روہت شرما کی کپتانی کا امتحان ٹرافی جیتنے پر موقوف ہے: سنیل گواسکر

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –29 AUG      

نئی دہلی ،29اگست: آنے والے 3 ماہ انڈین ٹیم کے لیے بہت اہم ثابت ہوں گے، جس میں کپتان روہت شرما کی قیادت کا اصل امتحان ہوگا۔ جب ٹیم نے روہت کی کپتانی میں سال 2022 میں ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلا تو اس کا سفر سیمی فائنل میں شکست کے ساتھ ختم ہوا۔ اب روہت کے لیے خود کو کپتان ثابت کرنے کے لیے آنے والے دونوں ایونٹ جیتنا بہت اہم ہوگا۔ ایسے میں سابق کپتان سنیل گواسکر نے ان کی کپتانی کو لے کر بڑا بیان دیا ہے۔ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والے سنیل گواسکر کے بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ آپ کی قیادت کا امتحان اس بنیاد پر ہو گا کہ آپ نے اب کتنی ٹرافیاں جیتی ہیں۔ اگر آئندہ دونوں ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ خود کو عظیم کپتانوں میں شمار کریں گے۔ٹیم انڈیا کے بارے میں سنیل گواسکر نے کہا کہ اس وقت ٹیم میں آل راؤنڈ کھلاڑیوں کی کمی ہے۔ گواسکر نے کہا کہ اگر آپ 1983، 1985 اور 2011 کی ٹیموں کو دیکھیں ،تو آل راؤنڈر کھلاڑیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اس میں ایسے بلے باز تھے جو 7 سے 8 اوورز بھی کروا سکتے تھے۔ 2011 کی ٹیم میں سچن تندولکر، وریندر سہواگ، یوراج سنگھ اور سریش ریناتھے جو بولنگ میں کارآمد ثابت ہوئے۔ یہ سب سے بڑی بات تھی۔ورلڈ کپ جیسے ایونٹ میں کسی بھی ٹیم کے لیے اچھے کھیل کے ساتھ قسمت کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس بارے میں سنیل گواسکر نے کہا کہ گزشتہ ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہمارا سیمی فائنل میچ 2 دن تک جاری رہا۔ پہلے دن ہی ختم ہو جاتا تو نتیجہ کچھ اور ہوتا۔ دن بدلنے کے ساتھ ساتھ حالات میں بھی تبدیلی آئی۔ میرے خیال میں ایسے بڑے ایونٹس میں قسمت بھی بہت اہم ہوتی ہے۔