محتاط رہیں اور صحتمند رہیں

تاثیر،۲۷  اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

دارالحکومت دہلی کی ہوا کا معیار ایک بار پھر خراب ہو گیا ہے۔ ماحول میں آلودگی پھیل چکی ہے۔ کچھ دنوں بعد دیوالی ہے۔ ظاہر ہے ان دنوں میں آلودگی اور بھی بڑھ جائے گی۔دیوالی سے پہلے دہلی، نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا، فرید آباد، غازی آباد سمیت این سی آر کے مختلف علاقوں میں ہوا کا معیار یعنی ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی)  خراب زمرے میں درج کیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں جمعہ کو بھی دہلی کی ہوا خراب کیٹیگری میں ریکارڈ کی گئی۔ تاہم دہلی حکومت نے راجدھانی میں بڑھتی ہوئی آلودگی کے خطرے کے پیش نظر ریاست میں جی آر اے پی کے دوسرے مرحلے کو لاگو کیا ہے۔ دارالحکومت دہلی میں فضائی آلودگی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر یہ بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ ریاستی وزیر ماحولیات گوپال رائے کا کہنا ہے کہ جی آر اے پی کا دوسرا مرحلہ دہلی میں لاگو کیا گیا ہے۔ اس کو صحیح طریقے سے نافذ کرنے کے لیے متعلقہ محکمے کے افسران کی ایک میٹنگ دہلی سکریٹریٹ میں بلائی گئی ہے تاکہ ایکشن پلان بنایا جا سکے۔
  قابل ذکر ہے کہ دوسرے مرحلے کے تحت اٹھائے جانے والے اقدامات میں پارکنگ چارجز میں اضافہ اور سی این جی اور الیکٹرک بس اور میٹرو سروسز کو فروغ دینا شامل ہے، جس کا مقصد ذاتی گاڑیوں کے استعمال کو کم کرنا ہے۔واضح ہو کہ اس سے قبل سوموار کو بھی دہلی میں فضائی آلودگی انتہائی خراب زمرے میں پہنچ گئی تھی۔ دہلی میں ہوا کا مجموعی معیار یعنی 309 اے کیو آئی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ہوا کا یہ معیارانتہائی خراب زمرے میں آتا ہے۔
  اِدھر آلودگی کی وجہ سے لوگ بیمار ہونے لگے ہیں ۔ اسپتالوں میں پہنچنے والے مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ایسے میں تمام لوگوں کو اپنی اپنی صحت کے معاملے میں محتاط رہنا ضروری ہے۔ آلودگی کی وجہ سے لوگوں میں دیکھا جانے والا سب سے عام مسئلہ کھانسی اور نزلہ ہے۔ جن لوگوں کو دمہ یا سانس کی دیگر بیماریاں ہیں وہ نہ صرف اس سے متاثر ہو رہے ہیں بلکہ عام لوگوں کو بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ پھر جن لوگوں کو وائرل انفیکشن ہے، انہیں بھی طویل کھانسی ہو رہی ہے۔ اس لیے احتیاط ضروری ہے۔ آکاش ہیلتھ کیئر کے ڈپارٹمنٹ آف ریسپیریٹری اینڈ سلیپ میڈیسن کے سینئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر اکشے بدھی راجا کا کہنا ہے کہ چند دن پہلے تک جو کیسز سامنے آرہے تھے، وہ وائرل انفیکشن کی وجہ سے تھے، لیکن اب آلودگی کی وجہ سے بیمار ہونے والے مریض بھی آنے لگے ہیں۔بڑھتی آلودگی کا کچھ لوگوں پر حملہ بھی ہو رہا ہے۔ یعنی بغیر کسی پچھلی بیماری کے اچانک لوگ کھانسی، نزلہ اور دوسری بیماریوں کے شکار ہو رہے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے آخر کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تاکہ آلودگی کا لوگوں پر کم سے کم اثر پڑے؟  اس کے جواب میں ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے تو یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ آلودگی کے وقت خاص طور پر صبح سویرے اور شام کے وقت باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہئے۔ کیونکہ اس وقت زیادہ سے زیادہ آلودگی ہوتی ہے۔ 15 سے 17 سال کی عمر کے بچوں کو اسکول جانا ہے اور جن لوگوں کو دفتر جانا ہے انھیں ضرور ماسک پہن کر گھر سے نکلنا چاہئے۔ یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اس کے لیے کپڑا یا سرجیکل ماسک نہیں ہونا چاہئے، بلکہ آلودگی سے بچنے کے لیے این۔95  ماسک کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ماحولیاتی آلودگی کے درمیان اگر کوئی دمہ یا سانس کی کوئی دوسری بیماری میں مبتلا ہے تو اسے اپنے گھر میں ایئر پیوریفائر لگانا چاہئے۔ساتھ ہی ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے بعد ہی کوئی دوا لینی چاہئے۔ اپنی خوراک میں پروٹین  والی چیزیں شامل کر نی چاہئے۔اس میں کمرے کے درجۂ حرارت کا پانی پینا زیادہ فائدہ مند ہے۔ ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے بعد اپنی خوراک میں دالیں، دودھ، پنیر وغیرہ شامل کرنا بہتر ہوگا۔ اس کے علاوہ، فلو سے بچنے کے لیے ویکسینیشن کروانا سب سے اہم ہے۔
ان دنوں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ زیادہ تر مریض سوشل میڈیا کے ذریعے علاج کروانے کی کوشش کر کے اپنی صحت کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔ ماسک پہن کر بالکل ورزش نہ کریں۔ تیز چہل قدمی بھی نہ کریں۔ دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ ہے۔ بہت سے لوگ کھانسی اور زکام شروع ہوتے ہی اینٹی بائیوٹک اور بھاپ کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے ان کی صحت پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔ طبی مشورہ کے بغیر ایسا نہ کریں۔ آلودگی سے متاثرعلاقوں میں رہنے والے 18 سال تک کی عمر کے بچوں کو صبح یا شام نہیں کھیلنا چاہیے۔ اسکول جائیں تو ماسک پہن کر جائیں۔ کولڈ ڈرنکس اور آئس کریم جیسی چیزوں سے پرہیز کریں۔ موسم کے مطابق کپڑے پہنیں تاکہ جسم گرم رہے۔ گھر کے تمام باشعور افراد کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اپنے گھر کے لوگوں خاص طور پر بچوں، بوڑھوں اور مریضوں کا خیال رکھیں۔دھیان رہے ذرا سی بد احتیاطی بڑی مصیبت میں مبتلا کر سکتی ہے۔لہٰذا، محتاط رہیں اور صحتمند رہیں۔
****