خود فریبی کی کیفیت سے دوچار ہے کانگریس

تاثیر،۴  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

لوک سبھا انتخابات تک اپوزیشن اتحاد کا کیا حشر ہونے والا ہے، یہ کسی کو بھی پتہ نہیں ہے، لیکن پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات سے پہلےجو رجحانات نظر آرہے ہیں ، وہ ناگفتہ بہہ حالات کی جانب اشارہ ضرور کر رہے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ اتحاد میں شامل کئی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف امیدوار کھڑے کر کے ’’اتحاد‘‘ کے اصول کو لگاتار انگوٹھا دکھا رہی ہیں۔ سماج وادی پارٹی، عام آدمی پارٹی اور جے ڈی یو نے مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کے خلاف اپنے امیدوار تو کھڑے کئے ہی تھے، اب سی پی ایم نے بھی تلنگانہ میں اپنے امیدوار کھڑے کرکے رہی سہی کمی پوری کر دی ہے۔ سب کا ایک ہی الزام ہے کہ کانگریس انہیں اہمیت نہیں دے رہی ہے۔
یہ پورے ملک کو معلوم ہے کہ اپوزیشن اتحاد ’’ انڈیا‘‘ کے قیام تک بہار کے سی ایم نتیش کمار نے نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ پٹنہ میں ہی اپوزیشن پارٹیوں کی پہلی میٹنگ ہوئی تھی ، جس میں میں یہ طے پایاتھا کہ تمام پارٹیاں مل کر بی جے پی کا مقابلہ کریں گی، لیکن چار ماہ میں ہی صورتحال بالکل بدل گئی ہے ۔ لگ ہی نہیں رہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان کبھی کوئی عہد و پیمان بھی ہوا تھا۔نومبر ماہ میںپانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے قبل ہی اپوزیشن اتحاد ’’ انڈیا‘‘ کا شیرازہ بکھر جائے گا، یہ خود اپوزیشن لیڈروں کو ہی نہیں معلوم تھا۔آج کی حقیقت یہ ہے کہ جے ڈی یو نے مدھیہ پردیش میں پانچ امیدوار کھڑے کیے ہیں جبکہ عام آدمی پارٹی نے بھی اپنے 70 امیدواروں کے نام کا اعلان کیا ہے۔ چھتیس گڑھ میں عام آدمی پارٹی ے تمام سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس نے صرف 57 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ تلنگانہ میں عام آدمی پارٹی نے تمام 119 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ان سبھی پارٹیو ں کے بعد اب سی پی ایم بھی کانگریس پر عدم تعاون کا الزام لگاتے ہوئے اپنے 17 امیدواروں کو لیکر تلنگانہ کے چناوی میدان میں کود گئی ہے۔یعنی مدھیہ پردیش میں کانگریس، اے اے پی، جے ڈی یو اور ایس پی نے الگ الگ امیدوار کھڑے کیے ہیں اب تلنگانہ میں اپوزیشن اتحاد بھی الگ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ کانگریس اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن اتحاد میں شامل پارٹیوں کے ساتھ معاندانہ رویہ اختیار کی ہوئی ہے۔ اپوزیشن اتحاد کے معمار نتیش کمار نے تو اب کانگریس کے بارے میں یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ اسے اپوزیشن اتحاد کی نہیں بلکہ اپنی فکر زیادہ ہے۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی شروع سے ہی کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے خلاف رہی ہیں۔ کانگریس کو سبق سکھانے کے لیے انھوں نے الگ ہو کر اپنی پارٹی ٹی ایم سی بنائی اور بائیں بازو کی جماعتوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے انھوں نے بنگال میں اپنی پارٹی کی جڑیں مضبوط کیں۔ انھیں بائیں بازو کی جماعتوں اور کانگریس دونوں سے الرجی ہے۔ممتا بنرجی نے صرف بہار کے سی ایم نتیش کمار کی وجہ سے اپوزیشن اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہی ہے کہ بنگال میں ان کا طرز عمل ابھی تک اتحاد کے معیار پر پورا نہیں اتر سکا ہے۔
بنگال میں پارٹی بنیادوں پر ہونے والے پنچایتی انتخابات میں بائیں بازو کی جماعتوں اور کانگریس کے ساتھ ٹی ایم سی کی دشمنی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اگر اپوزیشن اتحاد ریاستوں کو چھوڑ کر صرف مرکز میں اقتدار کے لیے کام کرے گا تو کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کو ممتا سے کسی قسم کی بہتری کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ یہاں تک کہ اگر ممتا فراخدلی کا مظاہرہ کریں تو وہ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کو صرف پانچ سات سیٹوں پر متحد کرنے کی کوشش کریں گی۔ ظاہر ہے یہ ان کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔
دوسری جانب اِدھر ایسا لگتا ہے کہ کانگریس اسمبلی انتخابات میں کسی سے مفاہمت کرنے کے موڈ میں نہیں ہے، اگر نتیش کمار، اروند کیجریوال، اکھلیش یادو یا بائیں بازو کی پارٹیوں کے لیڈروں نے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے خلاف امیدوار کھڑے کیے ہیں تو ان کے پاس اس کا جواز یہ ہے کہ کانگریس نے ہی انھیں ایسا کرنے کے لئے مجبور کیا ہے۔ کانگریس اس پر کوئی ردعمل نہیں دے رہی ہے۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات جیتنے کے بعد وہ اپنے آپ میں ہی مگن ہے۔ کانگریس کو پانچ اسمبلی انتخابات میں بھی کرناٹک جیسے کرشمے کی امید ہے۔ اب تک کے اوپینین پول بھی کانگریس کے حق میں ہی رہے ہیں۔اس کے لیڈروں کو اس بات کا گمان تھا کہ حاشئے پر کھڑی کانگریس نے جب سے کرناٹک کو جیتا ہے تب سے تمام اپوزیشن پارٹیاں جھک مار کر اس کے ساتھ رہیں گی۔ مگر وہ یہ بھول گئی کہ کس طرح اپوزیشن اتحاد کی بنیاد رکھی گئی اور کانگریس کو ناپسند کرنے والے اروند کیجریوال اور ممتا بنرجی جیسے لیڈر کس طرح اس کی ماتحتی کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ کانگریس پر خود فریبی کی کیفیت اس قدر طاری ہے کہ وہ اب تک یہ نہیں سمجھ پائی ہےاگر کانگریس سبھی اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر پانچ ریاستوں کے انتخابات میں پہلے اپنی زمین مضبوط کر لیتی تو اس کے لیے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ قدرے آسان ہو جاتا۔
**************