بہار میں چوتھے زرعی روڈ میپ کاصدرجمہوریہ دروپدی مرمو نیکیا افتتاح

تاثیر،۱۸  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

پٹنہ ، 18 اکتوبر:۔ صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے بدھ کے روز پٹنہ کے باپو سبھاگار میں چوتھے زرعی روڈ میپ 2023 کا شمع روشن کر کے افتتاح کیا۔
اس موقع پر بہار کے گورنر راجیندر وشواناتھ،وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے علاوہ زراعت ، تعاون ، صنعت ، جنگلات اور ماحولیات سمیت 12 متعلقہ محکموں کے وزراء￿ اور افسران موجود تھے۔ اس کے علاوہ کسانوں اور زرعی سائنسدانوں کی بڑی تعداد بھی اس پروگرام میں شرکت کررہے ہیں۔ بہار میں تقریباً 93.60 لاکھ ہیکٹر زمین میں سے 79.46 لاکھ ہیکٹر زمین قابل کاشت ہے۔ ا?ج بھی ریاست میں 74 فیصد لوگ روزی روٹی کے لیے زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔ ریاست کی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ تقریباً 20 فیصد ہے۔ لائیواسٹاک کا حصہ تقریباً 6 فیصد ہے۔ سب کو دیکھ کر نتیش نے زرعی روڈ میپ لانے کا فیصلہ کیا۔نتیش حکومت نے سب سے پہلے زرعی روڈ میپ میں بیج کی پیداوار کے ساتھ کسانوں کی پیداوار بڑھانے کی کوشش کی، جس کے بعد بہار کو چاول کی پیداوار میں کافی کامیابی ملی۔ پہلے زرعی روڈ میپ میں بیج کی پیداوار کے ساتھ کسانوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ بہار کو چاول کی پیداوار میں کافی کامیابی ملی۔ پہلے زرعی روڈ میپ کا بجٹ بہت چھوٹا تھا دوسرا زرعی روڈ میپ 2012 میں نافذ کیا گیا تھا۔ اس کے لیے 2011 میں نتیش حکومت نے 18 محکموں کو شامل کرکے زراعت کی کابینہ تشکیل دی تھی۔دیگر روڈ میپ میں بھی بہار کو کئی ایوارڈ ملے۔ 2012 میں چاول کی پیداوار کے لیے کرشی کرمن ایوارڈ ملا۔ 2013 میں گیہوں کی پیداوار کے شعبے میں کرشی کرمن ایوارڈ حاصل کیا۔ 2016 میں مکئی کی پیداوار کے شعبے میں کرشی کرمن ایوارڈ۔ تیسرا زرعی روڈ میپ 2017 میں نافذ کیا گیا تھا۔ کورونا کی وجہ سے روڈ میپ میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی۔ تیسرے زرعی روڈ میپ میں نامیاتی کھادوں پر زور دیا گیا۔ حکومت کسانوں کے کھیتوں میں بجلی فراہم کرنے میں کامیاب رہی۔ اس میں بہار میں گرین بیلٹ کو بڑھانے پر زور دیا گیا۔ اس وقت ریاست میں 15 فیصد گرین بیلٹ ہے۔