تاثیر،۱۰ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی ، 10اکتوبر:جو مشن ٹوکیو میں ادھورا رہ گیا تھا، ہمیں اسے پیرس میں مکمل کرنا ہے ، خواہ ایشین گیمز کے ذریعے ہم براہ راست کوالیفائی نہیں کرسکے لیکن کوالیفائر کے راستے ہی صحیح ، ہم ایسا کر دکھائیں گے۔یہ کہنا ہے ہندوستان کی خواتین ہاکی ٹیم کی کپتان سویتا پونیا کا ۔ ہانگژو ایشین گیمز میں خطاب کی مضبوط دعویدار کے طور پراتری ہندوستانی خواتین ٹیم کو سیمی فائنل میں شکست دے کر چین نے پیرس اولمپکس 2024 کے لیے براہ راست کوالیفائی کرنے کا خواب چکنا چور کردیا۔ ہندوستان نے جاپان کو شکست دے کر کانسے کا تمغہ جیتا۔
ہانگژو سے واپسی کے بعد سویتا نے کہا کہ ہمارے پاس پچھتانے کا وقت نہیں تھا اور جاپان کے خلاف میچ سے پہلے میں نے کھلاڑیوں سے صرف اتنا کہا تھا جو گزر گیا، وہ بات گئی اور اب خالی ہاتھ نہیں لوٹنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ہر کھلاڑی کو یہ باور کرانا ہو گا کہ کوالیفائر کے ذریعے بھی ٹوکیو میں ادھورا رہ جانے والا مشن پیرس میں مکمل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ہم پانچ دن کے وقفے کے بعد کیمپ جائیں گے۔ تمام کھلاڑیوں سے بات کریں گے اور انہیں یقین دلائیں گے کہ ہم کر سکتے ہیں اور کریں گے۔
اس تجربہ کار گول کیپر نے کہا کہ آج کی ہاکی میں ہر میچ میں ہر روز اچھا کھیلنا پڑتا ہے۔ ٹیم بہت اچھی ہے اور ہمارے پاس کوالیفائر (جنوری میں چین یا اسپین میں) کے لیے تین ماہ ہیں۔ ہم اپنی خامیوں پر بھرپور محنت کریں گے اگر ہم اپنی ہاکی کھیلیں گے، تو کسی بھی ٹیم کو سخت چیلنج پیش کریں گے۔ ٹوکیو اولمپکس میں کانسے کے تمغے کا میچ ہارنے کے بعد گول کیپر سویتا کے آنسو نہیں رک رہے تھے۔ وہیں ہانگژو ایشین گیمز میں بطور کپتان آنے والی سویتا پر نوجوان کھلاڑیوں کے آنسوروک کر انہیں کانسے کے تمغے کے مقابلے کے لیے تیار کرنے کی ذمہ داری تھی۔ کانسہ کے تمغے کے مقابلے میں جیسے ہی ہوٹر بجنے لگا، ڈچ کوچ ینیک شاپ مین، جو عموماً اپنے جذبات پر قابو رکھتے تھے، میدان میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔
سویتا نے کہا، کوچ کو معلوم تھا کہ ٹیم کس چیز کی حقدار ہے۔ کانسے کے بعد وہ بہت جذباتی ہوگئیں کیونکہ انہوں نے اس ٹیم کو طلائی کے تمغہ کے لیے تیار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ غلطی کہاں ہوئی کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ سب کو معلوم تھا کہ وہ کہا ں چوک گئے۔ نوجوان کھلاڑی شاید بڑے میچ کے دباو کو ہینڈل نہ کر پائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بہت اچھی تیاری کے ساتھ میدان میں اترے اور واقعی میں گولڈ جیت سکتے تھے لیکن چین سے ہار گئے اور جاپان جیسی اچھی دفاعی ٹیم کے خلاف تمغے کے لیے تیار تھے۔ ہمارے پاس رونے، غم کرنے اور اداس ہونے کے لیے صرف ایک دن تھا، ہم نے پچھلی دو بار تمغہ جیتا تھا اور ہم کسی بھی حالت میں خالی ہاتھ نہیں لوٹنا چاہتے تھے۔

