تاثیر،۱۷ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے تیاریوں کے درمیان اپوزیشن اتحاد’’انڈیا‘‘ میں وہ مضبوطی نظر نہیں آرہی ہے جو اتحاد کا تقاضہ ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان گفتگوسلسلہ فی الحال رک سا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سیٹ شیئرنگ کا معاملہ بھی التوا میں پڑ ا ہوا ہے۔موجودہ صورتحال سے یہ لگ رہا ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن پارٹیاں متحد رہ سکتی ہیں، لیکن اسمبلی انتخابات کے درمیان تال میل میں مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں غیر کانگریسی یا غیر بی جے پی کی حکومتیں ہیں۔ راجستھان، چھتیس گڑھ، کرناٹک اور ہماچل پردیش میں کانگریس کی حکومتیں ہیں اور بہار، جھارکھنڈ اور تمل ناڈو میں اپوزیشن کی مخلوط حکومتیں ہیں۔ اس کے علاوہ بنگال، اتر پردیش، ہریانہ اور پنجاب میں اپوزیشن اتحاد کو لے کر اتحادیوں کے مقامی رہنماؤں میں گہرے اختلافات دیکھے جا رہے ہیں۔
بہار کے سی ایم نتیش کمار نے اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی مہم شروع کی تھی۔ جب تک کمان نتیش کے ہاتھ میں رہی، شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب اپوزیشن اتحاد کی بات نہ چلی ہو۔ جب سے اس مہم کی کمان کانگریس نے سنبھالی ہے، تب سے سناٹا تھوڑا گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ اب ممتا کچھ نہیں بولتیں اور اکھلیش کی زبان سے کچھ نہیں نکلتا۔ اگر کہیں کوئی بات ہوتی بھی ہے تو اس میں اتحاد کا جذبہ بالکل ہی نہیں نظر آتا ہے۔ نتیش کمار گھوم گھوم کر اپوزیشن لیڈروں سے ملے۔ انہیں اپوزیشن اتحاد کے لیے آمادہ کیا۔ نتیش کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ انہوں نے عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال اور ٹی ایم سی سپریمو ممتا بنرجی کو کانگریس کے ان لیڈروں کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر کھڑا کیا ،جن کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات تھے۔
اپوزیشن اتحاد کے سامنے شروع سے ہی دو بڑے مسائل ہیں، جن کے حل کے بغیر اپوزیشن اتحاد کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔ پہلا مسئلہ اتحاد میں شامل 28 جماعتوں میں نشستوں کی تقسیم کا ہے اور دوسرا مسئلہ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے چہرے کا فیصلہ کرنا ہے۔ دونوں کام فی الحال رکے ہوئے ہیں۔ کانگریس ملک کی سب سے پرانی سیاسی پارٹی ہے۔ اس کے پاس کئی تجربہ کار سیاست داں موجود ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ مذکورہ مسائل کے حل میں جتنی تاخیر ہوگی، کانگریس کا قد اتنا ہی بڑھے گا۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں ان ماہر سیاست دانوں نے فیصلہ کیا کہ ٹکٹوں کی تقسیم کو اگلے ماہ ہونے والے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج تک انتظار کرنا چاہیے۔ اس کے بعد سے ہی پارٹی میں ٹکٹوں کی تقسیم پر گفتگو کا سلسلہ بند ہے۔
خیال کیا جاتا تھا کہ جن ریاستوں میں کانگریس کی حکومتیں ہیں یا جہاں کانگریس مخلوط حکومت میں شامل ہے، وہاں سیٹوں کی تقسیم میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، لیکن بہار میں ایسا ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔اس کی معقول وجوہات بھی ہیں۔ عظیم اتحاد میں جے ڈی یو کے 16 موجودہ ممبران پارلیمنٹ ہیں۔ کانگریس کے پاس ایک ہے۔ آر جے ڈی صفر پر ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں کا بھی کوئی رکن پارلیمنٹ نہیں ہے۔ اس بار ہر کوئی لوک سبھا انتخابات میں حصہ لینا چاہتا ہے۔ سی پی آئی (ایم) اور سی پی آئی (ایم ایل) بھی سیٹیں چاہتی ہیں۔ اکیلے سی پی آئی (ایم ایل) نے پانچ سیٹوں پر دعویٰ کیا ہے۔ آر جے ڈی عظیم اتحاد میں سب سے بڑی پارٹی ہے۔ اس لیے وہ بھی نتیش کمار کی جے ڈی یو سے کم سیٹیں نہیں چاہتی۔ جب آر جے ڈی، جو کہ صفر پر آ گئی ہے، جے ڈی یو سے کم سیٹیں نہیں چاہتی، تو کانگریس، جس کے پاس ایک سیٹ ہے، وہ بھلا کیوں پیچھے رہ سکتی ہے۔ بہار میں لوک سبھا کی 40 سیٹیں ہیں۔ 2019 کے انتخابات میں بی جے پی کو 17، جے ڈی یو کو 16، ایل جے پی کو 6 سیٹیں ملی تھیں۔ ظاہر ہے یہ پارٹیاں این ڈی اے کے جھنڈے تلے چناؤ لڑیں گی ۔
اِدھر بہار اسمبلی میں سب سے زیادہ ایم ایل اے رکھنے والی پارٹی آر جے ڈی کو بھی کم سے کم اتنی سیٹیں ملنی چاہئے، جتنی سیٹوں پر جے ڈی یو الیکشن لڑنا چاہتا ہے۔ جے ڈی یو کم از کم تمام 16 نشستیں ملنی چاہئے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر جے ڈی یو 16 چاہتا ہے تو آر جے ڈی کو بھی وہی نمبر چاہئے۔ پھر کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کا کیا ہوگا؟ انہیں باقی آٹھ سیٹوں پر ہی قناعت کرنی ہوگی۔ کانگریس پہلے ہی 9 سے 12 سیٹوں پر دعویٰ کر چکی ہے۔ ایسے میں سب سے آسان مانے جانے والے بہار میں’’عظیم اتحاد‘‘ مشکل میں دکھائی دے رہا ہے۔
ابھی سب سے اہم بات یہ ہے کہ راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، تلنگانہ اور میزورم میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن کا اتحاد ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان انتخابات میں کانگریس کے ساتھ ساتھ عام آدمی پارٹی بھی اپنے امیدوار اتار رہی ہے۔ تلنگانہ میں کے سی آر کی پارٹی بی آر ایس کے ساتھ کوئی تال میل ہی نہیں بن پایا ہے۔ بنگال میں بھی حالیہ اسمبلی ضمنی انتخابات میں حزب اختلاف کی جماعتیں آپس میں آمنے سامنے تھیں۔ ممتا کانگریس یا بائیں بازو کی پارٹیوں کو کوئی ترجیح نہیں دے رہی ہیں۔ اس درمیان سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر اسمبلی انتخابات کے نتائج کانگریس کے لیے سازگار ہوتے ہیں تو وہ اپوزیشن اتحاد پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے میں پیچھے نہیں رہے گی۔ ایسے میں لوک سبھا انتخابات میں سیٹوں کی تقسیم اور وزیر اعظم کے چہرے پر کوئی سمجھوتہ خوشگوار ماحول میں ہو پانا مشکل ہو جائے گا۔اور جب ایسا ہوگا تو پھر اپوزیشن اتحاد کے مشن کو فیل ہونے سے کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔
***************

