کیجریوال حکومت پچم وہار میں ایک عالمی معیار کی نئی اسکول کی عمارت تیار کروا رہی ہے، وزیر تعلیم آتشی نے تعمیراتی کام کا معائنہ کیا

تاثیر،۱۸  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 18 اکتوبر: وزیر تعلیم آتشی نے PWD اور محکمہ تعلیم کے افسران کے ساتھ بدھ کی صبح مغربی وہار میں تعمیر ہونے والی نئی اسکول کی عمارت کے تعمیراتی کام کا معائنہ کیا۔ یہ 4 منزلہ عالمی معیار کا اسکول ہے، جو کہ پچم وہار میں تقریباً تیار ہے، اس میں 129 کمرے ہیں۔ اسکول میں13 لیبز، 2 لائبریریاں، ایم پی ہال وغیرہ سے لیس ہیں۔ معائنہ کے دوران افسران نے وزیر تعلیم کو بتایا کہ اسکول کا تقریباً 90 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہوچکا ہے۔اس موقع پر وزیر تعلیم نے کہا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اسکول آف اسپیشلائزڈ ایکسی لینس کی اس نئی شاندار عمارت میں طلباء کو ایس ٹی ای ایم اور ہیومینیٹیز میں خصوصی تعلیم حاصل ہوگی جو کہ پچم وہار میں تعمیر کی جارہی ہے۔ اور اس کے ذریعے ہم امیر اور غریب ہر طبقے کے بچوں کے لیے عالمی معیار کی تعلیم کو یقینی بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس سمت میں عالمی معیار کی سہولیات سے آراستہ یہ اسکول علاقے میں معیاری تعلیم کا مرکز بنے گا اور تعلیمی لحاظ سے پرائیویٹ اسکولوں کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ تعلیم کے ذریعے ملک کو بدلنا وزیر اعلی اروند کیجریوال کا وژن ہے۔ یہ خواب اسی وقت پورا ہو گا جب ایک غریب گھرانے کے بچے کو وہ تمام سہولیات میسر ہوں گی جو ایک مالدار گھرانے کے بچوں کو ملتی ہیں۔ ہم نے دہلی کے سرکاری اسکولوں کو بہترین بنا کر اس کی شروعات کی ہے۔ ہماری حکومت نیدہلی کے والدین کو یقین دلایا گیا ہے کہ پیسے کی کمی ان کے بچوں کی معیاری تعلیم کی راہ میں کبھی نہیں آئے گی۔وزیر تعلیم نے پی ڈبلیو ڈی حکام کو ہدایت دی کہ وہ اسکول کے باقی کام کو جلد از جلد مکمل کریں اور اس کے لیے ایک چیک لسٹ تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمارت دسمبر تک تیار ہو جائے تاکہ اس سال ہی اسے دہلی کے بچوں کے لیے وقف کیا جا سکے۔ اور اب جب کہ تعمیراتی کام آخری مراحل میں ہے۔قابل ذکر ہے کہ پچم وہار میں مکمل ہونے والے اس 4 منزلہ اسکول کو تین بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس میں کل 129 کمرے شامل ہیں۔ اس میں شاندار کلاس رومز، 13 جدید ترین لیبز، 2 لائبریریاں، کمپیوٹر لیب، بچوں کے لیے لفٹ اور دیگر شاندار سہولیات تیار کی ہیں۔ نیز یہ حکومت اس اسکول کیمپس میںمستقبل میں کھیلوں کی سہولیات کی ترقی کے لیے بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔