کینیڈا میں خالصتان کے حامیوں کے حوصلے پست ، احتجاج میں جمع ہوئے دو درجن افراد

TAASIR NEWS NETWORK  UPDATED BY- S M HASSAN -26 SEPT  

اوٹاوا ، 26 ستمبر: کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی طرف سے خالصتان کے حامیوں کے حوصلے بلند کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ خالصتان کے حامیوں کو کینیڈا میں ہی حمایت نہیں مل رہی ہے اور ان کے حوصلے پست ہو چکے ہیں۔ ہندوستانی سفارت خانوں پر احتجاج کا ان کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوا اور وہاں دو درجن لوگ بھی جمع نہ ہو سکے۔ خالصتان کے حامیوں کے احتجاج کے اعلان کے پیش نظر اوٹاوا ، ٹورنٹو اور وینکوور میں بھارتی ہائی کمیشن کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
خالصتان کے حامی علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ ننجر کے قتل کے بعد کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے نجار کے قتل پر بھارتی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا تھا۔ جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس سے خالصتان کے حامیوں کے حوصلے بلند ہوئے ، لیکن جیسے ہی وہ سڑکوں پر آئے، ان کے حوصلے بکھر گئے۔ دراصل خالصتان کے حامی گروپ سکھ فار جسٹس نے کینیڈا کے اوٹاوا ، ٹورنٹو اور وینکوور میں ہندوستانی سفارت خانوں میں مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ اس کے لیے ان سفارت خانوں کی سیکورٹی بھی بڑھا دی گئی۔ بھارتی سفارتخانوں کوبیریکیڈس سے گھیر دیا گیا تھا۔
سکھ فار جسٹس کے ڈائریکٹر جتندر سنگھ گریوال نے کینیڈا سے ہندوستانی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہروں کی بات کی تھی لیکن یہ مظاہرے بے سود ثابت ہوئے۔ کینیڈین سکھوں نے بھی مظاہروں میں شرکت نہیں کی۔ مجموعی طور پر دو درجن افراد کو بھی اکٹھا کرنا مشکل ہوگیا۔ ایسے میں مظاہرین سفارت خانوں تک بھی نہیں پہنچے۔ احتجاج کرنے والوں کے ہاتھوں میں کینیڈا کا جھنڈا بھی تھا۔ ان لوگوں نے پلے کارڈز پر کینیڈا کے وزیر اعظم کے لیے شکریہ کے پیغامات لکھے تھے۔ ان لوگوں نے بھارتی ترنگے کی توہین کی اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے لگائے۔ تعداد کی کمی کی وجہ سے مظاہرہ موثر نہیں رہا اور خالصتان کے حامی مایوس نظر آئے۔