ورنہ رسوائیاں نسل در نسل ہمارا تعاقب کرتی رہیں گی

تاثیر،۲۲  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

اسلام میں جس طرح عبادات اور معاملات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔اسی طرح یہ حسنِ اخلاق ،تعمیرشخصیت اور کردار سازی کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔چنانچہ اسلام نام ہی حسن اخلاق کا ہے اور یہ سب سے افضل عمل ہے۔حسن اخلاق اور سخاوت سے ایمان پختہ ہوتا ہے۔ انسان اپنے تن کو ڈھانپ نے کے لئے لباس یعنی کپڑا استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح اندرونی لباس حسن اخلاق ہے۔ اخلاق سے ہی آدمی کی پہچان بنتی ہیں۔ قیامت کے روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب وہ شخص ہوگا جو خوش اخلاق ہوگا۔ اخلاق کے بغیر انسانی زندگی میں ہم آہنگی و ایک جہتی پیدا نہیں ہوسکتی۔اخلاق کے بغیر انسان، انسان نہیں بلکہ حیوان یا پھر شیطان کہلائے گا۔ زندگی کے کسی بھی شعبے کی ترقی کرنے کے لئے اخلاق کا ہی سب سے بڑا عمل دخل ہے۔ اخلاق و کردار کا انسانی زندگی کے ساتھ بڑا ہی گہرا تعلق ہے۔انسان کا جسم اخلاق کے بغیر بے جان ہے۔ ہزاورں ڈگریاں لے لی جائیں، اگر اس انسان میں یہ صفت نہیں ہے تو ڈگریاں کچھ نہیں۔
یہ بات بھی ذہن نشیں رہنی چاہئے کہ کسی فرد یا قوم کی تعمیر میں سب سے بڑا رول قوتِ ایمانی کا ہے۔ ایمان کا درجہ فرد یا قوم کی زندگی کے لیے روح کا ہے، یہ شخصیت کو زندگی اور زندگی کو توانائی بخشتا ہے، اس کے بغیر دنیا میں نہ کوئی پنپ سکتا ہے اور نہ ابھرسکتا ہے۔شخصیت بنتی ہے اسی بنیاد پر۔ اسے ہٹاکر کی جانے والی ہر کوشش فقط خسارے کا سودا ہے،جس کا نظارہ ہردور میں چشمِ فلک نے کیا ہے اور جس پر ماہ وسال کی گردشیں گواہ ہیں۔ قرآنِ کریم نے صدیوں کے اسی تجربے پر تصدیق کی مہر لگائی ہے۔(ترجمہ)’’ قسم ہے زمانے کی، بے شک، انسان گھاٹے میں ہے ،سوائے ایمان والوں کے جنہوں نے نیک اعمال کیے، ایک دوسرے کو حق کی اور صبر کی تلقین کی۔‘‘(سورۃ العصر) ۔یہ سورت حسن اخلاق اورشخصیت سازی کے مسئلے میں سب سے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔اس سورت کا موضوع ہی انسانیت کی تعمیر اور نفع ونقصان کے معیار کا تعین ہے۔ قرآن پورے یقین کے ساتھ ( قرآن کا ہر بیان یقینی ہوتا ہے)اور ہر قسم کے شک وشبہے کی نفی کرتے ہوئے کہتا ہے :’’ جو لوگ ایمان والے نہیں ہیں، وہ گھاٹے میں ہیں،اگرچہ وہ بظاہر نفع میں دکھائی دیں، اگر کوئی صاحبِ ایمان گھاٹے میں دکھائی دیتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسے اپنے ایمان پر محنت کرنی چاہیے۔‘‘
اسلام میں انسان کی روحانی تربیت اس کی تعلیمات کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اخلاق و کردار انسانی تربیت کا ایک ایسا حصہ ہے کہ جو انسان میں آپسی محبت وقربت پیدا کرتا ہے. ایک دوسرے کے قریب کرتا ہے۔ ایک دوسرے کے لئے ہمدردی کا جذبہ ایثار و قربانی پیدا کرتا ہے۔اخلاق وکردار کی تربیت ہر انسان کے لئے ضروری ہے کوئی بھی اخلاق و کردار کی تربیت کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتا اور جہاں اخلاق وکردار کی تربیت کو اہمیت نہیں دی جاتی ہے وہ دنیا میں ہمیشہ نا کام رہتا ہے۔
اخلاق و کردار کو پروان چڑھانےکا سب بہترین وقت بچپن ہوتا ہے، جب ایک بچہ بالکل نازک اور کورے کاغذ کی مانند ہوتا ہے۔ اس میں جو لکھنا چاہو لکھ سکتے ہو جیسے موڑنا چاہو موڑسکتے ہو۔ اسی عمر میں جسمانی نشونما کے ساتھ ساتھ انسانی کردار بھی تشکیل پاتا ہے۔ والدین پر یہ بڑی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بھلائی کی باتیں سکھائیں۔ اخلاق کی باتیں ان کے دل و دماغ میں بٹھائیں۔ بچپن ہی سے انہیں ایثار، ایمانداری اور سچائی، لوگوں کی مدد کرنا، پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا، بڑوں کی عزت واحترام کرنا اپنے سے چھوٹوں سے پیار کرنا اور مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا سکھائیں۔بچوں کو برے ماحول، بری صحبت، گالی گلوچ اور کسی کوبرا بھلا کہنے سے بھی روکیں۔ کیونکہ یہی باتیں اخلاق کو بنانے اور بگاڑنے کا سبب بنتی ہیں۔ اگر اس عمر میں بچے کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو یہ غلطی عمر بھر کے لئے اس بچے کو ایک ناکام شخصیت بنا دیتی ہے۔ کیونکہ اخلاق وکردار ہی انسان کا ایک انمول سرمایہ ہے، جس کے بغیر کوئی بھی انسان کامیابی نہیں پا سکتا۔ یقین جانیں، کبھی بھی قومیں تعداد کی بنیاد پر نہیں اخلاق و کردار اور قابلیت کی بنیاد پر سرفراز ہوتی ہیں۔ بچوں کی تربیت صحیح طرح سے کریں۔ ان کے کردار کو نکھارنے اور سنوارنے کی ذمہ داری سب سے پہلے والدین پر عائد ہوتی ہے اور اس کے بعد اساتذہ پر۔ اگرہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں سچی اور اچھی ہوں، دنیا اور آخرت میں سرخ رو ہوں تو ہمیں چاہئے کہ اپنی اولاد کو اخلاق و کردار کے اعتبار سے مضبوط اور صلاحیت کے اعتبار سے اقتضائے حالات کے عین مطابق بنانے کی کوشش کریں۔ یہ کام انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر کرنے کی ضرورت ہے۔بصورت دیگر ذلت و رسوائیاں نسل در نسل ہمارا تعاقب کرتی رہیں گی۔
***********