چلی میں فوجی بغاوت کے 50 سال: ’صدر آخری وقت تک سمجھتے رہے کہ جنرل ان کا آدمی ہے‘

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –13 SEPT     

چلی، 13 ستمبر:پچاس برس قبل 11 ستمبر 1973 کو چلی کی فوج صدارتی محل کا گھیراؤکر چکی تھی اور فوج کے سربراہ اسٹو پنوشے نے منتخب صدر سلواڈور آلندے کا تختہ الٹنے کا اعلان کر دیا تھا۔جنرل پنوشے اس کے بعد تقریباً 17 سال اقتدار پر قابض رہے۔ ان کے دور میں ہزاروں سیاسی مخالفین کو قتل کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی سیاسی مخالفین لاپتا کر دیے گئے۔ پیر کو چلی میں ان کی فوجی بغاوت کو 50 سال مکمل ہو رہے ہیں تاہم ا?ج بھی چلی میں کئی لوگ پنوشے کے دورِ اقتدار کو سیاہ دور تسلیم نہیں کرتے۔چلی میں منتخب حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی کامیابی کو اس لیے بھی لاطینی امریکہ کی تاریخ میں اہمیت حاصل رہی ہے کہ امریکہ پر اس میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔یہ الزام کتنا درست ہے؟ اور امریکہ کیوں چلی میں حکومت کی تبدیلی کا خواہش مند ہوسکتا تھا؟ ان سوالوں کا جواب جاننے کے لیے چلی میں جاری سیاسی خلفشار کی تاریخ پر ایک نظر ضروری ہے۔بحرِ اوقیانوس اور بحرِ الکاہل کے درمیان سمندری راستوں پر واقع ہونے کی وجہ سے چلی کو لاطینی امریکہ کا ایک اہم ملک تصور کیا جاتا ہے۔ ارجنٹینا، بولیویا اور پرو سے ملحق لاطینی امریکہ کے جنوب میں ایک لمبی پٹی پر واقع چلی میں تانبے کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ جنگِ عظیم دوم کے بعد چلی کے جغرافیے اور قدرتی وسائل کی وجہ سے امریکہ اس کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتا تھا۔ تاہم دونوں کے تعلقات میں 1960 کی دہائی کے دوران کشیدگی بڑھنا شروع ہوئی۔امریکہ کو چلی میں بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور خاص طور پر تانبے کی صنعت کو قومیانے کے زور پکڑتے مطالبے پر شدید تحفظات لاحق تھے۔ اسی لیے 1961 میں اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے جنوبی نصف کرے میں سوشلزم کے پھیلاوکو روکنے کے لیے ’الائنس ا?ف پروگریس‘ منصوبے پر دستخط کیے تھے۔اس منصوبے کے تحت لاطینی امریکی ممالک میں انفراسٹرکچر، تعلیم اور جمہوری طرزِ حکومت کی بہتری کے لیے امداد فراہم کی گئی۔ چلی اس کے تحت سب سے زیادہ امداد حاصل کرنے والے ممالک میں شامل تھا۔امریکی حکومت دو بنیادی اسباب سے چلی کی حکومت اور سیاسی جماعتوں کو براہِ راست اور خفیہ طور پر مدد فراہم کر رہی تھی۔سب سے پہلی وجہ تو یہ تھی کہ چلی میں حکومت تانبے کی کان کنی کی دو بڑی کمپنیوں اینا کونڈا اور کینیکوٹ کو قومیانے پر کام کر رہی تھی۔ ان دونوں کی ملکیت امریکہ میں قائم کارپوریٹس کے پاس تھی۔دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ اس دور میں امریکہ کو لاطینی امریکہ میں سوشلسٹ نظریات کے فروغ پر تشویش تھی اور عین اسی وقت چلی میں سوشلسٹ قوتیں مضبوط ہو رہی تھیں۔ ان سیاسی قوتوں کا راستہ روکنے کے لیے امریکہ نے چلی کی کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی سی) کو بھی براہِ راست مدد فراہم کی تھی۔ستمبر 1964 میں ہونے والے انتخابات میں پی ڈی سی کے امیدوار ایڈوارڈو فرائی نے تیسری بار بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ’فرنٹ فار پاپولر ایکشن‘ کے امیدوار سلواڈور ا?لندے کو شکست دی۔ستر کی دہائی میں مارکسسٹ لیڈر سلواڈور آلندے چلی میں ایک مقبول لیڈر کے طور پر ابھر رہے تھے۔امریکی محکمہ خارجہ کے آفس آف ہسٹورین کے مطابق انتخابی مہم کے لیے امریکہ نے فرائی کو مالی مدد فراہم کی تھی۔ حکومت میں انکے بعد ایڈوارڈو فرائی کی حکومت نے ہاؤسنگ، زراعت اور تعلیم کے شعبے میں اصلاحات متعارف کرائیں۔فرائی نے ایناکونڈا کے ساتھ تانبے کی کانوں سے متعلق ایک معاہدہ بھی کیا۔ تاہم اس معاہدے پر ان کے حامیوں نے بھی کڑی تنقید کی جس کی وجہ سے 1970 کے انتخابات میں نیشنلائزیشن انتخابی مہم کا سب سے اہم موضوع بن گیا۔اس وقت تک چلی میں نئی سیاسی صف بنی ہوچکی تھی۔ ‘ایف آر اے پی’ کی جگہ بائیں باوزو کا نیا اتحاد ‘پاپولر یونٹی’ بن چکا تھا۔ اس کے صدارتی امیدوار بدستور سلواڈور آلندے تھے جو چلی میں لیفٹ کے مقبول ترین لیڈر بن چکے تھے۔ ان کا مقابلہ ‘پی ڈی سی’ اور چلی کی ‘نیشنل پارٹی’ کے ساتھ تھا۔آفس آف ہسٹورین کے مطابق امریکہ الیکشن میں آلندے کا راستہ روکنا چاہتا تھا اور اس مقصد کے لیے اس نے خفیہ طور پر ان کے مخالفین کو مالی معاونت بھی فراہم کی۔ امریکی مدد کسی حد تک انتخابات پر اثرانداز ہوئی۔ تاہم ا?لندے پھر بھی ایک تہائی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ان کے مقابلے میں ‘پی ڈی سی’ سے تعلق رکھنے والے امیدوار اور سابق صدر خورخے الیساندرے کو حاصل ہونے والے ووٹ صرف ایک فی صد کم تھے۔ اس لیے صدر کے انتخاب کا معاملہ اب 24 اکتوبر 1970 کو چلی کی کانگریس میں ہونے والی رائے شماری سے ہونا طے پایا۔اس وقت تک امریکہ میں رچرڈ نکسن کی حکومت ا?چکی تھی اور وہ کسی صورت چلی میں بائیں بازو کی حکومت کا قیام روکنا چاہتے تھے۔ چلی کی حکومت اور امریکی کمپنیاں بھی ا?لندے کو صدر نہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔ اس لیے چلیئن کانگریس میں رائے شماری سے قبل ہی کسی بڑی سیاسی تبدیلی کی کوششیں شروع کر دی گئیں۔انتخابی نتائج کے بعد چلی کی فوج اقتدار سنبھالنے کے معاملے پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ جنرل روبرٹو ویاو? اور جنرل کامیلو ویلنزویلا اقتدار پر قبضے کے حامی تھے جب کہ جنرل رینے شنائڈر اور ان کے حامی فوجی افسران انتخابات پر اثرا انداز ہونے کی کسی کوشش کو خلافِ آئین سمجھتے تھے۔جنرل شنائڈر کے مو?قف کی وجہ سے ان کے مخالف دونوں جنرلوں نے انہیں اغوا کرنے کی کئی کوششیں کیں۔ تاہم انتخابات سے صرف دو روز قبل 22 اکتوبر کو ایسی ہی ایک کوشش میں جنرل شنائیڈر شدید زخمی ہوگئے اور کچھ روز بعد ان کی موت واقع ہوگئی۔