تاثیر،۱۴ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کی طرف سے غیر ہندوؤں کو پارٹی کے قریب کرنے کی پہل پر زور دیے جانے کے بعدسے اتر پردیش بی جے پی نے ریاست کی زیادہ سے زیادہ اقلیتی آبادی کو پارٹی سے جوڑنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ 2024 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے پہلے بی جے پی کی توجہ خاص طور پر خانقاہوں اور درگاہوں کو آباد کرنے والے صوفی مسلمانوں پر ہے۔ اس مہم کی ذمہ داری بی جے پی کے اقلیتی مورچہ کو دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی نے اس مہم کو آگے بڑھانے کے لئے 150 صوفیوں کو جوڑا ہے۔ یہ لوگ ریاست کے ہر ایک ضلع میں جا کر بی جے پی لیڈروں سے بات چیت کریں گے اور ان کے مشورے سے کام کو آگے بڑھائیں گے۔ اس مہم کو چلانے سے پہلے گزشتہ جمعرات کو بی جے پی کے ریاستی ہیڈکوارٹر میں ان صوفی مسلمانوں اور بی جے پی اقلیتی محاذ کے ریاستی عہدیداروں کو ٹریننگ دی گئی۔ انہیں بتایا گیاکہ وہ اقلیتوں بالخصوص صوفی برادری کے درمیان کیسے جائیں گے اور بتائیں گے کہ بی جے پی نے اقلیتوں کے لیے کیا کیا ہے؟
اقلیتی محاذ کے ریاستی صدر کنور باسط علی کا کہنا ہے کہ اس مہم میں علماء، مولانا اور صوفی مسلمانوں کو شامل کیا جائے گا۔ اس کے لیے صوفی برادری بھی اکٹھی ہو گئی ہے۔ ان کے ساتھ بی جے پی اقلیتی مورچہ کے عہدیداران اور اقلیتی وزراء مسلم کمیونٹی کے درمیان جائیں گے۔ وہ بی جے پی کے تئیں مسلم کمیونٹی کے دل و دماغ میں بیٹھے تعصب کو توڑنے کی کوشش کریں گے۔ انھیں یہ بھی بتایا جائے گا کہ بی جے پی کی ریاستی اور مرکزی حکومتیں مسلمانوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے لیے کیا کر رہی ہیں اور کس طرح مسلمانوں کو حکومت کی فائدہ مند اسکیموں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔ کنور باسط علی کا کہنا ہے کہ اس مہم کو چلانے کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ بی جے پی کا نظریہ صوفی مسلمانوں تک پہنچنا چاہیے۔ اس مہم میں اجمیر شریف اور نظام الدین اولیاء درگاہ کے لوگوں کو ساتھ لیا گیا ہے۔ بی جے پی تقریباً ایک ہزار مزاروںاور درگاہوں تک پہنچے گی۔
اس سلسلے میں بی جے پی اقلیتی محاذ کے قومی صدر جمال صدیقی کا کہنا ہے کہ بی جے پی تمام اقلیتوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ صوفی مکالمے کے ذریعے مسلم اکثریتی نشستوں تک پہنچنے کا منصوبہ ہے۔ یہ مکالمے بڑے پیمانے پر ان لوک سبھا حلقوں میں منعقد کیے جائیں گے، جہاں مسلمانوں کی آبادی20 فیصد یا اس سے زیادہ ہے۔ سیمینار اور مکالمے کے ساتھ ساتھ مسلم کمیونٹی کے لوگوں کو بھی ان کے گھر پہنچ کر ان سے بات کی جائے گی۔اس مہم کے تحت یہ بھی طے ہے کہ صوفی سمواد پروگرام میں بی جے پی کے سینئر لیڈر، مرکزی اور یوپی حکومت کے وزراء اور اقلیتی برادری کے لیڈر صوفی نائٹ میں شرکت کریں گے اور درگاہوں پر قوالی سنیں گے ا۔ اس دوران یہ بھی بتایا جائے گا کہ مودی حکومت نے اقلیتوں کے لیے بلا امتیاز کام کیا ہے۔
واضح ہو کہ پسماندہ مسلمانوں کو رجھانے کے بعد بی جے پی اب صوفی برادری کے ذریعے تمام اقلیتوں کو راغب کرنے میں مصروف ہے۔ بی جے پی کا ماننا ہے کہ درگاہوں اور مزاروں پر جانے والے اقلیتی طبقے کو مرکزی اور ریاستی حکومت کی اسکیموں کا سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ اقلیتی برادری کے نظر انداز شدہ طبقے سے آتے ہیں۔ بی جے پی اپنی پہنچ سے کسی کو بھی اچھوت نہیں چھوڑنا چاہتی۔ پارٹی کا یہ بھی ماننا ہے کہ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں آٹھ فیصد مسلمانوں نے بھی بی جے پی کو ووٹ دیا تھا۔ رام پور لوک سبھا، رامپور اسمبلی اور اعظم گڑھ لوک سبھا سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخابات جیتنے میں کامیابی مسلمانوں نے ہی دلائی، جہاں 60 فیصد سے زیادہ پس ماندہ مسلمان ہیں۔سیاسی مبصرین یہ مانتے ہیں بی جے پی مشن 80 کے ساتھ لوک سبھا الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ایسے میں اقلیتوں کے ووٹ بینک میں دخل اندازی ضروری ہے۔ اس کے پیش نظر بی جے پی کی جانب سے اقلیتی آبادی کے درمیان نشستوں کا سلسلہ جاری ہے۔ نشستوں میں یہ نعرہ بھی لگ رہا ہے’’نہ دوری ہے نہ کھائی ہے۔مودی ہمارا بھائی ہے۔‘‘ دراصل’’ ہندوتوسیاست‘‘ کے ذریعے بی جے پی کی جانب سے ملک کے اقلیتی طبقے کو مسلسل خوفزدہ رکھنے کی کوشش کی گئی۔ اس بات کو ذہن سے دھونے کی کوشش یہ کہہ کر کی جا رہی ہے’’ مرکز میں 9 سال سے زیادہ اور یوپی میں 6 سال سے زیادہ مدت تک اقتدار میں رہنے کے بعد بھی، اقلیتی مفادات کے تحفظ کے لیے مسلسل اقدامات کیے گئے۔ معاشرے پر کسی قسم کا ظلم نہیں ہونے دیا گیا۔ سوسائٹی کو ترقیاتی منصوبوں میں برابر کا حصہ دار بنایا گیا۔‘‘
یہ حقیقت ہے کہ حالیہ دنوں میں اقلیتی ووٹ بینک پر کافی سیاست ہوئی ہے۔ تمام سیاسی پارٹیاں مسلم ووٹ بینک کو اپنے دائرے میں لانے کی کوششیں کرتی نظر آرہی ہیں۔ ایک طرف کانگریس دیہی سطح پر مسلم ووٹ بینک تک پہنچنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سماج وادی پارٹی مسلم ووٹ بینک کو اپنے کھاتے میں رکھی ہوئی ہے۔کچھ ایسا ہی حال بہوجن سماج پارٹی کا بھی ہے۔ ان کے درمیان بھارتیہ جنتا پارٹی نے اب یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ’’ تمام سیاسی پارٹیوں نے مسلم ووٹ کو بینک سمجھ کر استعمال کیا ہے۔ مسلمانوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے منصوبے پر اب تک کسی نے بھی کوشش نہیںکی ہے۔‘‘ شاید اسی موقع کے لئے مرزا غالبؔ نے کہا تھا’کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ !‘
***********

