تاثیر،۲۱ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
حیدرآباد:21؍اکٹوبر(راست) ایم اے نجیب صاحب سفیر برائے امن کے پریس میٹ پروگرام کے تحت اہم ترین اقدامات اٹھاءے ہیں وہ بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور فوری جنگ بندی جلد صورتحال پیس و امن قاءیم پر زور دیا جائے
ڈاکٹرمختاراحمدفردین صدراردوماس سوسائٹی فارپیس نے بھی کیا فلسطین شہداسے اظہاریگانیت
سفیربرائے امن ایم اے نجیب کی زیر صدارت سٹی کنونشن سینٹر‘نامپلی حیدرآباد میں منعقدہ پریس کانفرنس میں غزہ، اسرائیل جنگ میں اسرائیل کی طرف سے طاقت کے بے دریغ استعمال کے باعث معصوم شہریوں کے جانی نقصان پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے سفیربرائے امن نے باور کرایا کہ فلسطینی عوام کوہندوستانی اقوام کی مکمل حمائت حاصل ہے اور ہم مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل، ان کی سرزمین اور مسلمانوں کے مقدس مقامات پر غیر قانونی قبضے کے خاتمے کے لئے اپنے بھائیوں کے اصولی موقف کی حمائت جاری رکھیں گے۔انہو ں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے بات چیت اور مذاکرات کو آسان بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔فلسطین امت مسلمہ کا مقدس مقام ہے اس لیے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑے ہیں، فلسطین کے دیرینہ تنازعہ کے پرامن اور منصفانہ حل کی ضرورت ہے، ہمارے وزیراعظم نریندرمودی جی نے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہیں’ ڈاکٹرمختاراحمدفردین صدراردوماس سوسائٹی فارپیس نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ جلد بے گناہ فلسطینیوں کے خلاف مظالم بند کرانے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر فوری اقدامات کرے۔اسرائیلی جارحیت میں اب تک ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 3 ہزار سے زائد ہو چکی ہے جب کہ اسرائیل نے 17 اکتوبر کی شب غزہ کے ایک ہسپتال پر بھی بمباری کرکے 500 سے زائد شہریوں کو موت کی نیند سلایا تھااور اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ غزہ میں پانی بھی ختم ہوگيا ہے جس کی وجہ سے محصور فلسطینیوں کے پیاس سے مرنے کے خدشات بھی سر اٹھانے لگے ۔غزہ پٹی شمال اور مشرق میں اسرائیل اور جنوب میں مصر کے درمیان محصور ہے، اس لیے ان فلسطینیوں کے پاس غزہ پٹی سے باہر جانے کا کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔سفیر برائے امن ایم اے نجیب نے کہاکہ فلسطینی مسئلہ کے لیے ہندوستان کی حمایت کی جڑیں گہری ہیں، جس کا تعلق 1947 میں اقوام متحدہ کے قرارداد 181 کی حمایت سے ہے، جس میں فلسطین کو الگ الگ یہودی اور عرب ممالک میں تقسیم کرنے کی بات تھی۔ 1988 میں ہندوستان ایک ملک کے طور پر فلسطین کو قبولیت دینے والے پہلے ممالک میں سے ایک تھا، اور تب سے اس نے لگاتار اسرائیل کے ساتھ بات چیت میں ایک آزاد فلسطینی ملک کی وکالت کی ہے۔سفیر نے مودی حکومت کی پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ فلسطین مسئلہ کی قیمت پر اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کا مضبوط اتحاد نریندر مودی، بی جے پی اور آر ایس ایس کے مفادات کو پورا بے شک کر دے، لیکن یہ ہندوستان کے قومی مفاد میں نہیں ہے۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی بین الاقوامی قانون پر عمل اور غیر جانبداری پر زور دیتی ہے، جو تنازعات کی غیر جانبداری اور پرامن حل یقینی کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے اپنے اصولوں کو بنائے رکھنے پرامن حل کی وکالت کرنے اور خارجہ پالیسی میں استحکام بنائے رکھنے کے لیے غیر جانبداری انتہائی اہم ہے۔اس پریس کانفرنس میں ہندوستان کے دیگر ریاستوں سے سفیربرائے امن کے سفراموجودتھے ۔ جن میںمسٹرایم اے وسیم صاحب سفیر برائے امن‘ڈاکٹرایشوریہ لکشمی سفیر برائے امن‘ڈاکٹررابن ماتھیس سفیربرائے امن‘ڈاکٹرہرویندھرسنگھ کھولی سفیربرائے امن‘ڈاکٹرویدیاساگر سفیربرائے امن‘مسٹرمتین مجددی سفیربرائے امن‘مسٹرپربھات کمارشرما سفیربرائے امن اورمسٹراطہرتاناشاہ سفیربرائے امن موجودتھے۔ ایم اے نجیب سفیر برائے امن کے مطابق اس سلسلے میں ایک کمیٹی وفود تشکیل دے گی ہندوستان کے سفیربرائے امن کی دیگرممالک کے سفیروں سے ملاقات اور انہیں مسئلہ فلسطین کے حالیہ تناظر میں تمام صورتحال سے آگاہ کرے گی۔ اس موقع پر کثیرتعدادمیں صحافیوں کی تعدادموجودتھی ۔

