فارسی، عرابک اردو زبان وادب کے نامور شاعر و ادیب تبصرہ نگار حلیم صابر صاحب پر شاگرد استاد شاعر سید انظار البشر صاحب باتعاون ڈاکٹر سیدہ مہناز وارثی صاحبہ کے تحقیق کام کا آغاز: ایم اے فردین

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -04 SEPT     

خصوصی رپورٹ/شہنشاہ قلم ایوارڈی حلیم صابر صاحب کے خدمات کے نام ایک خوبصورت شام استقبالیہ و شالپوشی و گلپوشی اور دستاویزی کام انظار البشر بارکپوری صاحب نے کرنے کا آغاز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر مختار احمد فردین کا اظہار ، دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ
بزرگ استاد شاعر وادبی ایڈیشن کے انچارج ایڈیٹر اور کیی انجمنوں کے سرپرست اعلیٰ و رہبری کرنے والی شخصیت صاحب دیوان شاعر الحاج حلیم صابر صاحب جو کہ محتاج تعارف نہیں ہیں انکے بیشمار شاگردان اندرون ملک اور بیرون میں بڑی تعداد میں موجود ہیں
مغربی بنگال کی شعری و ادبی دنیا کو یہ فخر حاصل ہے کہ 1910 کے بعد صاحب دیوان شاعر حلیم صابر صاحب ہیں، اسکے بعد بہت لوگوں نے چراغ سے چراغ جلانے کی کوشش پیہم کی، مگر صابر صاحب کے اس ایک دیوان سے دو دیوان مرتب کیا جاسکتا تھا، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔۔۔۔بڑی خوشی کی بات ہے کہ
انمول رتن ایوارڈی سید انظار البشر بارکپوری صاحب قابلِ ستائش اور مبارکباد ہیں کہ جنہوں نے اپنے قابلِ احترام استاد شاعر حلیم صابر کی حیات ہی میں انکی مکمل حالات زندگی اور انکی دیرینہ ادبی خدمات پر کام کرنے کی تیاری میں مصروف ہوگیے ہیں آج سے سید انظار البشر صاحب اس تہنیتی تقریب کے بعد سے اور انظار البشر صاحب کی ٹیم ادبی خدمات کے لئے بہت سرگرم رہتے ہیں اور مجھے انکا جنون و انداز و اطوار بہت پسند ہے اسلیے ڈاکٹر سیدہ مہناز وارثی صاحبہ اور ڈاکٹر مظفر نازنین صاحبہ کے ساتھ دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں ان دو عظیم اردو زبان وادب کے قابلِ ذکر و فکر اور نظریے کے مالک شاعر حلیم صابر صاحب اور شاگرد شاعر سید انظار البشر صاحب کو۔۔۔۔۔۔۔۔
Congratulations ❤️
❤️ ماشاءاللہ دو قد آور شخصیت کے مالک گرچہ دونوں ہی استاد شاعر ہیں مگر قابلِ ستائش اور مبارکباد کے مستحق ہیں سید انظار البشر صاحب جو کہ استاد شاعر حلیم صابر صاحب کو اپنا استاد مانتے ہیں اور ان پر اہم ترین کام کرنے کی تیاری میں دنیائے ادب کےلیے ایک اہم ترین کتاب دستاویز کی شکل میں دنیا جہان کے ادیبوں شاعروں، ماہرین و دانشوران کے تاثرات عظیم شاعر شہنشاہ قلم ایوارڈ یافتہ حلیم صابر صاحب کے خدمات کو ترتیب دینے کی تیاری کا آغاز آج کی تہنیتی تقریب سے کیا جا چکا ہے
ایک بات بڑی اچھی ہے انظار البشر صاحب کی کہ وہ جسے چاہتے ہیں ٹوٹ کر چاہتے ہیں اسی طرح سے انکے ہمراہ ساتھ چلنے والی شخصیات یا انکی ٹیم کہہ لیں سبھی قابلِ صد احترام ہیں’بلخصوص ڈاکٹر سیدہ مہناز وارثی صاحبہ بڑی قد کی ذی وقار شخصیت کی ملکہ ہیں اور میں بھی ادھر کے کچھ ہی دنوں میں قدرداں بن گیا ہوں انکے خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، دوسری خاتون لیڈی ڈاکٹر ہیں ادب کی باغی سلیقے سے زبان وادب میں رس گھولتی ہیں’جنہیں ہم ڈاکٹر مظفر نازنین کہتے ہیں خوب ہیں اور خوب بولتی ہیں’بات پھولوں کی کرتیں ہیں اور آپ وفادار ڈاکٹر شوہر کی زباں بھی احترام و عقیدت سے ادا کرتی ہیں، اور یہ خوبیاں معنی بات ہے کہ پیرو مرشد۔۔۔میر کارواں کی محبتوں و عقیدتوں کی برکت ہے’اور پھر سید انظار البشر صاحب نے حلیم صابر صاحب کا انتخاب کیا ہے، ضرور آنیوالے دنوں میں یہ دستاویزی کام انظار البشر صاحب کر گذریں گے، میں ڈاکٹر مختار احمد فردین یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جنوں رکھتے ہیں محبت کی حد پرواز تک۔۔۔۔۔۔اور انکے جذبۂ عقیدت و احترام کو سلام کرتا ہے
ہمارے نزدیک قابلِ صد احترام ہیں ڈاکٹر سیدہ مہناز وارثی صاحبہ جنہوں نے تہنیتی تقریب رکھکر آغاز کر دی ہیں’ میری جانب سے بھی شہنشاہ قلم ایوارڈی حلیم صابر صاحب اردو ہندی فارسی عربک کے شاعر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ہمارے بہت خاص شخصیت کے مالک طنزومزاح کی دنیا میں مقام رکھتے ہیں اور شاعری کی دنیا میں وہ اردو زبان وادب کے انمول رتن ہیں انہیں دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ہمیں بڑی مسرت ہورہی ہے کیونکہ اس تہنیتی تقریب کا گواہ میں بھی، اس شعر کے ساتھ کہ سارے جہاں میں دھوم جہاں اردو زبان کی ہے وہیں سارے جہاں میں دھوم اب ہمارے استاد شاعر حلیم صابر صاحب کی ہوگی، اسطرح سے مغربی بنگال کی ادبی دنیا میں ایک سنہرے باب کا اضافہ ہو رہا ہے یا ہونے جارہا ہے۔۔۔۔۔رپورٹ