TAASIR NEWS NETWORK UPDATED BY- S M HASSAN -02 OCT
کل گاندھی جینتی کے موقع پر یعنی 2 اکتوبر کو حکومت بہارنے ذات پر مبنی سروے کے اعداد و شمار جاری کر دئے ، جس میں بہار کی کل آبادی 13 کروڑ 7 لاکھ 25 ہزار 310 بتائی گئی ہے۔سروے رپورٹ میں بہار کل آبادی کو ، مذاہب کے ماننے والوں کے تناسب کے اعتبار سے بھی سامنے لایا گیا ہے۔اس کے مطابق بہار میں سب سے زیادہ تعدا ہندو مذہب ماننے والوں کی ہے۔یعنی بہار میں 10,71,92,958 لوگوں نے خود کو ہندو بتایا ہے۔ یعنی بہار کی کل آبادی کا 81.9 فیصد ہندو مذہب ماننے والوں کی ہے۔رپورٹ کے مطابق ریاست میں ہندوؤں کے بعد سب سے بڑی اکثریت مسلمانوںکی ہے۔مسلمانوں کی مشترکہ آبادی سب سے زیادہ 17.7088 فیصد ہے۔ یعنی ریاست میں 2,31,49,925 لوگوں نے خود کو مسلمان بتایا ہے۔ اس کے بعد عیسائی 0.05 فیصد، بودھ 0.08 فیصد، جین 0.009 فیصد ہیں۔جبکہ 2146 لوگوں نے کہا ہے کہ وہ کسی مذہب کو نہیں مانتے ہیں۔
ریاست کی مجموعی آبادی کے تناسب کو رپورٹ میں زمرہ وار بھی الگ الگ درج کیاگیاہے، جس کے مطابق انتہائی پسماندہ طبقہ کی آبادی کا تناسب 36.01 فیصد، پسماندہ طبقہ کی آبادی 27.12 فیصد، شیڈول کاسٹ کی آبادی 19.6518 فیصد، شیڈول ٹرائب کی آبادی 1.6824 فیصد اور اونچی ذات کی آبادی 15.5224 فیصدہے۔تعداد کے اعتبار سے بتایا گیا ہے کہ انتہائی پسماندہ طبقے کی آبادی: 4 کروڑ 70 لاکھ، 80 ہزار 514 ، پسماندہ طبقے کی آبادی: 3 کروڑ 54 لاکھ 63 ہزار 936، درج فہرست ذات کی آبادی: 2کروڑ 56 لاکھ 89 ہزار 820، شیڈول ٹرائب کی آبادی: 21 لاکھ 99 ہزار361 ہے۔ اس بعد باقی تعداد جنرل زمرہ کے تحت آنے والے لوگوں کی ہے۔ رپورٹ میں، ہندو مذہب ماننے والوں کی برادریوں کا تناسب بھی پیش کیا گیا ہے، جس کے مطابق یادو- 14. 2666 فیصد، کرمی- 2.8785 فیصد، کشواہا- 4.2120 فیصد، برہمن- 3.6575 فیصد، بھومیہار- 2.8683 فیصد، راجپوت- 3.4505 فیصد، مُسہر-3.0872 376 ، ملاّح- 2.6086 فیصد , بنیا۔ 2. 3155 فیصد کائستھ۔ 0.60 فیصدہیں۔اس رپورٹ کو جلد از جلد جاری کرنے کے لیے حکومت پر بہت دباؤ تھا۔
اس رپورٹ کے جاری ہونے کے بعد سے ہی ریاست کی بر سر اقتدار سیاسی جماعتوں بالخصوص جدیو اور آر جے ڈی دونوں خیموں میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔مرکزی وزیر گریراج سنگھ کی باتوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو، بی جے پی بھی ذات کی بنیاد پر کی گئی اس رپورٹ کی حمایت کی بات کرکے او بی سی کو زیادہ سے زیادہ اہمیت دینے والی پارٹی ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ یہ واضح ہو کہ 2024 کے عام انتخابات سے پہلے جاری اس رپورٹ کی بدولت او بی سی سیاست مرکزی کردار میں آ گئی ہے۔ظاہر ہے بہار سے آنے والے 63 فیصد کے اعداد و شمار سے او بی سی سیاست کو جو تقویت ملنے والی ہے ، اسے کسی بھی طرح سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔
حکومت بہار کے ذریعہ جاری اس رپورٹ کے بارے میں سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ اعداد و شمار حیران کن نہیں ہیں۔ بہار کے حوالے سے ایسے ہی اندازے لگائے جا رہے تھے۔ہاں سرکاری اعداد و شمار سے تصویر زیادہ واضح ہو گئی ہے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر پس ماندہ طبقات کے حقوق کی حفاظت کا دعوی کرنے والی جماعتیں ابھی سے یہ باتیں کہنی شروع کر دی ہیں کہ او بی سی کی آبادی 60 فیصد سے زیادہ ہے، جب کہ ریزرویشن صرف 27 فیصد ہے۔ اس میں اضافہ کیا جائے۔اب تک حکومت او بی سی کے ساتھ ناانصافی کر تی آ رہی ہے۔ ظاہر ہے ایسا کہہ کر او بی سی کی سیاست سے بی جے پی کو کارنر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔مانا جا رہا ہے کہ بہار کی اس رپورٹ سے ایک طرح سے اپوزیشن اتحاد’’انڈیا‘‘ کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے ایک زبر دست ہتھیار مل گیا ہے۔
اس رپورٹ کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں آبادی کے حساب سے ریزرویشن کی مانگ بڑھ سکتی ہے۔ ساتھ ہی پورے ملک میں اس طرح کا سروے کرانے کے لئے جلسے جلوسوں کے انعقاد کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔اس رپورٹ کے آنے کے بعد جے ڈی یو کے سینئر لیڈر کے سی تیاگی نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا موازنہ کرپوری ٹھاکر اور وی پی سنگھ سے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ یہ منڈل پارٹ ٹو ہے اور نتیش کمار پسماندہ لوگوں کو انصاف فراہم کر نے کے کام میں لگے ہوئے ہیں جیسے ہی بہار سے اس طرح کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، جیتن رام مانجھی نے آبادی کے حساب سے نوکریوں میں ریزرویشن کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔ لالو یادو، نتیش کمار، اکھلیش یادو جیسے لیڈر مسلسل یہ مطالبہ دہراتے رہے ہیں۔ اکھلیش یادو بھی یوپی میں ذات پات کی مردم شماری کا مطالبہ کر تےرہے ہیں۔اب بہار میں آئی اس رپورٹ کے بعد وہ اس پر مزید آواز اٹھا سکتے ہیں۔
اِدھرلوک سبھا انتخابات سے پہلے کانگریس ملک گیر سطح پر ذات برادری پر مبنی مردم شماری کا مسئلہ پوری سرگرمی سے اٹھا نے لگی ہے۔کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ایک بار پھر سماجی، اقتصادی اور ذات برادری کی مردم شماری کے حوالے سےپیر کو چھتیس گڑھ کے بلاس پور میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے’’کانگریس نے 2011 میں ذات پر مبنی مردم شماری کرائی تھی، لیکن مودی جی وہ ڈیٹا لوگوں کو نہیں دکھاتے ہیں۔ یہ ایسا ہے، جس کے بارے میں میں پہلے بھی اپنی آوازیں اٹھاتا رہا ہوں۔حکومت ہند کے 90 سیکرٹریوں میں سے صرف 3 او بی سی ہیں۔ ذات پر مبنی مردم شماری بھارت کا ایکسرے ہو گی۔ ‘‘سماجی انصاف اور او بی سی کی اس سیاست کے حوالے سے بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا بھی یہی ماننا ہےکہ بہار کا یہ سروے رپورٹ بی جے پی کے’’سیاسی ہندوتو ‘‘کے ایجنڈے پر اپوزیشن اتحاد’’ انڈیا‘‘ کا ایک کار گر جواب ثابت ہو سکتا ہے۔
*****

