تاثیر،۵ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم-حسن
کابل،5اکتوبر:افغان رفیوجیوں کو پاکستان سے بے دخل کرنے کے مسئلے پر طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان تلخیاں بڑھ گئیں ہے۔ اور ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ رفیو جی دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستانی حکومت کا رویہ رفیوجیو ںکے تئیں ناقابل قبول ہے ۔ 12لاکھ سے زیادہ رفیوجیوں کو نکالنے کا جو پلان بنا یا ہے اس پر غور کرنا چاہئے۔ نگراں حکومت نے حال ہی میں اعلان کیا کہ ملک میں جو غیر قانونی افغان رفیوجی رہتے ہیں انہیں یکم نومبر تک رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کاکہا گیا ہے۔ حال کچھ مہینوں کے اندر حکومت نے دعوی کیا ہے کہ افغان رفیوجی بڑے پیمانے پر دہشت گردی کارروائی میں ملوث ہیں ا س سلسلے میں وزیراعظم انوارلحق کاکٹرکی قیادت میں قومی ایکشن پلان کی میٹنگ ہوئی جس میں فوجی سربراہ کے علاوہ صوبوں کے گورنر اور وزرائے اعلی نے بھی شرکت کی ۔ اور واضح الفاظوں میں افغان حکومت کو کہا کہ اس کے ساتھ تعلقات ایسے نہیں چلیں گے اگر یہ صورتحال قائم رہی ۔ رپورٹ کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ افغانیوں کے پاس پاکستان میں رہنے کے لئے کوئی دستاویز ہی نہیں موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے سیکیورٹی مسائل میں افغان مہاجرین کا کوئی ہاتھ نہیں، جب تک مہاجرین اپنی مرضی اور اطمینان سے پاکستان سے نہیں نکلتے، انہیں برداشت سے کام لینا چاہیے۔اقوام متحدہ کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 13 لاکھ افغان مہاجرین رجسٹرڈ ہیں اور مزید 8 لاکھ 80 ہزار کو قانونی حیثیت حاصل ہے، تاہم حکومت کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں 17 لاکھ افغان شہری غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔افغانستان کے ترجمان کی جانب سے تنقید کے علاوہ اس پالیسی کے اعلان پر مختلف حلقوں کی جانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ایکس پر کہا کہ حکومت ایک بار پھر مہاجرین کے ساتھ فٹ بال کھیل رہی ہے، اور کچھ دیگر مقاصد کے لیے جوڑ توڑ کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کا ردعمل تباہ کن ہوگا، سہ فریقی معاہدہ صرف رضاکارانہ واپسی کی اجازت دیتا ہے۔ایک روز قبل اسلام ا?باد میں افغان سفارت خانے نے پنجاب اور سندھ پولیس پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ افغان مہاجرین کے خلاف ’بے رحم‘ ا?پریشن کر رہے ہیں، اور حتیٰ کہ خواتین اور بچوں کو بھی گرفتار کیا جارہا ہے۔ایکس پر جاری بیان میں افغان سفارت خانے نے کہا تھا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایک ہزار سے زائد افغان شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے، حالانکہ ان میں نصف سے زائد کے پاس پاکستان میں رہنے کا قانونی حق موجود ہے۔

