اس امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا

تاثیر،۱۰  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو پی ایم بنائے جانے کے سلسلے میں ایک بار پھر بیان بازی شروع ہو گئی ہے۔کچھ لوگ نتیش کمار کو پی ایم کے عہدے کے لیے ایک مضبوط اور سب سے زیادہ مقبول امیدوار مانتے ہیں۔ جب کہ کچھ انہیں پی ایم میٹریل کہتے ہوئے کبھی نہیں تھکتے ہیں۔ بعض اوقات پٹنہ میں اس سلسلے میں جگہ جگہ پوسٹر بھی لگائے جاتے ہیں۔ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب نتیش کمار پہلے ہی اس بات سے انکار کر چکے ہیں کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کی دوڑ میں نہیں ہیں۔اس کے باوجود آر جے ڈی ایم ایل اے بھائی ویریندر ،جو لالو یادو کے خاندان کے بہت قریبی مانے جاتے ہیں، نے پندرہ دنوں کے اندر دوسری بار یہ آواز اٹھائی ہے کہ نتیش کو پی ایم بننا چاہئے۔ تاہم وہ اپنے بیان سے یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جس طرح بہار وقتاً فوقتاً ملک کو سمت دکھاتا رہا ہے، اسی طرح اس بار بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے میں بھی بہار کا بڑا اہم رول ہوگا۔
جب سے نتیش کمار بی جے پی کو چھوڑ کر آر جے ڈی کے ساتھ آئے ہیں، اس کے بعد سے ہی یہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ نتیش بہار چھوڑ کر مرکزی سیاست میں شامل ہو جائیں گے۔ وہ اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے۔اس طرح کی قیاس آرائی کرنےوالے زیادہ تر لیڈروں کا تعلق آر جے ڈی سے ہے۔ جب بہار میں عظیم اتحاد کی حکومت بنی تھی، آر جے ڈی کے ریاستی صدر جگدانند سنگھ نے صحافیوں سے کہا تھا کہ نتیش ہی وزیر اعظم بنیں گے۔ انہیں لالو یادو کا آشیرواد حاصل ہے۔ لالوپرساد یادو کی مدد سے ہی اندر کمار گجرال، ایچ ڈی دیوے گوڑا اور پی وی نرسمہا راؤ پی ایم بنے تھے۔ اسی لئے اگلی بار نتیش کمار ہی ملک کے پی ایم بننے والے ہیں۔بعد میں جے ڈی یو لیڈروں کے بھی اسی طرح کے بیانات تب تک آتے رہے جب تک نتیش کمار نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ جے ڈی یو لیڈروں کو انہیں وزیر اعظم بنانے کے بارے میں بیان دینے سے گریز کرنا چاہئے۔
یہ بات سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ نتیش کمار جو بھی پہل کرتے ہیں، اس کی تقلید دوسرے لوگ بعد میں کرتے ہیں۔آر جے ڈی کے لوگ نتیش کمار کو پی ایم بنانے کے مطالبہ بھی شاید ا سی وجہ سے کرتے ہیں۔ نتیش کمار نے بہار میں اس طرح کی کئی اسکیمیں شروع کیں، جن کے خطوط پر بعد میں دیگر ریاستی حکومتوں یا مرکز نے اپنی اسکیمیں بنائیں۔ نتیش کمار نے سب سے پہلے میونسپل اور پنچایتی انتخابات میں خواتین کو 50 فیصد ریزرویشن دیا۔ اس کے بعد مرکزی حکومت نے سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے لیے 38 فیصد ریزرویشن کا انتظام کیا ۔ اسکول کی بچیوںکے لیے سائیکل اور یونیفارم اسکیم شروع کی ۔ نل جل منصوبہ کو نافذ کرنے والا پہلا صوبہ بہار ہی تھا۔ نتیش حکومت نے میٹرک، انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن مکمل کرنے والی غیر شادی شدہ لڑکیوں کے لیے مراعاتی رقم دی ۔ بعد میں دیگر ریاستوں نے بھی اسے اپنے یہاں نافذ کیا۔ بہار کے بعد مرکزی حکومت نے نل جل منصوبہ شروع کیا۔اِدھر نتیش کمار کی حکومت نے اپنے وسائل سے ذات پر مبنی سروے کروایا ہے۔ بہار ہی ملک کی وہ پہلی ریاست ہے، جس نے ذات کا سروے کرایا اور رپورٹ کو بھی عام کیا۔ نتیش کا یہ قدم اب تمام اپوزیشن پارٹیوں کے لیے الکشن ایشو بن گیا ہے۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے پرانے نعرے کو نئے انداز میں پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔راجستھان کی اشوک گہلوت حکومت نے اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان سے عین قبل ذات کی بنیاد پر سروے کا اعلان کر دیا۔ یوپی ، چھتیس گڑھ اور دیگر ریاستوں میں بھی ذات پر مبنی سروے کے تذکرے ہونے لگے ہیں۔ راہل گاندھی اور لالو یادو نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ مرکز میں ان کی حکومت بنتے ہی ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے گی۔
اب تک نتیش کمار کے فیصلوں کی تعریف یا ان کے ذریعہ چلائے جا رہے منصوبوں کی تقلید کے مد نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپوزیشن پارٹیاں نتیش کمار کو پی ایم بنانے پر متفق ہو پائیں گی؟ اس سوال کا جواب شاید اثبات میں نہیں ہو سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین مانتے ہیں کہ حمایت کی بنیاد پر کانگریس اب بھی ایک بڑی اور مضبوط پارٹی ہے۔ علاقائی جماعتوں کا اثر و رسوخ صرف ان کی ریاست تک محدود ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ممتا بنرجی، کے سی راؤ اور اروند کیجریوال جیسے کئی لیڈر بھی وزیر اعظم کے عہدے کی دوڑ میں شامل ہوتے۔تاہم، نتیش کمار نےاپنے ایک فیصلے سے پہلے ہی سب کو خاموش کر دیاہے کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کے دعویدار نہیں ہیں۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ 2020کے بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کو دیکھ کر نتیش کمار پوری طرح سے خاموش تھے۔ انہیں یہ قطعی امید نہیں تھی کہ 243 سیٹوں والی اسمبلی میں صرف 43 ایم ایل ایز کی حمایت سے وہ کبھی وزیر اعلیٰ بن سکیں گے لیکن، ان کی سیاسی سوجھ بوجھ اور حکمت عملی کام آئی ۔زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنے والی بی جے پی کو جھک مار کر نتیش کمار کو ہی وزیر اعلیٰ بنانا پڑا۔کہا جاتا ہے سیاست اور کرکٹ میں کبھی کبھی جیتتے جیتتے کون کب ہار جائے گا اور ہارتے ہارتے کب کون جیت جائے گا، یہ کسی کو بھی پتہ نہیں ہوتا۔لہٰذا، ملک میں ابھی جس طرح کی اپوزیشن سیاست ہو رہی ہے، اس سے یہ بالکل صاف نہیں ہے کہ اگر 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج اپوزیشن اتحاد کے حق میں آئیںگے تو متفقہ طور پر ملک کے وزیر اعظم کا سہرہ کن کے سر بندھے گا۔وہ سہرہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے سر بھی بندھ سکتا ہے، اس امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔
*************************