تاثیر،۵ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم-حسن
اسلام آباد،5اکتوبر: پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن سرحد پر فائرنگ کے واقعے میں ایک بچے سمیت دو افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ پاکستان نے افغان طالبان سے ملزم کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔واقعے کی سوشل میڈیا پر ایک سی سی ٹی وی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے پاکستان کی فورسز کے اہلکار اپنی حدود میں موجود ہیں۔ اس دوران سرحد پار تعینات افغان طالبان کی فورسز کا ایک مسلح جنگجو پاکستانی سرحدی محافظوں پر فائرنگ شروع کر دیتا ہے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائرنگ اس وقت ہوئی جب ایک راہ گیر پاکستانی حدود سے افغانستان میں داخل ہوتا ہے جب کہ ایک پاکستانی سرحدی اہلکار وہیں قریب بیٹھا ہے۔فائرنگ کے بعد سیکیورٹی اہلکار ایک جانب دوڑ لگا دیتا ہے جب کہ راہ گیر جان بچانے کے لیے افغان حدود کی جانب بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔جس سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیو سامنے آئی ہے وہ پاکستان کی حدود میں نصب ہے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ یہ ویڈیو کس نے جاری کی ہے۔فائرنگ کے واقعے کے بارے میں پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چمن میں بابِ دوستی پر پیدل چلنے والوں کی گزرگاہ پر سرحد پار سے بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک 12 سالہ بچے سمیت دو پاکستانی شہری ہلاک اور ایک بچہ زخمی ہوا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور کسی بھی قسم کے فائرنگ کے تبادلے سے گریز کیا تاکہ اس کے نتیجے میں مزید کسی قسم کا نقصان نہ ہو۔زخمی بچے اور ہلاک ہونے والے دونوں افراد کی لاشوں کو چمن کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اس معاملے پر افغانستان کے حکام سے رابطہ کیا ہے اور واقعے کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ فائرنگ کرنے والے شخص کو پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

