تاثیر،۲ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ پچھلے کچھ مہینوں سےسرد مہری کا شکارہے۔ملک کی پانچ ریاستوں میں عنقریب ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ابھی اسے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی فرصت نہیں مل رہی ہے۔اتحاد سے وابستہ تقریباََ تمام سیاسی جماعتوں کی کانگریس کی اس عدم فرصتی پر نظر ہے، لیکن کانگریس کے سینئر لیڈروں پر غالباََ اس کا کوئی اثر نہیں ہے ۔ پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ’’انڈیا‘‘ کے اتحادیوں کے درمیان انتشار آمیز ماحول جگ ظاہر ہے۔
بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے کانگریس کی اس سرد مہری پر زبردست تنقید کی ہے۔نتیش کمار کا کہناہے کہ کانگریس لیڈر کافی مصروف ہیں۔ اتحاد کے سلسلے میں کوئی کام نہیں ہو رہا ہے اور نہ کوئی بات ہو رہی ہے۔ اب اتحاد کے حوالے سے کوئی بھی بات چیت انتخابات کے اختتام کے بعد ہی ہوگی۔ نتیش کمار نے خود کو ایک ایسا لیڈر بتایا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتے ہیں۔ نتیش کمار کل یعنی 2 نومبر کو پٹنہ میں سی پی آئی اور بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے منعقدہ ایک ریلی میں موجود تھے۔ لوگوں کے درمیان جب انھیں اپنی بات رکھنے کا موقع ملا تو وہ اپنے خاص انداز میں بولتے ہوئے کانگریس کو کٹگھرے میں کھڑا کر دیا۔نتیش کمار نے کہا کہ ابھی ان کی پوری توجہ صرف 5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات پر ہے۔ نتیش کمار کا یہ بیان کچھ حد تک سماجوادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادو کے بیان سے ملتا جلتا ہے۔جب بھی کوئی موقع ہوتا ہے تو اکھلیش یادو بھی یہی کہتے ہیں کہ ابھی تک اتحاد کے حوالے سے کچھ بھی واضح نہیں ہے۔ اکھلیش یادو نے ایم پی اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی جانب سے برتی گئی لا تعلقی کے بعد کہا تھا کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ یہ اتحاد ایم پی الیکشن کے لئے نہیں ہے تو وہ یہاں میٹنگ کے لئے نہیں آتے۔اکھلیش یادو کے بعد اب نتیش کمار نے بھی کچھ ایسا ہی کہا ہے۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ کانگریس کے رویہ پر تنقید کرتے ہوئے نتیش کمار نے اتحاد سے کنارہ کش ہونے کی بات بالکل نہیں کی ، ہاں ، اتنا ضرور کہا کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلنا چا ہتے ہیں۔ پھر سب کو متحد بھی کر نا چاہتے ہیں۔انھوں نے خود کو سوشلسٹ بتاتے ہوئے کہا کہ ان کا سی پی آئی سے پرانا رشتہ ہے۔ کمیونسٹ اور سوشلسٹ کو ایک ہوکر آگے بڑھنا ہے۔ اب ایک بار جب پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ختم ہو جائیں تو پھرسے اتحاد کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یہ بات سب کو معلوم ہے کہ نتیش کمار نے بی جے پی کے خلاف قومی سطح پر اتحاد بنانے میں سب سے بڑا کردار ادا کیا تھا، لیکن جیسے ہی موقع ملا، کانگریس نے انہیں سائڈ کردیا۔پھر ایسا لگنے لگا کہ اتحاد کی قیادت کانگریس ہی کر رہی ہے۔اس نے اتحاد کی پہل کرنے والے اور آخر آخر تک کوشش میں لگے رہنے والے نتیش کمار سے مشورہ کیے بغیر اتحاد کا نام ’’انڈیا‘‘رکھ دیا گیا۔ اس سے نتیش کمار کافی ناراض ہوئے تھے اور اتحاد کی طرف سے منعقد کی گئی پریس کانفرنس میں شرکت کیے بغیر واپس پٹنہ چلے گئے۔ اگرچہ انہوں نے ناراضگی کی باتوں سے انکار کیا تھا، لیکن اس کے بعد نتیش کمار کی خاموشی سے یہ ظاہر ہونے لگا تھا کہ اتحاد میں اب ان کی کوئی خاص دلچسپی نہیں رہ گئی ہے۔ اِدھر اکھلیش نے بھی یہ صاف صاف کہہ دیا ہے کہ ایم پی میں ان کے 40 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ابھی اتحاد کے سلسلے میں کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں ہے۔جب لوک سبھا انتخابات قریب آئیں گے تو پھر دیکھا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ نتیش کمار نے تمام پارٹیوں کو بی جے پی کے خلاف متحد کرنے کی پوری کوشش کی تھی۔ اس اتحاد کے اعلان سے پہلے ہی پٹنہ میں ان کی میزبانی میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی ایک میٹنگ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ممبئی اور پھر بنگلورو میں میٹنگ ہوئی۔ اسی میٹنگ کے دوران راہل گاندھی نے نتیش کمار کی رضامندی کے بغیر اتحاد کے نام کا اعلان کر دیا تھا، جس کے بعد اتحاد کی طرف سے مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔ اس بیان میں نتیش کمار کو درکنار کرنے کی ایک جھلک بھی دکھائی دی تھی، جب مشترکہ ایجنڈے میں، ذات پر مبنی سروے کرائے جانے کی تجویز کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔اس کے بعداب کانگریس رہنما راہل گاندھی ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کی بات اِدھر اُدھر کرتے پھر رہے ہیں۔انھوں نے تو اپنے انتخابی جلسوں میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر ان پارٹی اقتدار آئے گی تو پہلی کابینہ میٹنگ میں قومی سطح پر ذات کی بنیاد پر مردم شماری کرانے کا فیصلہ لیا جائے گا، لیکن یہی تجویز جب نتیش کمار نے اپوزیشن اتحاد کے ایجنڈے میں شامل کرنے کے لئے پیش کی تھی تو کسی نے اس پر توجہ نہیں دی تھی۔پھر دھیرے دھیرے حالات ایسے ہو گئے کہ اکھلیش یادو کھل کر اتحاد کے خلاف بیانات دینے لگے اور طویل خاموشی کے بعد اب نتیش کمار نے بھی دبی زبان میں اپنے دل کی بات کہہ دی ہے۔ ادھر اکھلیش یادو اور نتیش کمار دونوں نے اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ میں رہتے ہوئے مدھیہ پردیش میں بغیر کسی اصول کے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کر دئے ہیں۔ اکھلیش یادو کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتر پردیش میں لوک سبھا کی 80 میں سے 65 سیٹوں پر ان کی پارٹی اکیلے الیکشن لڑے گی۔ انھیں کسی پارٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی طرح پنجاب سے لے کر دہلی تک عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے درمیان جاری کشمکش سے پورا ملک واقف ہے۔ ممتا بنرجی مغربی بنگال میں بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ کام کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ لہذا، بہت کم ایسی جگہیں بچی ہیں، جہاں کانگریس کے منفی رویے کی وجہ سے اپوزیشن اتحاد میں انتشار کا ماحول نہیں ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ بی جے پی کو روکنے کے لیے قائم اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کیا کوئی کمال کر پائے گا ؟
*******************

