مساجداور دینی مدارس میں اجنیوں کو شب گزاری کی اجازت نہیں

تاثیر،۷  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم-حسن

اسلام آباد،7اکتوبر: پاکستان کی حکومت نے مساجد ،دینی درسگاہوں اور درگاہوں میں کسی اجنبی کو رات گزار نے یا ٹھہرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تمام متعلقہ مدار سے اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال پیش نظر انہیں کسی بھی شخص کو ٹھہرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ یہ حکومت اسلام آباد داررلخلافہ کے لئے جاری کیا گیا کیونکہ حکومت کو اندیشہ ہے کہ انتہا پسند تنظیمیوںسے تعلق رکھنے والے کئی جنگجوں مساجد اور مدارس میں چھپنے کے لئے استعماک کرتے ہیں او راکثر ونہی شب گزاری کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ گزشتہ دنوں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے سرگرمیوں کے پیش نظر لیا گیا ۔ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کی لہر بڑ گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے بلوچستان کے علاقے مستونگ میں ایک خود کش بمبار نے 12 ربیع الاول کو عید میلاد النبی کے موقع پر نکلنے والی ریلی میں خود کو اڑا دیا تھا جس کے نتیجے ایک مذہبی رہنما اور پولیس افسر سمیت ایک بچہ جاں بحق ہوگیا تھا۔اسی دن خیبرپختونخوا کے علاقے ہنگو کی پولیس اسٹیشن کے قریب مسجد میں دو بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔اس کے اگلے دن آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا تھا کہ 12 ربیع الاول کی ریلی پر بم دھماکا کرنے والے اور اس کے سہولت کار پاکستان اور اس کے شہریوں کے دشمن کی پراکسیز ہیں۔
رواں ماہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد و شمار میں کہا گیا تھا کہ 9 برس میں ماہانہ طور پر رواں برس اگست میں مسلح حملوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ادھر پولیس نے ملک میں غیرقانونی باشندوں، جن میں زیادہ تعداد افغان باشندوں کی ہے، کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے جن کو پاکستان چھوڑنے کے لیے رواں ہفتے 31 اکتوبر تک کا وقت دیا گیا ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو یا تو قید کا سامنا کرنا ہوگا یا پھر اپنے اپنے ممالک بھیج دیا جائے گا۔حکومت کی طرف سے یہ فیصلہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی سربراہی میں منعقد ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی تھی۔دریں اثنا اسلام آباد پولیس نے کہا تھا کہ تحویل میں لیے گئے ایک ہزار 126 غیر ملکی شہریوں میں سے 600 افراد کی طرف سے قانونی دستاویزات جمع کرانے کے بعد انہیں گھر جانے کی اجازت دی گئی۔پولیس نے کہا تھا کہ تاحال مختلف تھانوں میں 67 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور شہریوں سے کہا گیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کو غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے ساتھ منسلک کرنا درست نہیں ہے۔