تاثیر،۲۶ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ، 26 اکتوبر: کانگریس کے ریاستی دفتر (صداقت آشرم) میں جمعرات کے روز ڈاکٹر شری کرشن سنگھ کے 136 ویں یوم پیدائش تقریب منائی گئی۔ اس تقریب میں ا?ر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ برسوں بعد یہ پہلا موقع تھا جب لالو یادو کانگریس کے دفتر پہنچے۔ انہوں نے شری بابو کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر لالو پرساد یادو نے کہا کہ ا?ج ملک بحران سے گزر رہا ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں ملک میں آنکھیں کھول کر کھڑی ہیں۔ وہ آئین پر بحران پیدا کر رہے ہیں۔ اس لیے ہم لوگ، مختلف پارٹیوں میں بٹے ہوئے، اکٹھے ہوئے اور انڈیا اتحاد بنایا۔ پٹنہ کے تاریخی مقام پر جلسے کے بعد کرناٹک سے ممبئی تک میٹنگ ہوئیں اور آج ملک کی 23 پارٹیاں تیاریاں کر رہی ہیں۔
لالو نے کہا کہ یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ لیڈر کون ہوگا؟ لیڈر کا انتخاب ہم لوگ آسانی سے کرلیں گے اور اس میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ ہم لوگ پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں ایک بہت بڑی ریلی کرنے جا رہے ہیں۔ بی جے پی ہٹاؤ، ملک بچاؤ۔ یہاں سے پورے ملک میں ہوا پھیلے گی اور نریندر مودی ، امت شاہ اور ا?ر ایس ایس کا سپڑا صاف ہوگا۔ کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ وہ جا رہے ہیں اس لیے وہ چھٹ پٹا رہے ہیں۔ چھاپہ مار ی کر تے ر ہتے ہیں ، مقدمہ۔ مقدمہ اور کوئی کام نہیں ہے۔ اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔
آر جے ڈی سپریمو نے کہا کہ جن ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، وہاں ہر جگہ سیسپڑا صاف ہو جائیگا۔ یہ لوگ کہیں نہیں ہیں۔ ملک سے غداری کر کے ا?ئے تھے۔ وہ جھوٹا پروپیگنڈہ لے کر آئے تھے کہ ملک کا پیسہ بیرون ملک جمع ہے۔ وہاں سے لائیں گے اور ہر ایک کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے دیں گے۔ سب کا کھاتہ کھل گیا۔ ہم بھی کھلوائے تھے۔ اب کہتے ہیں کہ وہاں اکاو?نٹ میں پیسے نہیں ہیں۔ اتنا بڑا دھوکہ ملک کے باشندوں کو دیا اس لئے دھول چٹا دینا ہے۔
لالو نے مزید کہا ، ” کوئی ہم سے کہہ رہا تھا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے بعد انہیں بہار میں پٹنہ لوک سبھا سیٹ کے علاوہ کوئی سیٹ نہیں مل رہی ہے۔ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا ہے کہ پورے ملک میں ہم ا?ئیں گے اور ذات پر مبنی گنتی کرائیں گے۔ ذات پر مبنی گنتی ضروری ہے۔
اس موقع پر کانگریس کے ریاستی صدر اکھلیش پرساد سنگھ کے علاوہ کانگریس کی اعلیٰ مرکزی قیادت میرا کمار ، پرمود تیواری ، طارق انور ، بہار کانگریس انچارج بھکت چرن داس ، اجے کپور ، پریم چند مشرا اور دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔

