نیدرلینڈ جیسی ٹیم بھی پاکستان کو پٹخنی دے سکتی ہے ، ناصر حسین کا دعویٰ

تاثیر،۴  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم-حسن

نئی دہلی، 4اکتوبر: ورلڈ کپ 2023 کا آغاز 5 اکتوبر کو دفاعی چمپئن انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ سے ہوگا۔ یہ میچ احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ بابر اعظم کی کپتانی قیادت والی پاکستان کرکٹ ٹیم اگلے دن یعنی 6 اکتوبر کو اپنی مہم کا آغاز کرے گی۔پاکستان ٹیم کو حیدرآباد میں نیدرلینڈس کا مقابلہ کرنا ہے۔ گو کہ کاغذ پر پاکستان کو نیڈرلینڈس سے کافی زیادہ مضبوط سمجھا جارہا ہے، لیکن انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین کا خیال ہے کہ پاکستان کو اس میچ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑ سکتا ہے۔ناصر نے یہ بات پاکستان کرکٹ ٹیم کی غیر متوقع کارکردگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستانی ٹیم کبھی شاندار کارکردگی دکھا سکتی ہے اور کبھی کسی نئی ٹیم سے ہار بھی سکتی ہے۔ یہ پاکستان کرکٹ کی فطرت ہے۔چنئی میں پیدا ہوئے ناصر نے اپنے یوٹیوب چینل پر کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ وہ (پاکستان) بہت اچھی ٹیم ہے۔ انہیں پہلے میچ میں نیدرلینڈس کا سامنا کرنا ہے، لیکن وہ یہ میچ بھی ہار سکتے ہیں۔ پاکستان کی ٹیم ایسی ہی ہے لیکن اس میں زبردست لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آپ پچھلے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کو دیکھیں۔ وہ اس سے تقریباً باہر تھے لیکن اچانک فائنل تک پہنچ گئے۔ وہ اسی طرز کی کرکٹ کھیلتے ہیں۔ وہ ناقابل یقین کارکردگی دکھانے والی ٹیم ہیں۔انگلینڈ کے سابق بلے باز ناصر حسین نے اس کے ساتھ ہی کہا کہ اگر پاکستان ورلڈ کپ 2023 میں مخالف ٹیم کے خلاف اچھا اسکور بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ خود کو ایک بڑی طاقت ثابت کر سکتا ہے۔ اگر وہ اچھا اسکور کرنے میں کامیاب رہے تو دنیا کی کوئی بھی ٹیم ان کے خلاف مشکل میں پڑ سکتی ہے۔وہیں اگر موجودہ پاکستانی ٹیم کی بات کریں تو اس میں فخر زمان، امام الحق، افتخار، محمد رضوان اور بابر اعظم جیسے بلے باز موجود ہیں، لیکن بابر کے علاوہ دیگر بلے بازوں کی کارکردگی میں تسلسل نہیں ہے۔ فخر زمان کا فارم میں نہ ہونا بھی پریشانی کا باعث ہے۔حالانکہ شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، وسیم جونیئر اور حسن علی کا فاسٹ باؤلنگ اٹیک کسی بھی بیٹنگ آرڈر کا کڑا امتحان دے سکتا ہے۔ آل راؤنڈر شاداب کی حالیہ گیند بازی کارکردگی بھی ناقص رہی ہے۔ شاداب کے فارم میں نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی ٹیم مڈل اوورز میں اٹیکنگ کرکٹ نہیں کھیل پا رہی ہے۔