TAASIR NEWS NETWORK UPDATED BY- S M HASSAN -26 SEPT
پٹنہ، 26 ستمبر: بہار میں ڈینگو کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسپتالوں کے ڈینگو وارڈ میں بیڈ کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ڈینگو کے متعدد مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں حالانکہ ڈینگو سے متاثرہ مریضوں کے اسپتال آنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ راجدھانی پٹنہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں صرف پٹنہ ضلع میں ڈینگو کے 16 مریض ملے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ضلع میں ڈینگو کے مریضوں کی تعداد 1395 ہو گئی ہے۔پٹنہ میں ڈینگو کے 186 نئے مریض پائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھاگلپور میں ڈینگو سے متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ بھاگلپور ضلع میں ڈینگو کے سب سے زیادہ 31 نئے مریض پائے گئے ہیں۔ مونگیر دوسرے نمبر پر ہے ، جہاں ڈینگو کے 23 نئے مریض پائے گئے ہیں۔ اس سال اب تک پوری ریاست میں ڈینگو کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 4643 ہو گئی ہے۔ اوسطاً ہر روز تقریباً 30 نئے مریض پائے جا رہے تھے۔ صرف ستمبر میں ڈینگو کے 4368 مریض پائے گئے۔ بھاگلپور ضلع میں پیر کے روز ڈینگو کے 31 نئے مریض پائے گئے۔
سول سرجن ڈاکٹر انجنا کماری کے مطابق بھاگلپور میں ڈینگو سے اب تک چار مریضوں کی موت ہو چکی ہے۔ مایا گنج اسپتال میں 25 مریض پائے گئے۔ پیر کے روز مایا گنج اسپتال میں 34 نئے مریضوں کو داخل کیا گیا تھا۔ ڈینگو کے 34 مریضوں کو صحت یاب ہونے کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا۔ ایک مریض بغیر بتائے چلا گیا۔ صدر اسپتال کے بلڈ بینک میں تحقیقات کے دوران 5 مریض پائے گئے۔ بھاگلپور میں اب تک ڈینگو کے مریضوں کی کل تعداد 653 تک پہنچ گئی ہے۔
مظفر پور میں ڈینگو سے دو اموات کے بعد محکمہ صحت نے الرٹ جاری کیا ہے۔ اسکولوں میں بچوں کوبیدار کرنے کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ سارن میں اب تک 163 مریضوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ گنگا کے کنارے واقع شہر بیگوسرائے میں اب تک 700 سے زیادہ معاملے ملے ہیں۔ اس کے علاوہ گنگا گنڈک کے کنارے واقع حاجی پور میں مریضوں کی تعداد 185 تک پہنچ گئی ہے۔ سیوان میں 96 اور اورنگ آباد میں 143 متاثرہ افراد پائے گئے ہیں۔ گوپال گنج ضلع میں مریضوں کی تعداد 38 تک پہنچ گئی ہے۔ نالندہ میں تین دنوں میں 19 نئے متاثرہ افراد پائے گئے ہیں۔آئی جی آئی ایم ایس کے اینڈو کرائنولوجی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر وید پرکاش نے کہا کہ ڈینگو وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس لیے اس میں اینٹی بائیوٹکس کام نہیں کرتیں۔ اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ اس کا علاج اینٹی وائرل ادویات سے علامات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ الٹی کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ اس لیے سادہ پانی کے ساتھ جوس ، ناریل کا پانی وغیرہ استعمال کریں۔ جیسے ہی ڈینگو کی کچھ علامات ظاہر ہوں، ا?پ کو فوراً ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے۔ نیز ڈینگو مچھر کی افزائش کو روکنے اور اس کے کاٹنے سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔

