سبز پٹاخوں کی فروخت کا حکم دہلی-این سی آر کو چھوڑ کر پورے ملک میں لاگو ہوگا:سپریم کورٹ

تاثیر،۷  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی،7؍نومبر: ملک بھر میں پٹاخوں پر پابندی لگانے کی عرضی پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس دوران سپریم کورٹ نے آلودگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ آج کل بچے نہیں بلکہ بڑے لوگ پٹاخے جلاتے ہیں۔ ایک غلط فہمی ہے کہ جب ماحولیاتی معاملات کی بات آتی ہے تو یہ صرف عدالت کی ذمہ داری ہے، لوگوں کو حساس ہونے کی ضرورت ہے۔ تہوار کے موسم میں آلودگی پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ نے راجستھان حکومت کو ہدایت دی کہ وہ بڑھتی ہوئی آلودگی کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ سبز پٹاخوں کی فروخت پر اس کا حکم پورے ملک میں لاگو رہے گا۔آپ کو بتاتے چلیں کہ سپریم کورٹ بھارت میں پٹاخوں کی فروخت، خرید اور استعمال پر پابندی کا مطالبہ کرنے والی درخواستوں میں سے راجستھان کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ اس پر درخواست گزار نے کہا کہ یہ درخواست ریاست راجستھان سے متعلق ہے۔ یہ خیال ہے کہ عدالتی حکم صرف دہلی-این سی آر پر لاگو ہوتا ہے، حالانکہ یہ پورے ملک پر لاگو ہوتا ہے۔راجستھان پی سی بی کے وکیل نے کہا کہ آلودگی میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ہر شخص کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ وہ دیوالی پر کم پٹاخے جلائے۔جسٹس اے ایس بوپنا نے کہا کہ ہم کہیں گے کہ ریاست راجستھان کو ہمارے پہلے حکم پر توجہ دینی چاہیے۔ فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں، خاص طور پر تہواروں کے موسم میں کسی اضافی حکم کی ضرورت نہیں ہے۔جسٹس ایم ایم سندریش نے کہا کہ اصل چیز لوگوں کو حساس بنانا ہے۔اس سے قبل ستمبر میں ملک بھر میں پٹاخوں پر پابندی کے معاملے میں سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ آیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کا 2018 کا فیصلہ برقرار رہے گا۔ اس کے تحت پٹاخوں پر پابندی برقرار رہے گی۔ دہلی/این سی آر کے علاوہ ملک میں سبز پٹاخوں کی اجازت ہوگی۔ پٹاخوں میں بیریم کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ پٹاخوں جیسے لاٹھی، راکٹ وغیرہ پر پابندی برقرار رہے گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ملک بھر کی ایجنسیاں سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کریں۔