وقت کے تقاضے کو سمجھنا سب کے لئے ضروری ہے

TAASIR NEWS NETWORK  UPDATED BY- S M HASSAN -01 OCT

لوک سبھا انتخابات 2024 کے لئے تشکیل اپوزیشن اتحاد’’ انڈیا‘‘ کا اونٹ کب کس کروٹ بیٹھے گا، اس کا ندازہ لگانا مشکل ہو رہا ہے۔ایسا اس لئے ہے کہ ایک طرف بہار سے ایک بار پھر دبی زبان میں یہ آواز اٹھنے لگی ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم کی کرسی پر نتیش کمار جیسے سیاسی و سماجی سوجھ بوجھ والے آدمی کو ہونا چاہئے تو دوسری طرف دہلی سے یہ کہا جا رہا ہے ہمیں عوام کو با اختیار بنانا ہے نہ کہ کسی شخص کو۔اس درمیان کانگریس کا موقف ہے کہ لوک سبھا انتخابات کے بعد اس مو ضوع پر گفتگو ہونی چاہئے۔
  بہار کے اقتدار سے وابستہ سیاسی جماعت جنتا دل (متحدہ) اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے چند رہنما بیان دے رہے ہیںکہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار میں وزیر اعظم کے امیدوار کی تمام خوبیاں موجود ہیں۔دونوں پارٹیاں انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس (I.N.D.I.A.) کی اتحادی ہیں۔اس طرح کا بیان کافی دنوں کے بعد تب آیا ہے جب گزشتہ جمعرات کی شام وزیر اعلیٰ نتیش کمار عرس کے موقع پر درگاہ حضرت مخدوم سید شاہ پیر محمد مجیب اللہ قادری رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ پر حاضری دینے گئے تھے۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو وزیر اعظم بنانے کا مطالبہ جنتا دل (متحدہ)کی طرف سے بہت پہلے سے کیا جاتا رہا ہے۔گرچہ نتیش کمار بار بار یہ کہہ چکے ہیں ’’میں وزیر اعظم کے عہدے کا دعویدار نہیں ہوں۔‘‘، لیکن جب سے جد یو اور آر جے ڈی کا دوبارہ ساتھ ہوا ہے تب سے آرجے ڈی کی جانب سے جدیو کے اس مطالبے کی حمایت کی جاتی رہی ہے۔لمبی خاموشی کے بعد آر جے ڈی کے سینئر رکن اور پٹنہ ضلع کے منیرحلقہ سے ایم ایل اے بھائی ویریندر کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کماراس عہدے کے لیے سب سے زیادہ اہل امیدوار ہیں۔ پچھلےجمعہ کو ایک موقع سے بھائی وریندر نے کہا تھا کہ میں چاہوں گا کہ نتیش کمار ملک کے وزیر اعظم کے امیدوار بنیں۔
بھائی ویریندر کے مطابق ملک بھر کی سیاسی جماعتیں لالو پرساد، تیجسوی یادو اور نتیش کمار کی قیادت میں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو گئی ہیں۔ بی جے پی کو ملک سے اکھاڑ پھینکنے کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ ’’انڈیا‘‘تحاد میں اتفاق رائے ہو یا نہ ہو، نتیش کمار کو وزیر اعظم کا امیدوار بنایا جائے تو اچھا ہو گا۔دوسری جانب ’’انڈیا‘‘ اتحاد کی جانب سے وزیر اعظم کے امیدوار کے سلسلے میں جاری بحث پر کانگریس  کےجنرل سکریٹری طارق انور کا کہنا ہے کہ خود نتیش کمار نے کئی مواقع پر واضح کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کے خواہش مند نہیں ہیں۔’’انڈیا‘‘ اتحاد نے یہ طے کیا ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کا فیصلہ انتخابات کے بعد کیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ نتیش کمار نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم خیال اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اس سال اپریل میں پہلی بار کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کے سابق سربراہ راہل گاندھی سے 10 راجا جی مارگ پر ملاقات کی تھی۔ نتیش کمار اپنی مسلسل کوشش سے کانگریس، سماج وادی پارٹی، ترنمول کانگریس اورعام آدمی پارٹی جیسی کئی جماعتوں کو ’’انڈیا‘‘ بلاک میں لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ نتیش کمار بذات خود گئے اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سے ملاقات کی۔انھیں کی پہل پر 16 ہم خیال جماعتوں کی پہلی میٹنگ بھی 23 جون کو بہار کے دارلحکومت پٹنہ میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد 17 اور 18 جولائی کو بنگلورو، کرناٹک میں ہوئی دوسری میٹنگ میں پارٹیوں کی تعداد بڑھ کر 26 ہو گئی اور اسی میٹنگ میں اپوزیشن گروپ کا نام ’’انڈیا‘‘ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ 31 اگست اور 1 ستمبر کو ممبئی، مہاراشٹر میں تیسری میٹنگ کے دوران ’’انڈیا‘‘ اتحادنے اپنے کام کی نگرانی کے لیے ایک رابطہ کمیٹی اور کئی ذیلی کمیٹیاں تشکیل د ی تھیں۔ساتھ ہی با وقار اور سب کے لئے قابل قبول طریقے سے سیٹ شیئرنگ کے مسئلے کو حل کرنے پر اتفاق رائےکے لئے کام کو آگے بڑھانے کی بات طے ہوئ تھی، لیکن کام آگے بڑھنے سے پہلے ہی ’’انڈیا‘‘ کی گاڑی پنجاب میں پھنستی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
واضح ہو کہ پنجاب پولیس نے 2015 کے آئی جی ایس کیس میں کانگریس ایم ایل اے سکھ پال سنگھ کھیرا کو پچھلے دنوں گرفتار کیا توپنجاب کی عام آدمی پارٹی حکومت اور کانگریس کے درمیان ٹکراؤ کی خبریں سامنے آنے لگی ہیں۔ حالانکہ اس معاملے پر دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی انڈیا الائنس کے ساتھ رہنے کے لیے پرعزم ہے۔ دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اروند کیجریوال سے کانگریس ایم ایل اے کی گرفتاری کے بارے میں پوچھا گیا  انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ پنجاب پولیس نے گزشتہ روز کانگریس کے کچھ رہنما کو گرفتار کیا ہے۔ میرے پاس یہ معلومات نہیں ہیں۔ اس بارے میں پنجاب پولیس ہی بتا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پنجاب میں منشیات کے خلاف جنگ چھیڑی ہے۔ میں کسی انفرادی معاملے یا شخص پر تبصرہ نہیں کرنا چاہوں گا۔ لیکن ہم منشیات کی لت کو ختم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔
درحقیقت، پنجاب میں کانگریس ایم ایل اے کی گرفتاری کے بعد یہ چرچے گرم ہو گئے ہیں کہ اس سے عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے درمیان دراڑ پیدا ہو سکتی ہے۔کیجریوال نے سیٹ شیئرنگ فارمولے پر بھی بات کی اور کہا ’’سیٹ شیئرنگ فارمولہ ابھی تک انڈیا الائنس نے تیار نہیں کیا ہے۔ کچھ وقت دیں۔ جلد ہی تیار ہو جائے گا۔‘‘مانا جا رہا ہے کہ سیٹوں کی تقسیم راجستھان، مدھیہ پردیش اور تلنگانہ سمیت پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے بعد ہی ہو گی۔ ان انتخابات میں جس پارٹی کو برتری ملے گی اسے زیادہ سیٹیں دی جا سکتی ہیں۔ تاہم اس درمیان بہار سے اٹھی آواز سے ’’انڈیا‘‘ اتحاد کی انتخابی حکمت عملی میںتھوڑی ہلچل پیدا کر دی ہے۔اس سیاسی ہلچل کو  مزید آگے بڑھنے سے روکنا وقت کا تقاضہ ہے۔وقت کے تقاضے کو سمجھنا سب کے لئے ضروری ہے۔
********************