تاثیر،۲۸ اکتوبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
کانکیر، 28 اکتوبر: ضلع کے بھانوپرتاپور میں ہفتہ کو انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے سابق قومی صدر راہل گاندھی نے چھتیس گڑھ کے طلبا کے لئے کے جی سے پی جی تک سرکاری اداروں میں مفت تعلیم کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا ہے کہ تندو پتہ کے کاشتکاروں کو سالانہ 4,000 روپے فی معیاری بورا ترغیبی رقم ملے گی اور چھوٹی جنگلاتی پیداوار کے لیے کم از کم امدادی قیمت سے 10 روپے زیادہ دینے کا اعلان کیا۔ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس حکومت نے تمام وعدے پورے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور بی جے پی اڈانی کی مدد کرتی ہے۔ مرکزی حکومت اڈانی کو سب کچھ دے رہی ہے۔ نریندر مودی ذات پات کی مردم شماری سے کیوں ڈرتے ہیں؟ مرکزی حکومت کو یو پی اے حکومت کے اعداد و شمار جاری کرنے چاہئیں۔
جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی بھوپیش نے کہا کہ بی جے پی حکومت مسلسل کسانوں کے خلاف کام کر رہی ہے۔ جب کانگریس نے کسانوں کے قرض معافی کا اعلان کیا تو بی جے پی کے ارکان کے پیٹ میں درد ہونے لگا۔ رمن حکومت نے انتخابات سے پہلے کافی راشن کارڈ بنائے لیکن انتخابات کے بعد ہزاروں راشن کارڈ منسوخ کردیئے ۔ رمن حکومت نے قبائلیوں سے ایک لاکھ ایکڑ زمین چھیننے کا کام کیا۔ رمن حکومت 15 سالوں میں پیسا قانون بھی نہیں بنا سکی۔ کانگریس کی حکومت بنتے ہی حلف اٹھانے کے دو گھنٹے کے اندر ہم نے 19 لاکھ کسانوں کے قرض معاف کر دیے اور 1700 قبائلی کسانوں کو زمین کے پٹے دیئے۔ تندوپتہ 4000 روپے فی معیاری بورا کے حساب سے خریدا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گنا اور ملیٹس کی قیمت چھتیس گڑھ میں ہے۔ انتخابات کے بعد بستر میں مکئی پروسیسنگ یونٹ شروع کی جائے گی۔

