تاثیر،۱۱ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
ابھی پوری دنیا اسرائیل پرحماس کے حملے کے اسباب و علل پر تجزیہ کرنے میں مصروف ہے۔بیشتر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب حماس نے گذشتہ ہفتے کے روز اسرائیل پر مہلک حملہ کیا تو اس کے جنگجوؤں نے سرحد عبور کرنے کے لیے دراندازی کا استعمال کیا تھا۔ حماس کے عسکری ونگ’’ عزالدین القسام بریگیڈز‘‘ نے سب سے پہلے غزہ کی پٹی کے ارد گرد میوزک فیسٹیول کے شرکاء اور اسرائیلی قصبوں پر حملہ کیا۔انھوں نے اس اچانک حملے کو ’’الاقصیٰ سیلاب ‘‘ کا نام دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان رچرڈ ہیچٹ نے تصدیق کی ہے کہ فلسطینی جنگجو’’پیراشوٹ ‘‘کے ذریعے، سمندری اور خشکی سے دراندازی کر چکے ہیں۔ ایسی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہیں ،جن میں ‘القسام بریگیڈ کے جنگجو پیراشوٹ کے ذریعے اسرائیل اترتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ فلسطینی عسکریت پسند دیوار اور خاردار تاریں عبور کر کے غزہ اور اسرائیل کے علاقوں میں داخل ہو چکے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق انھوں جس طرح کے پیرا شوٹ کا استعمال کیا،اس میں ایک یا دو لوگوں کو لے جانے کی صلاحیت تھی۔ جنریٹروں اور بلیڈوں سے چلنے والے ان پیراشوٹ یا گلائیڈرز کے ذریعے وہ غزہ کی پٹی سے باہر اسرائیلی کے ذریعہ مقبوضہ علاقوں میں داخل ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران 1944 میں محاذ سے بہت پیچھے دشمن کے علاقوں میں فوجیوں کو اتارنے کے لیے اس طرح کے فوجی پیراشوٹ کا استعمال عام تھا۔ماہرین بتاتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم میں پہلی بار جرمنی اور اتحادی ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف اس طرح کی پیراشوٹ ٹیمیں تعینات کی تھیں۔چنانچہ سنیچر کا حماس کا حملہ 1987 میں دو فلسطینیوں، ایک شامی اور ایک تیونسی، پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کی جنرل کمان سے منسلک جنگجوؤں کی طرف سے کیے گئے گلائیڈر آپریشن کی یاد دلاتا ہے۔
حماس کے میڈیا کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ مسلح جنگجو بھاری راکٹ فائر کی آڑ میں پیرا گلائیڈرز پر غزہ سے اڑ رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ بہت کم اونچائی پر اڑتے ہوئے نظر آتے ہیں، جب کہ کچھ آسمان میں بہت اونچی پرواز کر رہے ہیں۔ یہ غزہ کے آس پاس کے آسمان میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے تھے۔ اسرائیلی میڈیا نے فوج سے سوال کیا ہے کہ وہ انہیں دیکھنے میں کیسے ناکام رہی؟ اسرائیلی فوج نے ابھی تک اس وجہ کی وضاحت نہیں کی ہے کہ جنگجوؤں کے سرحد پار کرنے کے بعد بھی اس کے فضائی دفاع کو کیوں الرٹ نہیں کیا گیا، خاص طور پر ایسی صورت حال میں جب پیراشوٹ اس قدر واضح طور پر دکھائی دے رہے تھے کہ لوگوں نے اپنے موبائل فون سے ان کی ویڈیوز بنا لیں۔
اِدھرامریکی صدر جو بائیڈن نے واضح کیا ہے کہ غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری کے باوجود ہفتے کے روز حماس کے حملے کے بعد امریکہ اسرائیل کی مکمل حمایت کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں حماس کا کہنا ہے کہ بائیڈن کی تقریر اسرائیلی قبضے کا ’’کور اپ‘‘ہے۔ فلسطینی گروپ نے بائیڈن کے تازہ ترین تبصروں کو’’اشتعال انگیز‘‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ’’غزہ کی پٹی کے خلاف اسرائیلی قبضے کی وحشیانہ جارحیت‘‘ کے درمیان آئے ہیں۔۔ بائیڈن نے اپنے خطاب میں، حماس کو ایک ’’دہشت گر د‘‘ تنظیم قرار دیا ہے اور کہا ’’ حماس فلسطینی عوام کے وقار اور خود ارادیت کے حق کے لیے کھڑا نہیں ہے۔‘‘ اس کے جواب میں حماس نے امریکی انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ’’اپنے موقف پر نظر ثانی کرے اور اسرائیلی قبضے کے حق میں اپنی دوہرے معیار کی پالیسی کو واپس لے۔‘‘
واضح ہو کہ ہفتہ کے حملے سے پہلے، اسرائیل نے غزہ کے عسکریت پسندوں کے ساتھ چار جنگیں لڑی تھیں، آخری جنگ 2021 میں ہوئی تھی۔ ان جنگوں میں اسرائیل نےحماس کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کرنے کی کوشش میں تباہ کن فضائی حملے کئے، جب کہ عسکریت پسندوں نے سرحد پار راکٹوں کی بارش کی۔قدرے امن حاصل کرنے کی کوشش میں، اسرائیل نے حال ہی میں غزہ کے لوگوں کے لیے کام اور تجارتی اجازت ناموں میں اضافہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً ساڑھے 18ہزار مزدوروں کو گنجان آباد ساحلی علاقے میں نمایاں آمدنی فراہم کی گئی تھی جہاں تقریباً نصف آبادی بے روزگار ہے۔
اسرائیل کا خیال تھا کہ اقتصادی ترغیبات سے، حماس کو تشددسے روک لے گا۔لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ماہرین کا ماننا ہے کہ فلسطینیوں کے حقوق، دو ریاستی حل کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتاہے۔اس ماہ کے شروع میں، اسرائیل کی قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی نے کہاتھا کہ گزشتہ دو برسوں سے حماس نے’’بے مثال ‘‘ طریقے سے تشدد کو روکنے کے اپنے فیصلے کے تحت، کوئی راکٹ لانچ نہیں کیا ہے۔انہوں نے یکم اکتوبر کو آرمی ریڈیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں بڑے ہی تکبر آمیز لہجے میں کہا تھا’’حماس بہت محدود ہے، اور مزید خلاف ورزی کا مطلب سمجھتی ہے۔‘‘جبکہ حماس کے موقف کی حمایت کرنے والے اسرائیل کی حمایت کرنے والے ملکوں اور تنظیموں سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اسرائیلی فوجیوں کے ذریعہ دھیرے دھیرے فلسطینیوں کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچنے کی مسلسل کی جارہی سازش پر پوری دنیا خاموش تماشائی بنی رہتی ہے اور جب فلسطین کی حمایت میں کوئی کچھ کرتا ہے تو اس عمل کو دہشت گردی کا نام کیوں دے دیا جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں ہے۔فلسطین کی سرزمین اور وہاں کے باشندگان کے حق میں انصاف کی باتیں کرنے والے دنیا کے تمام لوگ ، جن میں بھارت کے بھی کئی دانشور شامل ہیں،گزشتہ ہفتہ کے حملے کو ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کے فطری اصول سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں اور مان رہے ہیں کہ حماس کا قدم غلط نہیں ہے۔
*****************

