حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک بار پھر جنگ چھڑ گئی

تاثیر،۷  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم-حسن

یروشلم ،7اکتوبر: اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے آج اسرائیل کے مختلف شہروں پر پانچ ہزار سے زیادہ میزائل داغے اور اس کے جنگجوں مقبـوضہ علاقوں میں داخل ہوگئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان راکٹ حملوں میں متعدد لوگ ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے جنہیں اسپتالوں میں پہنچا یا گیا جس کی وجہ سے کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں ۔ اس اچانک حملے کے بعد اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نتین ہاہو نے ایمرجنسی میٹنگ بلائی اور جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیل جنگی جہازوں نے غزہ کے کئی شہروں پر حماس کے ٹھکانوں کو تباہ کیا ۔ عسکری بازو عز الدین القسام کے کمانڈر محمد الضیف ’ابو خالد‘ نے ہفتے کے روز اسرائیل کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔القسام کی طرف سے جاری کردہ ابو خالد کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ آپریشن ’طوفان الاقصیٰ میں اسرائیل پر پانچ ہزار میزائل داغے جا رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’آج قوم اپنا قبلہ درست کر کے انقلاب کی راہ چل نکلی ہے جو جلد ہی وطن واپسی کے مارچ پر متنج ہو گا۔‘‘قبل ازیں اسرائیلی فوج کے ترجمان ایوجا درعی نے ایک بیان میں غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر حملوں کے بعد جنگ کے لیے تیار رہنے کے لیے کہا تھا۔اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا ’’ایکس‘‘ [سابق ٹوئٹر] اکاؤنٹ پر بتایا تھا کہ القدس اور گرد ونواح میں خطرے کے سائرن بجائے جا رہے ہیں۔غزہ سے فلسطینی جنگجوؤں کی یہودی بستیوں میں دراندازی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ کئی ویڈیوز میں فلسطینی درانداز حریت پسندوں کی یہودی بستیوں میں اسرائیلی فوج کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کی ویڈیوز بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے ایک اعلان میں بتایا کہ ’’غزہ کی پٹی سے اسرائیلی شہروں پر دسیوں راکٹ اور میزائل داغے جانے کے بعد درجنوں مسلح مزاحمت کار اسرائیلی یہودی بستیوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ غزہ کے اردگرد واقع یہودی بستیوں کے باسیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں۔‘‘ہفتے کی صبح غزہ کی پٹی سے اچانک دسیوں راکٹ اسرائیل پر داغے جانے کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد اسرائیل کے طول وعرض میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ غزہ کے مختلف علاقوں سے راکٹ باری کی آوازیں گونجتی رہیں۔اسرائیلی فوج نے بتایا کہ متعدد فلسطینی مزاحمت کار غزہ کی پٹی سے اسرائیل داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے اسرائیلی ریڈیو نے بتایا تھا جنگجوؤں نے سیلنگ پلین کے ذریعے بھی اسرائیل میں داخلے کی کوشش کی۔