TAASIR NEWS NETWORK UPDATED BY- S M HASSAN -27 SEPT
پیرس،27ستمبر: منگل کے روز اقوام متحدہ نے سیکولرازم کے نام پر فرانس اگلے سال منعقد ہونے والے اولمپک کھیلوں کے دوران فرانسیسی کھلاڑیوں کو حجاب پہننے سے روکنے کے جواب میں خواتین پرلباس کا ضابطہ اخلاق مسلط کرنے یا ان پر پابندی عاید کرنے کی اصولی مخالفت کی تجدید کی ہے۔ہائی کمشنربرائے انسانی حقوق کی ترجمان مارٹا ہرٹاڈو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ “عام طور پر انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کا خیال ہے کہ کسی کو بھی خواتین کو یہ حکم نہیں دینا چاہیے کہ انہیں کیا پہننا چاہیے یا کیا نہیں پہننا چاہیے۔”انہوں نے یہ بات فرانسیسی وزیر کھیل ایمیلی اوڈیا کاسٹیرا کے حالیہ بیانات کے جواب میں کہے۔وزیر نے اتوار کو فرانسیسی عوامی چینل “فرانس 3” پر وضاحت کی کہ حکومت “ایک سخت سیکولر نظام کے لیے پرعزم ہے، جس کا سختی سے کھیلوں کے میدان میں اطلاق ہوتا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی قسم کی تبلیغ پر پابندی لگا دی جائے۔ یہ عوامی خدمت کے لیے مکمل غیر جانبداری کا مطلب ہے۔ اس لیے جو لوگ ہمارے وفود کی نمائندگی کرتے ہیں ہماری فرانسیسی ٹیموں میں، حجاب نہیں پہن سکتے۔”ہرتاڈو نے یاد دلایا کہ خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے سے متعلق کنونشن تمام فریقوں کواس معاملے میں فرانس کو “کمتری یا برتری کے خیال کی بنیاد پر کسی بھی سماجی یا ثقافتی ماڈل میں ترمیم کرنے کے لیے ضروری تمام مناسب اقدامات کرنے کا پابند کرتا ہے۔یو این عہدیدار نے زور دیا کہ “یہ امتیازی طرز عمل نقصان دہ نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق مذاہب یا عقائد کے اظہار پر پابندیاں، جیسے کہ لباس کا انتخاب، صرف انتہائی مخصوص حالات میں قابل قبول ہے۔فرانسیسی وزیر نے تسلیم کیا کہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی “حجاب پہننے کو مذہبی عنصر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ثقافتی عنصرکے طور پر سمجھنے پر مبنی منطق کے طور پر دیکھتی ہے”۔

