….. !‘’امن ِعالم کا خون ہے آخر

تاثیر،۹  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم-حسن

حماس اور اسرائیلی افواج کے درمیان جاری جنگ میں بے پناہ ہلاکتوں اور بربادیوں کا سلسلہ بھی جاری۔ ایک تازہ ترین  رپورٹ کے مطابق حماس کے حملے میں ابتک 700 سے زائد اسرائیلی شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ 50 سے زائد شہری اور فوجی یرغمال بنائے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ 6 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر اچانک حملہ کر دیا۔ یکے بعد دیگرے 5000 راکٹ فائر کیے گئے۔ حماس کے جنگجو زمین کے علاوہ سمندر اور آسمان کے راستے اسرائیل کے سرحدی علاقوں میں داخل ہوگئے تھے۔
  قابل ذکر ہے کہ 1973کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب حماس نے اسرائیل پر اتنا بڑا حملہ کیا ہے۔ معلومات کے مطابق حماس گزشتہ 2 سال سے اس حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ایک طرف حماس اسرائیل کو یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ جنگ نہیں چاہتا اور دوسری طرف وہ جنگ کے لیے میدان بھی تیار کر رہا تھا۔ آئی ایس آئی ایس کے قریبی ذرائع کے حوالے یہ بتایا جا رہا ہے کہ حماس کی حکمت عملی اسرائیل کو دھوکہ دینے اور الجھانے کے لیے بالکل واضح تھی۔ حماس بظاہر یہ کہتا رہا کہ وہ براہ راست لڑائی کے لیے تیار نہیں ہے اور دوسری طرف اپنے جنگجوؤں کو تربیت بھی دے ر ہا تھا۔ اس بار حماس بھی اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہا۔ پچھلے چند مہینوں کے دوران اس نے بارہا اشارہ دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست جنگ میں داخل نہیں ہونا چاہتا ہے، لیکن وہ گزشتہ کئی ماہ سے جدید ترین ہتھیار اور دیگر ہتھیار جمع کر رہا تھا۔ اسرائیل پر حملے سے قبل غزہ کی پٹی میں موک ڈرل بھی کی گئی۔ اسرائیل جیسی بستیاں قائم کی گئیں۔ پھر ان پر حملہ کیا گیا۔حماس جنگجو پیرا گلائیڈنگ کی مدد سے یہاں اترے۔ جب انہیں پورا یقین ہو گیا کہ وہ اسرائیل کو شکست دے سکتے ہیں تو انہوں نے حملہ کیا۔ اس بار جنگجوؤں کی تربیت کتنی اچھی تھی، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ انتہائی خفیہ ڈھنگ سے اسرائیل میں داخل ہو کر نہ صرف اس کے کئی شہریوں کو ہلاک کر چکے ہیں بلکہ درجنوں شہریوں کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئے ہیں۔  حماس کے کمانڈو یونٹ نے جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہیڈ کوارٹر میں گھس کر مواصلاتی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔
ذرائع کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ حماس کی حکمت عملی اسرائیل کو دھوکہ دینا تھی۔ حماس کے سرکردہ رہنما کہتے رہے کہ غزہ کی پٹی میں رہنے والے لوگوں کا ذریعہ معاش ان کی اسرائیل کے ساتھ لڑائی سے زیادہ اہم ہے۔ اس لیے اسے لڑائی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔  آپ کو بتاتے چلیں کہ غزہ کی پٹی کے ہزاروں لوگ اسرائیل میں کام کرتے ہیں۔ اسرائیل انہیں باقاعدگی سے ورک پرمٹ دیتا ہے۔  اس کے علاوہ تمام شہریوں کو مراعات بھی دیتا ہے۔ظاہر ہے حماس کے اس خوفناک حملے کے بعد اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سوال یہ اٹھ رہا ہےکہ موساد، جسے دنیا میں سب سے زیادہ خوفناک تصور کیا جاتا ہے، حماس کی اتنی بڑی منصوبہ بندی کا سراغ کیوں نہیں لگا سکا؟ ریٹائرڈ جنرل یاکوف امیڈور، جو وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے سیکیورٹی مشیر تھے، کا کہنا ہے کہ حماس کا یہ حملہ انٹیلجنٹ نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
ادھر حماس کے اسرائیل پر غیر متوقع حملے کے بعد حزب اللہ تنظیم بھی لبنان سے صہیونی ریاست کو نشانہ بنارہی ہے۔ دو دن سے جاری جھڑپوں میں اب تک 600 اسرائیلی اور 300 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ حماس کے اچانک حملے کے بعد سے اسرائیلی فوج اب تک سنبھل نہیں پائی ہے۔ ادھر لبنان کی حزب اللہ نے اسرائیلی سر زمین پر مارٹر شیلز سے حملے کیے جس میں بڑے پیمانے پر اسرائیلیوں کی ہلاکتوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اسرائیل نے بھی لبنان پر میزائل داغے تاہم کسی نقصان کی اطلاع تاحال موصول نہیں ہوئی ہے۔ حماس کے سر براہ اسماعیل ہانیہ کا کہنا ہے غزہ میں کامیابی کے بعد یہ جنگ مغربی کنارے اور یروشلم تک جائے گی اور اپنی سر زمین سے قابضین کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ اُدھر اسرائیل نے غزہ پر مکمل قبضہ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے فلسطینیوں کو غزہ خالی کرنے کیلیے 12 گھنے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ اسرائیلی فوجی ترجمان نے دھمکی دی ہے کہ اگلے 12 گھنٹے میں غزہ انکلیو ختم کر دیں گے ، غزہ پر مکمل قبضہ کریں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز حماس نے جوابی ایکشن کرتے ہوئے عرب اسرائیلی جنگ کی پچاسویں سالگرہ پر علی الصبح پہلی بار غزہ سے بیک وقت بری، بحری اور فضائی کارروائی کی تھی اور اسرائیل کے جنوبی شہروں میں فوجی اڈوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
الغرض ابھی ایک طرف حماس جنگجو ہیں اور دوسری طرف اسرائیلی افواج۔چنانچہ شدت کے ساتھ جنگ جاری ہے۔ اس درمیان جانی و مالی نقصانات پہنچانے کے الگ الگ دعوے بھی کئے جا رہے ہیں۔چند ممالک ایک طرف ہیں تو کچھ دوسری طرف اور ان کی موجودگی میں بے تحاشہ کشت و خون کا سلسلہ جاری ہے۔گنتی کے چند ایسے ممالک ہیں جو امن قائم کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔مگر ابھی ایک زور دار اور ایماندارآواز کا انتظار ہے۔ایک ایسی آواز ، جسے کبھی ایک امن پسند شاعر ساحرؔلدھیانوی نے اِن لفظوں میں لگائی تھی :
خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امن ِعالم کا خون ہے آخر
*******