تاثیر،۲۷ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی ،27اکتوبر: مرکزی حکومت اپنے منصوبوں اور اس کے فوائد کی جانکاری دینے کے لیے پورے ملک میں ’ترقی یافتہ بھارت سنکلپ یاترا‘ کی شروعات 15 نومبر سے کرنے والی ہے۔ لیکن اس یاترا کے شروع ہونے سے پہلے الیکشن کمیشن نے مرکز کو ایک مشورہ دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے مرکزی حکومت کو صلاح دی ہے کہ انتخابی ریاستوں میں یہ یاترا نہ نکالی جائے۔ کمیشن نے کہا کہ راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، تلنگانہ اور میزورم میں 5 دسمبر تک ’ترقی یافتہ بھارت سنکلپ یاترا‘ نہ نکالی جائے۔قابل ذکر ہے کہ جن پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں وہاں نتائج 3 دسمبر کو برا?مد ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی کمیشن نے 5 دسمبر تک مرکزی حکومت کو سنکلپ یاترا انتخابی ریاستوں میں نہ نکالنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس ’ترقی یافتہ بھارت سنکلپ یاترا‘ کے متعلق اطلاعات و نشریات کے سکریٹری اپورو چندر نے قبل میں بتایا تھا کہ مثالی ضابطہ اخلاق ہٹنے کے بعد انتخابی ریاستوں میں یہ یاترا شروع ہوگی۔ حالانکہ انتخابی کمیشن نے 5 دسمبر تک یاترا نہ نکالنے کی صلاح دی ہے۔بہرحال، پی ٹی ا?ئی کی ایک رپورٹ کے مطابق اپورو چندرا نے مرکزی حکومت کی ’ترقی یافتہ بھارت سنکلپ یاترا‘ کے بارے میں بتایا کہ ’’2.55 لاکھ گرام پنچایتوں اور شہری علاقوں میں تقریباً 18000 مقامات پر سرکاری منصوبوں کی تشہیر کرنے والی گاڑیوں سے ’رَتھ‘ لفظ ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔‘‘ چندرا نے کہا کہ ترقی یافتہ بھارت سنکلپ یاترا 15 نومبر کو برسا منڈا کے یومِ پیدائش پر شروع ہوگی جسے وزیر اعظم نریندر مودی ہری جھنڈی دکھائیں گے۔واضح رہے کہ یہ یاترا 25 جنوری 2024 کو یومِ جمہوریہ سے قبل کی شام ختم ہوگی۔ اس یاترا کے دوران ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ پی ایم مودی کے ساتھ سوال و جواب کا سیشن بھی رکھا جائے گا۔ اس مہم کا مقصد ان لوگوں تک رسائی حاصل کرنا ہے جو مختلف سرکاری منصوبوں کے تحت استفادہ کے لیے اہل ہیں، لیکن ابھی تک اس سے استفادہ حاصل نہیں کر سکے۔ اس یاترا کے دوران کسان کریڈٹ کارڈ، گرامین آواس یوجنا، اْجولا یوجنا، پی ایم سوندھی یوجنا جیسے مختلف سرکاری منسوبوں کی برانڈنگ کی جائے گی۔

