TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -09 SEPT
رباط،09ستمبر:مراکش میں آنے والے ہولناک زلزلے کے بعد نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جیو فزکس کے سربراہ ناصر جبور نے بتایا کہ “ایک صدی میں یہ پہلا موقع ہے کہ مرکز نے مراکش میں اس نوعیت کا شدید زلزلہ ریکارڈ کیا ہے۔سرکاری اندازے کے مطابق، مراکش میں ہفتے کی صبح آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں 632 افراد جاں بحق اور 153 زخمی ہو گئے۔
مراکش اور دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر نقصان اور خوف وہراس پھیل گیا۔رباط میں واقع نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک اینڈ ٹیکنیکل ریسرچ نے بتایا کہ زلزلے کی شدت ریختر اسکیل پر 7 ڈگری تک پہنچ گئی اور اس کا مرکز الحوز صوبے میں تھا۔ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ مملکت میں آنے والا یہ سب سے شدید زلزلہ تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کی صبح الحوز صوبے میں آنے والے زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کم طاقتور ہوں گے اور ہو سکتا ہے کہ رہائشی انہیں محسوس نہ کریں۔
زلزلے کا مرکز ایغیل کمیونٹی (مراکش شہر سے 80 کلومیٹر جنوب مغرب) میں واقع تھا، یہ 400 کلومیٹر تک مراکش کے کئی شہروں میں محسوس کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ “زلزلے کے مرکزی جھٹکے کے بعد سینکڑوں آفٹر شاکس آئے ہیں، جن میں سے سب سے زیادہ شدت 6 ڈگری کے قریب پہنچی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آفٹر شاکس عام طور پر مرکزی جھٹکے سے کم شدید ہوتے ہیں۔

