کے دورے کے آخری مرحلے میں جمعرات کی شام پدم سے کرگل جاتے ہوئے لوگوں کے ایک گروپ سے بات چیت کی۔ انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر لوگوں کے ساتھ بات چیت کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ انہوں نے لکھا ’لداخ کے بہت سے پیارے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع ملا، پدم سے کرگل جاتے ہوئے ان کے ساتھ محبتیں بانٹیں اور بدلے میں اسے بہت ساری چیزیں ملی۔ اس کے علاوہ کرگل کے نوجوانوں سے ملاقات کی اور ان سے بات چیت کی۔
راہل گاندھی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ کرگل جنگ سے جرات اور شہادت کی داستانیں بڑے فخر کے احساس کو جنم دیتی ہیں اور ہمیں ملک کے لیے قربانیاں دینے کی ترغیب دیتی ہیں۔ راہل گاندھی 17 اگست کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا اپنا دو روزہ دورہ شروع کرنے کے لیے لیہہ پہنچے اور بعد میں انہوں نے اپنا دورہ 25 اگست تک بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے پیر کو لہیہ کے مین بازار میں فوج کے سابق فوجیوں سے بات چیت کی۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے 20 اگست کو لداخ میں پینگونگ جھیل کے کنارے سے اپنے والد اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو ان کے 79 ویں یوم پیدائش پر خراج عقیدت بھی پیش کیا۔