جلسہ مذاکرہ علمیہ اختتام پذیر

تاثیر،۷  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

مولانا  اصغر علی امام مہدی سلفی، مولانا احمد ولی فیصل رحمانی، ایم پی ڈاکٹر فیاض احمد اور وزیر للت کمار یادو کی بھی شرکت کی، فارغین کے سروں پر باندھی گئی دستار
دربھنگہ(فضا امام) 6 نومبر:- شمالی بہار کی عظیم دینی درس گاہ  دار العلوم احمدیہ سلفیہ کے زیر اہتمام منعقد دو  روزہ جلسہ مذاکرہ علمیہ گزشتہ شب اختتام پذیر ہوگیا۔ دو روزہ جلسہ میں  فارغین طلبہ کے سروں  پر دستار بھی باندھی گئی۔ اختتامی اجلاس میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی اور  امارت شرعیہ کے امیر مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے بھی شرکت کی اور مسلمانوں کی تعلیم کی شرح بڑھانے کے لیے تعلیم میں امتیاز پیدا کرنے کا مشور دیا۔ مذکورہ پروگرام کی صدارت دار العلوم کے صدر حافظ محمد یوسف نے کی اور نظامت مولانا توصیف احمد مدنی نے کی۔ اس موقع پر دار العلوم کی جانب سے چھ شخصیات کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ بھی دئیے گئے جن میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، مولانا احمد ولی فیصل رحمانی، پروفیسر انیس صدری،  دار العلوم صدر حافظ محمد یوسف، دکتور عبد اللہ مشتاق پروفیسر حائل یونیورسٹی اور احتشام الحق کے نام شامل ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبد اللہ مشتاق، مولانا خورشید عالم مدنی،مولانا ذکی احمد مدنی، مولانا ہارون سنابلی، مولانا ابو ہریرہ مدنی، مولانا سرفراز فیضی اور مولانا محمد علی سلفی وغیرہ  نے  بھی خطاب کیا جبکہ پرنسپل مولانا اشرف علی سلفی نے ۱۶ نکا پر مبنی قرار پاس کرکے لوگوں کو دین پر قائم کرنے، فرائض و واجبات کی ادائیگی کرنے، بچوں کو اعلی تعلیم دلانے ، دینی خطوط پر بچوں اور بچیوں کی تربیت کرنے کے ساتھ اسرائیل کی  کاررائیوں کی مذمت کرتے ہوئے فلسطین کے ساتھ  یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس سے قبل دار العلوم کے انجمن النادی الاصلاح کا  ثقافتی پروگرام منعقد ہوا جس میں بچوں کی تقاریر، ترانہ ، مکالمہ کے ساتھ کنونشن کا بھی انعقاد کیا گیا۔ مذکورہ نشست میں راجیہ سبھا رکن ڈاکٹر فیاض احمد اور وزیر للت کمار یادو نے بھی شرکت کی۔ مذکورہ لیڈروں نے بچوں کے پروگرام اور دار العلوم کے حسن انتظام کی ستائش کی۔ پروگرام کی صدارت دار العلوم کے سکریٹری انجینئر اسمعیل خرم اور نظامت شکیل احمد سلفی نے کی۔ پرنسپل اشرف علی سلفی اور ڈاکٹر یوسف فیصل نے مہمانوں کی خدمت میں سپاس نامہ پیش کیا ۔ ساتھ ہی مہمانوں کے ہاتھوں بچوں میں انعامات کی تقسیم بھی عمل میں آئی۔اس موقع پر طلبہ کی میگزین النادی کا اجرا بھی عمل میں آیا۔  اس سے قبل کی نشست میں مولانا نور الاسلام مدنی نے خطاب کیا۔ پروگرام کی صدارت پروفیسر انیس صدری اور نظامت مولانا عبد القدیر ندوی نے کی۔ دن کے اجلاس میں دار العلوم سے عالمیت اور حفظ کی تکمیل کرنے والے ایک سو سے زائد طلبہ کے سروں پر صدر اجلاس مولانا عبد الرحمن لیثی  اور دیگر مہمانوں کے ہاتھوں دستار بندی عمل میں آئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا عبد الحسیب مدنی نے فارغین کی ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا اور خود کو علم و بصیرت سے آراستہ کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا دین علم نقل کا نام ہے۔ اگر فارغین کے پاس شرعی علوم میں گہرائی نہیں ہوگی تو وہ لوگوں کو کیا دیں گے۔ انہوں نے فارغین کو  معلومات اور مستند معلومات سے اوپر اٹھ کر بصیرت  پید اکرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرہ فارغین کی طرف امید کی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ ان کی اصلاح کرنا اور قیادت کا فریضہ انجام دینا فارغین کی بڑی ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر مولانا خورشید احمد سلفی (جھنڈا نگر) نے بھی خطاب کیا۔ نظامت مولانا محمد علی مدنی نے کی۔ مولانا عبد الرحمن لیثی نے صدارت کرتے ہوئے فارغین کو دعائیں دیں۔ اس سے قبل کی شب میں منعقد نشست میں مولانا ابوہریرہ مدنی، مولانا عبد الحسیب مدنی، مولانا ابو زید ضمیر، مولانا انصار زبیر محمدی، مولانا ظفر الحسن مدنی وغیرہ نے خطاب کیا۔ پروگرام کی صدارت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اور نظامت مولانا خورشید عالم سلفی نے کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر سید عبد العزیز سلفی کی تصنیف کردہ کتاب : ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی – حیات و خدمات کا اجرا بھی مہمانوں کے ہاتھوں عمل میں آیا۔جلسے کی تقریبا تمام نشستوں میں طلبہ نے بھی تقریر، حمد، نعت، نظم وغیرہ پیش کی۔ طلبہ مدارس کی جانب سے تعلیمی نمائش اور سائنس اور اسلام پر  مبنی نمائش کا  بھی انعقاد کیا گیا۔پروگرام کو کامیاب بنانے میں مدرسہ کے اساتذہ ، طلبہ اور کارکنان کے علاوہ فارغین سلفیہ، ارشد فرید، شیراز امام ، شاہد حسنین، شارق حسین بھی سرگرم تھے۔ پروگرام میں دربھنگہ ضلع کے علاوہ بہار کے تقریبا تمام اضلاع  سے ہزاروں کی تعداد  میں لوگوں نے بطور سامعین شرکت کی۔ مدرسہ کے سکریٹری انجینئر اسماعیل خرم نے اجلاس میں شریک علما اور دانشوروں کے ساتھ سامعین اور مدرسہ کے اساتذہ، طلبہ اور کارکنان  کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ دنیا بھر سے ۲۷  سے زائد لوگوں نے پروگرام کو لائیو بھی دیکھا۔