دہلی ہائی کورٹ کا حکم: عمر عبداللہ اپنی سابقہ بیوی کو 1.5 لاکھ روپے ماہانہ گزارہ بھتہ دیں

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –31 AUG      

نئی دہلی، 31 اگست: دہلی ہائی کورٹ نے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی سابق اہلیہ پائل عبداللہ کو عبوری طور پر ہر ماہ 1.5 لاکھ روپے ادا کریں۔ جسٹس سبرامنیم پرساد کی بنچ نے عمر کو اپنے بیٹے کی تعلیم کے لیے ہر ماہ ساٹھ ہزار روپے ادا کرنے کی بھی ہدایت دی۔پائل عبداللہ نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ پائل نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ ٹرائل کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ عمر عبداللہ پائل عبداللہ کو ماہانہ 75 ہزار روپے اور بیٹے کی تعلیم کے لیے 25 ہزار روپے ادا کریں۔ پائل عبداللہ نے ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے عبوری مینٹیننس الاؤنس کے طور پر بہت کم رقم دینے کا حکم دیا تھا۔
سماعت کے دوران عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ پائل اور ان کے دو بیٹوں کی طرف سے مانگی گئی کفالت قابل قبول نہیں ہے۔ پائل عبداللہ کے وکیل نے عمر کی اس دلیل کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ پائل 2016 سے اکیلی رہ رہی ہے اور انہیں کوئی خرچہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ اس کے پاس اپنے بیٹوں کی فیس ادا کرنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔ عمر نے کہا تھا کہ پائل اپنی کفالت کر سکتی ہے کیونکہ ان کا اپنا کاروبار ہے اور دہلی میں گھر بھی ہے۔ بیٹے بھی اب بڑے ہو چکے ہیں اور کفالت نہیں مانگ سکتے۔